راجیہ سبھا انتخابات،آزاد کی تھرڈ فرنٹ سے میٹنگ

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان ممکنہ اتحاد کے پیش نظر عوامی متحدہ محاذ(تھرڈ فرنٹ) کی ایک اہم اکائی سی پی آئی (ایم) نے سات فروری کو ہورہے راجیہ سبھا انتخابات میں اِن دونوں جماعتوں کے خلاف ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اس دوران ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سوموار کوسینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کی محمد یوسف تاریگامی اور حکیم محمد یاسین کے ساتھ اس ضمن میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی تاہم میٹنگ میں انجینئر رشید شامل نہیں ہوسکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ تھرڈ فرنٹ میں شامل تینوں اراکین نے غلام نبی آزاد کو حمایت دینے کا اصولی طور پر فیصلہ کیا ہے تاہم وہ ابھی تک اس حوالے سے باضابطہ طور پر سامنے نہیں آرہے ہیں۔

سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سیکریٹری اور رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی کا کہنا ہے ’’میں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ میں پی ڈی پی بھاجپا اتحاد کے خلاف ووٹ ڈالوں گا کیونکہ یہ اتحاد موقع پرستی پر مبنی ہے ‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’میرے لئے حکومت سے زیادہ ملک کے سکیولر اقدار قیمت رکھتے ہیں ‘‘۔ اس دوران اسمبلی انتخابات میں حلقہ انتخاب خانصاحب سے کامیاب ہوئے پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ سربراہ حکیم محمد یاسین نے کہا ’’ اس ضمن میں ہماری میٹنگ ہورہی ہے جہاں راجیہ سبھا انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حوالے سے فیصلہ لیا جائے گا ‘‘۔حکیم یاسین نے مزید کہا ’’میں عوامی متحدہ محاذ کے دیگر ساتھیوں جن میں انجینئر رشید اورمحمد یوسف تاریگامی شامل ہیں ،کے ساتھ اس ضمن میں میٹنگ کے بعد ہی فیصلہ سناؤں گا‘‘۔واضح رہے کہ سات فروری کو راجیہ سبھا کی چار نشستوں پر ہورہے انتخابات میں سینئر کانگریس لیڈرغلام نبی آزاد بھی اپنی سیاسی قسمت آزمارہے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق راجیہ سبھا انتخابات کیلئے آزاد امیدواروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ غلام نبی آزاد کے ساتھ میٹنگ کے حوالے سے کشمیر عظمیٰ نے انجینئر رشید سے جب رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کہا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے وہ میٹنگ میں شامل نہیں ہوسکے البتہ تھرڈ فرنٹ کی منعقد ہوئی۔ اْن کا کہنا تھا کہ ابھی میں نے باضابطہ طور پر اس بات کا فیصلہ نہیں لیا ہے کہ آیا میں ووٹ کا استعمال کروں گا یا نہیں۔یاد رہے کہ جو دیگر امیدوار راجیہ سبھا الیکشن لڑرہے ہیں اْن میں پی ڈی پی کے فیاض احمد میراورنذیر احمد لاوے، بی جے پی کے شمشیر سنگھ منہاس اور چندر موہن شرما،نیشنل کانفرنس کی طرف سے سجاد احمد کچلو اورناصر اسلم وانی شامل ہیں۔پی ڈی پی ترجمان اعلیٰ نعیم اختر پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ نشستوں کا بٹوارہ ایک محدود مقصد سے کیا گیا ہے۔اُن کا کہنا تھا ’’ہمارا مقصد صرف اتناہے کہ پی ڈی پی ،بی جے پی دو دو نشستیں حاصل کرلے‘‘۔پی ڈی پی ترجمان کا کہنا ہے’’ہم 28نشستوں کے باوجود بھی ایک نشست نہیں جیت سکتے ہیں اسلئے یہ ضرورت بن گئی کہ ہم کسی دوسری جماعت کے ساتھ اتحاد کریں‘‘۔ بی جے پی ریاستی شاخ کے صدرجگل کشور کا اس ضمن میں کہنا ہے ’’ہم اپنی سطح پر الیکشن جیت نہیں سکتے ہیں ،اسلئے اتحاد ہمارے لئے بھی ایک ضرورت بن گئی‘‘۔ دریں اثناء ادھمپور حلقہ انتخاب سے بحیثیت آزاد امیدوار اسمبلی الیکشن جیت چکے پون گپتا نے کہا’’میں نے ابھی تک راجیہ سبھا انتخابات کے معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے اور میں بہت جلد اپنے فیصلے سے آگاہ کروں گا‘‘۔

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: