جموں و کشمیر میں گورنر راج نافذ

Vohraریاست جموں وکشمیر میں حکومت سازی کا معاملہ17روز تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد جمعہ کو ریاست میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ صدر ہند پرنب مکھرجی سے منظوری ملنے کے بعد ریاستی گورنرنریندر ناتھ ووہرا نے جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ92(5) کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ریاستی آئین کی دفعہ92(1)  کے تحت ریاست میں گورنر راج کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نومبر دسمبر2014میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے بعد 23دسمبر کو نتائج کا اعلان کیا گیا جس کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے24دسمبر کو اپنا استعفیٰ  پیش کیا جسے گورنر نے منظور کرتے ہوئے نئی حکومت بننے تک اُنہیں اپنے عہدے پر برقراررہنے کی تلقین کی۔گذشتہ دو ہفتوں کے دوران گورنر نے پی ڈی پی اور بی جے پی، جو انتخابات میں دو سب سے بڑی پارٹیاں اُبھرکر سامنے آئی ہیں ، سے حکومت سازی کے معاملے پر بات چیت کی لیکن کسی بھی پارٹی نے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش نہیں کیا۔سات جنوری کی شام عمر عبداللہ نے گورنر کو مطلع کیا کہ اُنہوں نے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے ،چونکہ کسی بھی پارٹی نے تب تک حکومت سازی کا دعویٰ پیش نہیں کیا تھا ،لہذا آئین کے دفعات کے مطابق ریاستی سرکار کو آگے نہیں چلایا جاسکتا تھا ۔چنانچہ آئینی تقاضوں کے پیش نظر صدر ہند سے ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری حاصل کی گئی جو 8جنوری 2015 سے نافذ العمل ہوا۔یاد رہے کہ اسمبلی انتخابات2014 میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سب سے بڑی جماعت اُبھر کر آئی ،جس نے 28 نشستوں پرجیت درج کرلی جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جموں میں واضح اکثریت حاصل کرکے 25 نشستوں پر قبضہ کرلیا۔ کانگریس نے 15 اور نیشنل کانفرنس نے 12 نشستوں پر جیت درج کرلی۔نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو حمایت دینے کا اعلان بھی کرلیا تھاتاہم پی ڈی پی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد سے ہی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کیلئے کوشاں رہی تاہم دونوں جماعتوں میں بعض پیچیدہ معاملات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی اور اس طرح مخلوط سرکار بنانے کے امکانات معدوم ہوگئے۔جس کے پیش نظر ریاست میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔واضح رہے کہ پچھلے38 سالہ عرصہ میں چھٹی مرتبہ گورنر راج نافذ کیا گیا ہے اورگورنرنے اقتدار کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لئے ہیں۔یہ  پیش رفت اس وقت ہوئی جب لندن سے واپسی پر عمر عبداللہ نے دلی میں این این ووہرا سے ملاقات کی اور نگراں وزیر اعلیٰ کے عہدے پر براجمان رہنے سے انکار کیا۔اسکے بعدگورنر این این ووہرا نے گذشتہ رات صدر ہندکو ایک رپورٹ پیش کیا کہ عمر عبداللہ نے گذارش کی ہے کہ اُسے نگران وزیراعلیٰ کی ذمہ داریوں سے فارغ کیا جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ صدر ہند دفتر سے مذکورہ رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے اسے مرکزی وزارت داخلہ بھیجا گیا اورمرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے یہ رپورٹ وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر روانہ کر دی ،جہاں اِسے زیر غور لایا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم دفترنے یہ فیصلہ لے لیا کہ فی الوقت جموں و کشمیر میں حکومت بننے کے آثار نظر نہیں آتے اورتمام محرکات کو ملحوظ نظر رکھنے کے بعد رپورٹ کو سفارشات کے ساتھ صدرہند کو بھیج دیا گیا جس کے بعدصدر ہند نے جموں و کشمیر میں گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے پر اپنی مہر ثبت کر دی ۔ آئینی ماہرین کے خیال میں ہندوستان میں جموں کشمیر واحد علاقہ ہے جس کا علاحدہ آئینی نظام ہے، جس کے تحت اگر کوئی جماعت حکومت بنانے کیلئے واضح اکثریت پیش نہ کرسکے تو دفعہ92 کے تحت ریاست میں گورنر راج نافذ ہوجاتا ہے۔آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج ریاستی آئین کی دفعہ 92کے تحت صرف 6 ماہ کیلئے ہوتا ہے اور اگر تب تک کوئی جمہوری حل دستیاب نہ ہو تو صدر راج کیلئے میدان ہموار ہوجاتا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ گیارہویں اسمبلی کی مدت کار20جنوری 2015 کو اختتام پذیر ہوگی ۔

Advertisements

2 Responses to جموں و کشمیر میں گورنر راج نافذ

  1. Bridget نے کہا:

    Pretty! This has been an incredibly wonderful article.
    Thank you for supplying this info.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: