سانحہ گاؤکدل کے منصوبہ ساز اپنی تاج پوشی کیلئے مصروف عمل:عمر

Omerنیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سرپرست اعلیٰ کو سانحہ گاؤکدل کیلئے موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ آج اِس سانحہ کی برسی کے حوالے سے سیاہ دن پر یہ پارٹی اظہار افسوس کرنے کی بجائے نہ صرف خاموش ہے بلکہ حکومت سازی کیلئے تگ و دو میں مصروف ہے۔سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹرپر ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ سانحہ گاؤکدل کے منصوبہ سازاِس سیاہ دن پر افسوس اور واویلا کرنے کی بجائے نہ صرف خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں بلکہ اپنی تاج پوشی کیلئے گفت شنید کررہے ہیں‘‘۔اْنہوں نے ’ٹروتھ اینڈ ریکنسی لیشن کمیشن‘ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک اور ٹویٹ کیا ہے کہ’کشمیری پنڈتوں کاانخلاء ہو یا گاؤ کدل جیسے واقعات،یہی وجہ ہے کہ ریاست میں ٹروتھ اینڈ ریکنسی لیشن کمیشن (TRC) تشکیل دینے کا بھارت اور پاکستان پر ایک قرض ہے‘۔

واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر یوں کے دلوں میں گاؤکدل ، بجبہاڑہ، ہندوارہ، کپوارہ، صفاکدل ، ٹینگہ پورہ ، حول اور ایسے ہی درجنوں قتل و غارت گری کے زخم ہمیشہ تازہ رہیں گے۔پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال نے پی ڈی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھاکہ 25برس قبل 19جنوری 1990کو مفتی محمد سعید نے جان بوجھ جگموہن کو جموں وکشمیر کا گورنر بنایاجبکہ اْس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید سے بار بار تاکید کی کہ جگموہن کو جموں وکشمیر کا گورنر نامزد نہ کریں کیونکہ ڈاکٹر فاروق جگموہن کے مسلم دشمن چہرے سے بخوبی واقف تھے لیکن مفتی محمد سعید نے جگموہن کو ہی گورنر بناڈالا۔ ڈاکٹر کمال کے مطابق گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی جگموہن نے 21جنوری 1990کو گاؤکدل میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام کروایا اور پھر 25جنوری کو ہندوارہ اور 27جنوری کو کپوارہ میں ایسے ہی بے گناہوں کا قتل عام کیا اور کشمیریوں کا خون بہانا مفتی اور جگموہن کیلئے معمول بن گیا۔ عمر عبداللہ نے حسب عادت سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پرگاؤکدل سانحہ کیلئے دبے الفاظ میں پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید کو موردِ الزام ٹھہرایا۔اس دوران ٹویٹر پر ہی اْنہیں ’فالو‘کررہے کئی ناقدین کا سامنا کرنا پڑا ہے۔کئی لوگوں نے اْنہیں واپس ٹویٹ کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ آپ کو 25سال کے بعد ہی یہ سانحہ کیوں یاد آیااور اپنے دور اقتدار میں اِس سانحہ کے متاثرین کی بازآبادکاری کیلئے آپ نے کون سے اقدامات اْٹھائے؟۔ ایک شخص نے سابق وزیراعلیٰ کو 2010یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ ہی وزیراعلیٰ تھے اور 120نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اْتارا گیا‘۔ایک اورشخص نے اْنہیں واپس ٹویٹ کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ آپ نے سانحہ گاؤکدل کاذکر تو کیا ہے لیکن اپنے دادااور باپ کے دور اقتدار میں ہوئے سانحات کاکیوں ذکر نہیں کیا ہے؟۔دریں اثناء اپنے حلقہ انتخاب بیروہ کے مختلف علاقوں میں عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے پی ڈی پی اور مرکز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال کیا کہ اب انہیں سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کی جلدی کیوں نہیں ہے جبکہ ریاست میں اس مطالبے کو لیکر وقت سے پہلے ہی انتخابات کرائے گئے کہ جلد سے جلد نئی حکومت کا قیام عمل میں لاکر بازآبادکاری اور راحت کاری کا عمل آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے پی ڈی پی کو اس بات کی وضاحت کرنے کیلئے کہا کہ آج وہ کس منہ سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ حکومت بنانے کے عمل کیلئے ابھی انتظار کیا جاسکتا ہے؟انہوں نے کہا کہ لیت و لعل کی پالیسی کیوں اپنائی جارہی ہے، مرکزی حکومت پہلے اس بات کی دہائی دے رہی تھی کہ سیلاب متاثرین کی امداد ٹھیک سے نہیں ہورہی ہے اور آج جب انتخابات بھی مکمل ہوگئے، نتائج کو بھی ایک ماہ گذرنے کو ہے اور مرکزی حکومت براہ راست ریاست کا نظام چلا رہی ہے ، پھر سیلاب متاثرین کیلئے اْس مالی پیکیج کا اعلان کیوں نہیں کیا جارہا ہے ، جس کی سفارش کی گئی تھی۔ سیلاب متاثرین کے تئیں مرکزی حکومت کے اپروچ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر مرکز کا رویہ ایسا ہی رہا تو لوگ اپنے آشیانے پھر سے بنانا کب شروع کریں گے؟ دکاندار اپنی دکانیں سجانا کب شروع کریں گے؟ ہینڈی کرافٹس اور ٹورازم سیکٹر سے جڑے لوگ اپنا کاروبار کب دوبارہ رشروع کریں؟انہوں نے کہا کہ ریاستی سرکار وزیر اعلیٰ فنڈ میں سے بے گھر ہوئے کنبوں کو رہنے کیلئے کرایہ فراہم کررہی ہے اگر ایسا نہیں کیا گیا ہوتا تو ان مصیبت زدگان کو کھلے آسان تلے اس شدید ترین سردی میں زندگی گزارنی پڑتی۔

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: