پارلیمانی سفارشات مسلم اکثریتی کردار کیلئے خطرہ:ماہرین

مغربی پاکستانی کے رفیوجیوں کو اسٹیٹ سبجیکٹ فراہم کرانے اور اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق فراہم کرانے کی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کے حساس معاملے پرجہاں وادی کی تقریباً سبھی مین اسٹریم اور علیحدگی پسند سیاسی جماعتوں نے یک زبان ہوکرمرکزی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کو جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن پر حملہ قرار دے دیا،وہیں قانونی ماہرین کے مطابق ان سفارشات کے پس پردہ صرف ریاست میں مسلم اکثریتی کردار ختم کرنا ہے۔وادی کے معروف ماہر قانون اور کالم نویس ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کو عملانے کیلئے ریاست کی قانون ساز اسمبلی کی منظوری انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی کیلئے بھی یہ فیصلہ اِتنا آسان نہیں ہے کیونکہ ان سفارشات کو منظور کرنے سے پہلے قانون بدلنا ہوگا۔ڈاکٹر شوکت کے مطابق پارلیمانی کمیٹی اگر گورنر راج کا فائدہ حاصل کرکے ان سفارشات کو منظور کرانے میں کامیاب بھی ہوتی ہے تاہم قانون ساز اسمبلی میں پھر بھی اس کی توثیق لازمی ہے۔اُن کا کہنا تھا ’’ممکن ہے کہ حکومت سازی کا عمل جان بوجھ کر تعطل کا شکار بنایا گیا ہو تاکہ گورنر راج کے دوران پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کسی پریشانی کے بغیر منظور کی جائیں اور معاملہ اسمبلی کیلئے آسان بنایا جائے‘‘۔ سینئر قانون دان ایڈوکیٹ ریاض خاورکا کہنا ہے ’’یہ نہ صرف مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کی سازش ہوسکتی ہے بلکہ اگر رفیوجیوں کو ووٹ دینے کا حق دے دیا گیا اور8اسمبلی نشستیں قائم کی گئیں تومسلم اکثریتی کردار ختم ہونے کا اندیشہ ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’اِن سفارشات کو عملانے سے نہ صرف ریاست کی ڈیموگرافی تبدیل ہوگی بلکہ ریاست کا اسٹیٹ سبجیکٹ قانون بھی بہت زیادہ متاثر ہوگا جو انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا‘‘ ۔ایڈوکیٹ خاور کے مطابق اِن سفارشات کو عملانے کیلئے قانون ہی بدلنے ہونگے اور دفعہ 370جیسے قانون کسی اہمیت کا حامل نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا ’’رفیوجیوں کو مستقل باشندگی کی سند اجراء کرنا اور ووٹ کا حق ملنے سے رائے دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوگا ‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ کشمیر میں فی الوقت 46،جموں میں 37اور لداخ میں چار سیٹیں ہیں ۔ اس صورتحال میں جموں والے مطالبہ کریں گے کہ یہ تعداد 37سے46کیا جائے اور نتیجتاً سیاسی طاقت کشمیر سے جموں منتقل ہوگی ‘‘۔ ایڈوکیٹ ریاض کا کہنا تھاکہ یہ صورتحال سماجی ہم آہنگی کیلئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ آپ کو اقلیتی طبقے کیلئے ایک اکثریتی طبقے کے ارمانوں کا خون کرنا ہے۔کشمیر یونیورسٹی کے ایک طالب علم اعجاز احمد نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات ہی نہیں بلکہ اس کمیٹی کا قیام ہی منصوبہ بند نظر آتا ہے۔اُنہوں نے کہا ’’اگر ان لوگوں کو رفیوجیوں کی اتنی ہی فکر ہے تو پنجاب میں بھی انہیں بسایا جاسکتا ہے ،جہاں 1947میں آبادی کا ایک بہت بڑے حصے کا تبادلہ ہوگیا‘‘۔واضح رہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے جموں کشمیر میں مقیم مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کے حق میں متعدد مراعات کو منظوری دی جن میں رفیوجیوں کو ریاست کا مستقل باشندہ ہونے کی سند اور اسمبلی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا حق فراہم کرنا، پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں میں ان کی خصوصی بھرتی ،ہر کنبے کو30لاکھ روپے کی نقد امداد اور کشمیری مائیگرنٹوں کی طرز پرتعلیمی اور تربیتی اداروں میں ان کے بچوں کو داخلہ دینا قابل ذکر ہے۔

Advertisements

2 Responses to پارلیمانی سفارشات مسلم اکثریتی کردار کیلئے خطرہ:ماہرین

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    میں آپ کی تمام تحاریر پڑھتا رہتا ہوں ۔ دعا ہی کر سکتا ہوں کیونکہ آج کے حغکمران تو انتہائی خود غرض ہو چکے ہیں
    پارلیمانی کمیٹی کی مندرجہ بالا سفارشات اقوامِ متحدہ کی قرادادوں کی بھی خلاف ورزی ہے

    http://www.theajmals.com

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: