پی ڈی پی کے نخرے برقرار،این سی کی حمایت لینے سے انکار

جموں و کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے حمایت لینے کے سلسلے میں عدم دلچسپی کے بعد نیشنل کانفرنس نے کہا کہ حکومت سازی کیلئے مذکورہ پیشکش بیرونی حمایت تک محدود تھی۔نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی پر الزام لگایا کہ یہ پارٹی اقتدارمیں آنے کیلئے سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار تھی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی کو حمایت دینے کی پیشکش کو رسمی شکل دیتے ہوئے اس ضمن میں گورنر این این ووہرا کو ایک مکتوب روانہ کیا۔پارٹی کے صوبائی صدر جموں دویندر سنگھ رانانے یہ خط گورنر موصوف تک پہنچایا جس میں حکومت سازی کیلئے پی ڈی پی کو غیر مشروط حمایت دینے کا اعادہ کرتے ہوئے گورنر پر زور دیا گیا کہ وہ حکومت سازی اور قانون ساز اسمبلی کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل نیشنل کانفرنس کے ساتھ مشاورت کریں۔اس دوران پی ڈی پی نے حکومت سازی کیلئے نیشنل کانفرنس کی غیر مشروط پیشکش اعلاناً ٹھکراتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ’’اقتدار کی بھوکی‘‘این سی کے ساتھ ہاتھ ملانے سے گورنر راج ہی بہتر ہے کیونکہ عوام نے اس جماعت کے خلاف ووٹ ڈالے ہیں اور اس پارٹی کو محض 15 نشستوں کے ساتھ ’چور دروازی‘ سے حکومت میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔تاہم پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت بنانے کیلئے بھاجپا کے ساتھ ساتھ کانگریس پارٹی کے ساتھ بھی پس پردہ مذاکرات جاری ہیں۔

نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی حکومت میں شامل ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور پی ڈی پی کے برعکس نیشنل کانفرنس نے بھاجپا کے ساتھ ہاتھ نہ ملانے کا فیصلہ کرکے اپنے نظریہ اور ریاست کی خصوصی حیثیت کو ترجیح دی۔ساگر نے کہا’’ اگر ہمارا مقصد حکومت ہی ہوتا تو پھرہم نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا ہوتا لیکن ہم نے اقتدار کو چھوڑ کر اصولوں کو ترجیح دی جبکہ پی ڈی پی نہ صرف کوئی بھی سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نظر آرہی ہے بلکہ اقتدار میں آنے کیلئے اس پارٹی نے یو ٹرن لے لیا ہے‘‘۔ساگر نے مزید کہا’’پی ڈی پی کے برعکس ہم ایسے اصولوں اور سیاسی نظریہ کی رہنمائی میں آگے بڑھ رہے ہیں جس کی جڑیں لوگوں کی خواہشات اور جذبات میں پیوست ہیں ‘‘۔انہوں نے پی ڈی پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت کسی بھی صورت میں اقتدار میں آنا چاہتی ہے ، یہاں تک کہ ایسا کرنے کیلئے پارٹی کے لیڈران انتخابی مہم کے دوران کی گئی بیان بازی کے خلاف بھی جاسکتے ہیں۔ اس دوران نیشنل کانفرنس ترجمان جنید عازم متو نے پی ڈی پی ترجمان نعیم اختر کے ریمارکس کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا۔جنید متو نے بتایا ’’ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ این سی کو اگر اقتدار ہی پیارا ہوتا تو انتخابی نتائج منظر عام پر آنے کے بعد اتنا تعطل دیکھنے کو نہیں ملتا اور گورنر راج نافذ نہیں ہوتا‘‘۔ انہوں نے مزیدکہا ’’ ہم یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس پی ڈی پی کو سرکار بنانے کیلئے باہر سے حمایت دینے کو تیار ہے لیکن بدقسمتی سے شائد یہ بات پی ڈی پی سمجھ نہیں پارہی ہی‘‘۔این سی کی وضاحت کے بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے صاف الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کیلئے کسی بھی صورت میں نیشنل کانفرنس کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔پی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ نعیم اختر نے نیشنل کانفرنس کے تازہ اقدام پر ردعمل ظاہر کیا اور کہا’’این سی کے ساتھ ہاتھ ملانے سے گورنر راج ہی اچھا ہے ، لوگوں نے ان کے خلاف اور ایک تبدیلی کے حق میں ووٹ دئے ہیں‘‘۔اختر نے این سی کے کارگزارصدر اورسابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ پر الزام عائد کیا کہ وہ شاطرانہ چال چل کرسیاسی طور غیر یقینیت کی شکار ریاست جموں کشمیر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔نعیم اختر نے مزید بتایا’’یہ پارٹی(این سی) اقتدار کی بھوکی ہے لیکن ہم صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لیں گی‘‘۔ پی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ نے بی جے پی کے ساتھ بات چیت کے بارے میں یہ موقف دہرایا کہ بھاجپا کے ساتھ پس پردہ یا غیر رسمی مذاکرات جاری ہیں تاہم انہوں نے اسکی تفصیل بیان نہیں کی۔

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: