راجیہ سبھا انتخابات۔۔۔۔نوٹفکیشن آج متوقع

سات فروری کوراجیہ سبھا کی چار نشستوں کیلئے ہونے والے انتخابات کے ضمن میں آج نوٹیفکیشن اجراء کی جارہی ہیں،جس کے ساتھ ہی ریاست میں انتخابی سرگرمیاں شروع ہونگی۔اگرچہ ریاست کی اسمبلی فی الوقت معطل ہے اور ریاست میں گورنر راج نافذ ہے ،پھر بھی عدالت عظمیٰ کے احکامات کے مطابق اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے ممبران اپنے ووٹ کا استعمال کرسکتے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاست میں حکومت سازی پہ جاری تعطل کے بیچ پی ڈی پی سرپرست اعلیٰ مفتی محمد سعید نے چند روز قبل گورنر این این ووہرا سے ملاقات کی تھی۔میٹنگ میں مفتی محمد سعید نے گورنر سے گذارش کی ہے کہ راجیہ سبھا انتخابات کچھ وقت کیلئے مؤخر کئے جائیں ۔مفتی نے گورنر سے کہا ہے کہ وہ مرکز سے اس معاملے پر بات کرکے انہیں اس بات پر مائل کرنے کی کوشش کریں کہ نئی سرکار بننے تک راجیہ سبھا کے انتخابات کو موخر کیا جائے ۔ذرائع کے مطابق گورنر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مرکز کو تحریری طور پر اس معاملے پر آگاہ کریں گے۔ریاست کے سیکرٹری قانون محمد اشرف میر کا کہنا ہے راجیہ سبھا  کی 4نشستوں کے انتخابات کے حوالے سے آج تین نوٹفکیشن جاری ہونگی ۔ اشرف میر کے مطابق دو نشستوں کیلئے ایک ہی نوٹیفکیشن جاری کی جائے گی جبکہ مزید دونشستوں کیلئے الگ الگ نوٹیفکیشن اجراء کی جائیں گی ۔لاء سیکریٹری کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات میں منتخب ہوئے اراکین اسمبلی کو راجیہ سبھا نشستوں کیلئے ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے تاہم ایک مرتبہ کسی ایک نشست کیلئے ووٹ ڈالنے والے ممبر کو دوسری مرتبہ کسی دوسری نشست کیلئے ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔اس دوران نیشنل کانفرس اور کانگریس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات الگ الگ لڑنے کے باوجودسابق مخلوط حکومت کی اکائیاں راجیہ سبھا انتخابات میں جیت درج کر نے کے لئے سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق این سی ، کانگریس اور چند آزاد ممبران اسمبلی کے مابین میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ آئندہ 7فروری کو ریاست کی 4راجیہ سبھا نشستوں کے لئے ہونے والے الیکشن میں کم از کم ایک نشست جیتی جا سکے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ابھی تک کسی پارٹی نے اپنے امیدوار نامزد نہیں کئے ہیں۔ اس وقت راجیہ سبھا میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے دو دو ممبران ہیں جن کی 6سالہ معیاد آئندہ ماہ ختم ہو رہی ہے۔ ان میں راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد ، ریاستی کانگرس صدر پروفیسر سیف الدین سوز اور نیشنل کانفرنس کے محمد شفیع اوڑی اور غلام نبی رتن پوری شامل ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ 12ویں اسمبلی میں چونکہ کسی بھی جماعت کو مطلوبہ 44 ممبران کی اکثریت حاصل نہیں ہے ، اس لئے کوئی بھی جماعت اپنے بل پر ایک سے زیادہ نشست حاصل نہیں کر سکتی ہے ۔اس دوران سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی جہاں ریاست میں مخلوط حکومت سازی کیلئے کوششوں میں مصروف ہیں تو ممکن ہے کہ دونوں جماعتیں مشترکہ طور 3 راجیہ سبھا نشستیں حاصل کرسکتی ہیں تاہم چوتھی سیٹ پر کڑا مقابلہ ہونے کا احتمال ہے ۔مبصرین کا ماننا ہے کہ این سی، کانگریس اور کچھ آزاد ممبران اسمبلی مل کر کم سے کم ایک نشست پر جیت درج کرنے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لاسکتے ہیں ۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ دونوں پارٹیاں آزاد ممبران کے ساتھ مل کر کسی سمجھوتے پر پہنچنا چاہتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہو جا تا ہے تو نیشنل کا نفرنس کی15اور کانگریس کے 12ممبران اسمبلی آزاد ممبران کے ساتھ مل کر اتنی تعداد تک پہنچ سکتے ہیں جس میں ان کے حصہ میں کم از کم ایک نشست آجائے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: