افسپا،پاکستان اور رفیوجی معاملہ،کیا پی ڈی پی اور بھاجپا کا سمجھوتہ ہوگا؟عمر

نیشنل کانفرنس کے کارگزارصدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے سوال کیا کہ کیا وہ فوج کو حاصل خصوصی اختیارات یعنی افسپا،پاکستان کے ساتھ مذاکرات اورمغربی پاکستان کے رفیوجیوں کے حقوق جیسے اہم معاملات پرسمجھوتہ کرسکتے ہیں۔سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انہوں نے ٹویٹ کیا ہے’’علاحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر پی ڈی پی اور بی جے پی میں سے کون سمجھوتہ کرے گا؟‘‘۔ این سی کارگزار صدر نے ٹویٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پوچھا ہے’’ریاست میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات (افسپا ) کی منسوخی پر پی ڈی پی سمجھوتہ کرے گی یا بی جے پی؟‘‘۔قابل ذکر ہے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں اقتدار میں آنے کی صورت میں افسپا کی منسوخی کا وعدہ کیا تھا جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس قانون کا یہ کہتے ہوئے نافذ رکھنے کے حق میں ہے کہ ریاست میں تعینات مسلح افواج کو اس کی ضرورت ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج ظاہر ہونے کے بعد اگر چہ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بظاہر خاموش ہیں لیکن سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر کے ذریعے انہوں نے نہ صرف کئی اہم معاملات کو لیکراپنے خیالات کا اظہار کیا بلکہ مخالف سیاسی پارٹیوں بالخصوص بی جے پی اور پی ڈی پی کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقعہ ضائع نہیں کیا۔واضح رہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی اور بی جے پی دونوں جماعتیں سب سے بڑی جماعتیں اُبھر کر آئی ہیں اور دونوں جماعتوں کے مابین حکومت سازی پرابھی بات چیت جاری ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے بی جے پی سے سوال کیاہے کہ کیا وہ خاندانی راج پر پی ڈی پی کے ساتھ سمجھوتہ کرسکتی ہے کیونکہ ریاست میں انتخابی جلسوں کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے خاندانی راج کے خلاف زور و شور سے مہم چلائی تھی۔انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ’خاندانی راج پر اب کون سمجھوتہ کرے گا،نریند مودی جس نے اس کے خلاف مہم چلائی یا پی ڈی پی ؟‘‘۔این سی کارگزار صدر نے راجیہ سبھا انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کیا یہ دونوں جماعتیں اس معاملے پر متحد ہوسکتی ہیں۔اس سلسلے میں انہوں نے یوں ٹویٹ کیا ہے’’ کیا پی ڈی پی اور بی جے پی اپنے نظریات اور عوام سے کئے گئے وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر راجیہ سبھا انتخابات کیلئے ایک ہوسکتی ہیں؟‘‘۔ عمر نے کہا ہے کہ اْسے ایک دانشمند کا یہ قول یاد آتا ہے کہ ’’حکومت میں ہونا ایک مشکل کام ہے تاہم حزب اختلاف میں بیٹھ کر کام کرنے میں لطف آتا ہے‘‘۔این سی کارگزار صدر کے مطابق پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید اْس کے باپ کو صحیح ثابت کررہا ہے۔انہوں نے کہا’’جب ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرکز کے ساتھ بہتر تعلقات کے بغیر جموں کشمیر میں سرکار چلانا ممکن نہیں ہے تو اْن کی سخت تنقید کی گئی اور آج مفتی نے اْن کو صحیح ثابت کرکے دکھایا‘‘۔ ایک اورٹویٹ میں اْنہوں نے کہا ہے ’’ٹھیک ایک ماہ ہوگیا ہے جب سے الیکشن کے نتائج منظرعام پر آئے ہیں اور ریاست ’قدم تال‘ کی حالت میں آگے بڑھ رہی ہے کیونکہ مفتی سعید دلی کی رضامندی کے بغیر حکومت نہیں کرپائیں گے‘‘۔ سابق وزیراعلیٰ کے مطابق حکومت سازی تک ابھی کئی اورسوالات سامنے آئیں گے۔جیسا کہ ٹویٹ میں انہوں نے ذکر کیا ہے ’’مجھے یقین ہے کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں میرے ذہن میں کئی اور سوالات اْبھریں گے کیونکہ ہم ایک حکومت بننے کے منتظر ہیں ‘‘۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: