جموں و کشمیر گورنر راج کی دہلیز پر

Omar-Abdullahجموں و کشمیر میں حکومت سازی پہ جاری تعطل کے بیچ نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے ریاست کے نگران وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے تازہ ٹویٹ میں کہا ہے ’’میرا ماننا ہے کہ جزوقتی نہیں بلکہ کل وقتی وزیراعلیٰ ہی ریاست کے مفادات کی آبیاری کرسکتا ہے‘‘۔ لندن میں اپنے والدین کی مزاج پرسی کے بعد واپسی پر عمر عبداللہ نے دلی میں ریاست کے گورنر این این ووہرا سے ملاقات کی۔انہوں نے اس کی تصدیق ایک ٹویٹ میں کی ہے’’میں یہ تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے گورنر ووہرا صاحب سے ملاقات کی اور اْن سے گذارش کی کہ مجھے نگران وزیراعلیٰ کے عہدے سے فارغ کیا جائے۔میں نے عارضی طور پر قیام کرنے پر اتفاق کرلیا تھا‘‘۔

انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے ’’مجھے لگا تھا کہ حکومت کی تشکیل کا معاملہ ہفتہ یا دس دن کے اندر حل ہوجائے گا لیکن ہم ابھی بھی اس سے کافی دور ہیں‘‘۔ عمر عبداللہ کے مطابق وہ نگران وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے سرحدی گولی باری اور گزشتہ برس کے سیلاب سے متاثرہ افراد کو امداد فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا ہے ’’ سرحدی علاقوں سے ہزاروں افراد نقل مکانی کرچکے ہیں اورموسم سرما نے بھی شدت اختیار کرلی ہے جس کیلئے فوری امداد کی ضرورت ہے لیکن حکومت سازی میں تاخیر کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوپارہا ہے‘‘۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر ریاست میں سیاسی بحران کی صورتحال پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاہے کہ جب ایک نہیں 2سیاسی جماعتیں پی ڈی پی کوحمایت دینے کیلئے تیار ہیں تو یہ جماعت 28 ممبران اسمبلی ہونے کے باوجود سرکار بنانے میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہی ہے۔عمر کے مطابق پی ڈی پی کو عوام کے سامنے اس بات کا جواب دینا پڑے گا کہ دوجماعتوں کی حمایت دستیاب ہونے کے باوجودانہوں نے سرکار تشکیل کیوں نہیں دی اور ریاست میں مرکزی یا صدر راج نافذ ہونے کی صورتحال کیوں پیدا ہوئی؟یاد رہے کہ عمر عبداللہ اسمبلی انتخابات2014کے نتائج منظر عام پر آنے کے بعد مستعفی ہوگئے تھے اور اْنہیں ریاستی گورنرنے نئی حکومت معرض وجود میں آنے تک نگران وزیراعلیٰ رہنے کیلئے کہا تھا۔ ذرائع کے مطابق این این ووہرا فی الوقت نجے دورے پردلی میں قیام پذیر ہیں ،جہاں انہوں نے مرکزی داخلہ سیکریٹری انیل گوسوامی سے ایک میٹنگ میں ریاست کے سیاسی تعطل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کے مطابق این این ووہرا نے داخلہ سیکریٹری کو نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں بی جے پی اور پی ڈی پی کے موقف سے آگاہ کیا جن کے لیڈران نے حال ہی میں گورنر کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں۔واضح رہے کہ19جنوری تک نئی حکومت کا قیام عمل میں نہ لائے جانے کی صورت میں ریاست میں گورنر راج نافذ کیا جاسکتا ہے اور انیل گوسوامی کے ساتھ گورنر کی ملاقات میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ گیارہویں اسمبلی کی مدت کار20جنوری 2015 کو اختتام پذیر ہوگی اور 19جنوری تک نئی سرکار کا قیام ناگزیر ہے، بصورت دیگر ریاست کو آئینی بحران سے بچانے کیلئے گورنر راج نافذ کیا جاسکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست کو ممکنہ آئینی بحران سے بچانے کیلئے این این ووہرا نے صدر ہند سے تحریری طور پر صورتحال سے آگاہ کردیاہے۔۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ عمر عبداللہ گورنر کے ساتھ ملاقات کے بعدبدھ کی شام ہی دلی سے سرینگر لوٹ آئے۔

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: