اُجڑا جو گلستان تو اُجڑا ہی رہ گیا

پہلگام علاقے کے لیورگاؤں میں ملپورہ محلہ میں تنگ و وسیع راستوں کا ایک پیچیدہ جال پھیلا ہوا ہے اوراِن میں سے 35سالہ بیوہ توحیدہ بانو کے گھر کا راستہ پکڑنا کافی دشوار ہے۔اگرراستہ صحیح بھی ہو تو بھی مکان دکھائی نہیں دیتاکیونکہ اس کے صحن کے گِرد کی دیوار یک منزلہ مکان سے اونچی ہے۔مکان کے اندر جانے کے بعد مکینوں کی خستہ حالی اور کسمپرسی عیاں ہوجاتی ہے۔صرف تین سال کے عرصے میں اس کنبے کے 2جوان بیٹے گولی کا شکار ہوکر اپنے پسماندگان کو ایسی بدحال صورت میں چھوڑ گئے کہ ابھی تک غربت و افلاس کے سائے اس گھر سے چھٹ نہیں پائے ہیں۔سن 2000میں جب توحیدہ کی شادی مشتاق احمد میر کے ساتھ ہوئی تو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ فقط 3سال کے بعد وہ بیوہ ہوگی اور اپنی ساس سروہ بیگم اور کمسن بیٹی روحی جان کے ساتھ کنبے کے تین افراد میں شامل ہوگی۔مشتاق کو نامعلوم بندوق برداروں نے لیور گاؤں کے متصل سیدواڑہ جنگلات میں کرالہ وڈر کے مقام پر مارڈالا تھا۔اُس دن کی اندوہناک صورتحال بیان کرتے ہوئے جب اُس کا بیٹا اغوا کرنے کے بعد قتل کیا گیا ،سروہ بیگم نے کہا’’اُس کی ایک قصاب کے ساتھ شراکت داری تھی اوروہ گوشت بیچ رہے تھے۔چند نامعلوم بندوق بردار دکان سے ہی اُسے اپنے ساتھ لے گئے۔میری ایک بیٹی دوڑتے دوڑتے آئی اور کہا کہ مشتاق کو کچھ نامعلوم افراد نے دکان سے اٹھالیا اور وہ جنگل کی طرف گئے ہیں۔مجھے کوئی فکر نہ ہوئی اور بیٹی سے کہا کہ وہ اُسے کوئی گزند پہنچائے بغیر ہی چھوڑدیں گے‘‘۔
دن کے ساڑھے تین بجے تک سروہ اورتوحیدہ اِس زعم میں تھیں کہ مشتاق کو چھوڑدیا جائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔خدشات نے اُس کے حواس اڑالئے اور دونوں بیقراری کے عالم میں جنگل کی طرف دوڑنے لگے۔’’مجھے توحیدہ کے بارے میں تشویش تھی کیونکہ وہ پیٹ سے بھاری تھی جنگل کی طرف تیز تیز قدموں بھاگ رہی تھی،چلا رہی تھی اور اپنا چہرہ پیٹ رہی تھی۔میں نے کوشش کی کہ اُسے گھر بھیجوں لیکن وہ نہ مانی‘‘سروہ نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔اسی دوران گاؤں کے کئی اور لوگ بھی سیدواڑہ جنگل کی طرف دوڑنے لگے۔’’میں اور توحیدہ جنگل کے عین وسط میں تھے کہ گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔اِن آوازوں نے مشتاق کے زندہ ہونے کی امیدوں کو گل کردیا۔میں اورتوحیدہ دیوانوں کی طرح جنگل میں ادھر اُدھر دوڑ رہی تھیں تاکہ مشتاق کو ڈھونڈسکیں لیکن حواس باختگی کے عالم میں ہمیں کچھ سوجھتا نہیں تھا‘‘سروہ نے بھاری لہجے میں کہا۔اُس کے بغل میں بیٹھی توحیدہ نے اپنی نگاہیں زمین پر گاڑدیں اوررونے لگی۔اس کی12سالہ بیٹی روحی جان نے اپنی ماں کو روتے دیکھا تو معصوم چہرہ ایک دم مغموم ہوا۔
’’توحیدہ کی نظر مشتاق پر پڑی جو کہ ایک طرف منہ کئے لیٹا تھا۔ہم اس کی طرف دوڑیں مگر اُس کاچہرہ دوسری اور تھا۔میں نے سوچا کہ وہ مجھ سے ناراض ہے کیونکہ میں نے اُس کے بارے میں دیرسے تلاش شروع کی تھی جو کہ خلاف معمول تھا۔جب ہم نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا تو وہ اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔اُس کی آنکھیں صرف ایک بار جپکی اور پھر ہمیشہ کیلئے ساکت ہوگئیں‘‘سروہ نے کہا۔
توحیدہ کے بقول فوجی مشتاق کو مسلسل تنگ کررہے تھے کیونکہ وہ ایک مقامی طورپر تربیت یافتہ جنگجو تھاجس نے خفیہ طور جنگجویانہ سرگرمیاں ترک کرکے قصائی کی دکان کھولی تھی۔اِس کنبے کے افراد کو آج تک یہ نہیں معلوم کہ مشتاق کو کس نے مارا۔مشتاق کے راہ عدم سدھارتے ہی گھر میں خوشحالی کا سورج بھی غروب ہوا۔کنبے میں کوئی مرد نہ رہا ۔اس کے چار مہینے بعد توحیدہ کا بیٹا مدثر پیدا ہوا۔جو کہ آج چھٹی جماعت میں پڑھتا ہے۔سروہ کا ایک اور بیٹا فاروق احمد میرتھا اور وہ بھی جنگجو تھاجسے فوج کے ساتھ ایک تصادم میں 2000ء میں اسی گاؤں میں مارا گیا تھا ۔وہ فوج کی گولیوں کا نشانہ بننے سے پہلے کئی سال تک ایک سرگرم جنگجو تھا۔ابھی وہ زخم بھرا بھی نہ تھا کہ مشتاق کا جنازہ اٹھ گیا۔اِس کنبے کو کوئی سرکاری مالی معاونت نہ ملی کیونکہ دونوں بھائی جنگجو تھے۔دو کنال زمین اور سروہ بیگم کے چند سو روپئے بطور بیوہ فنڈ اس گھر کیلئے آگے بڑھنے کیلئے کل توشہ تھا۔افراد خانہ کیلئے پیٹ کی آگ بجھانا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔اپنے گھر کی قلیل آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے توحیدہ دوسروں کے یہاں مزدوری پر جاتی تھی۔دن گزرتے گئے اور مہینے برسوں میں تحلیل ہوتے گئے لیکن اِس گھر کی مفلسی ،کسمپرسی تنگ دستی جانے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔
’’بیٹوں کی جدائی کے زخم تو مندمل ہوگئے لیکن قدم قدم پر تنگ دستی اور تہی دامانی عزت نفس کو مجروح ہونے سے نہیں بچاپائی۔ہم زندہ توہیں لیکن مالی خستہ حالی کی وجہ سے اپنے طور پر زندگی بسر نہیں کرتے‘‘سروہ نے نمناک اور رقیق لہجے میں کہا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: