دِلّی ’آپ ‘ کی ہوئی،کشمیریوں نے نتائج چشم کشا قرار دئے

ArvindKejriwalہندوستان کی راجدھانی نئی دہلی کے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی اور ملک میں برسراقتدارجماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت کانگریس کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔واضح رہے کہ سات فروری کو منعقد ہوئے ان انتخابات میں 67 فیصد سے زیادہ رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ نئی دلی کے انتخابات کو وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کا پہلا امتحان تصور کیا جا رہا تھا۔ریاست جموں و کشمیر میں بھی دن بھر لوگوں نے ان انتخابات پرقریب سے نظر رکھی۔اکثر لوگوں نے انتخابی نتائج کو ہندوپاک کرکٹ مقابلے کی طرح دن بھر ٹیلی ویژن پربغور دیکھا۔

شمالی کشمیر کے پلہالن نامی گاؤں میں ایک 20سالہ طالب علم کی ہلاکت کے خلاف وادی میں ہڑتال تھی اور لوگ تقریباً اپنے اپنے علاقوں میں ہی موجود تھے اسلئے جگہ جگہ بحث و مباحثوں کا بازار گرم تھا۔کچھ لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی اورکانگریس کی ہار پر خوش نظر آرہے تھے تو کچھ عام آدمی پارٹی کی جیت کو ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کیلئے چشم کشا قرار دے رہے تھے۔سرینگر کے مضافاتی علاقہ کنی پورہ باغات کے محمدامین کے مطابق کسی بھی قوم کو آزادی کے بعد سیاسی طورپر بالغ ہونے میں پچاس سال لگتے ہیں اوردلی کے انتخابات نے اسے صحیح ثابت کرکے دکھایا۔انہوں نے کہا’مجھے یقین ہے کہ دلی انتخابات ہندوستان کی پوری قوم کیلئے ہی نہیں بلکہ جموں کشمیر کے لوگوں کیلئے بھی سیاسی طور بالغ ہونے کا ایک ذریعہ ثابت ہوگا‘۔انہوں نے مزید کہاکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو اپنا محاسبہ کرکے لائحہ عمل مرتب کرلینا چاہئے۔ محمد امین کا کہنا تھا کہ ’اگر ریاست میں دوبارہ انتخابات ہوتے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ کم از کم مشترکہ پروگراموں کی ضرورت نہیں پڑے گی ،پی ڈی پی بھی جھاڈو مارسکتی ہے جیسے 2013کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے حکومت کو لات مارکر آج سبھی سیاسی جماعتوں کودلی سے باہر کردیا‘۔ حیدرپورہ کے ایک شہری خورشید احمد نے کہا کہ ’بھاجپا کے غبارے سے ہوا نکل گئی ، مودی لہر کی وجہ سے ان کا غرور آسمان کو چھونے لگا تھا۔انہوں نے مزید کہا ’’کانگریس کا حال سب کے سامنے ہے اورآج دلی میں بی جے پی کے نام لیوا بھی دکھائی نہیں دئے۔دلی کے عوام نے یہ ثابت کرکے دکھایا کہ عوامی مسائل کو نظرانداز کرکے بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کا کیا ہوتا ہے‘‘۔پیشے سے تاجر شبیر احمدنے کہا ’’میرا ماننا ہے کہ اب بی جے پی کو جموں و کشمیر میں پی ڈی پی کا دامن تھامنا ہی پڑے گا کیونکہ دلی انتخابات نے اِس جماعت کے حوصلے پست کردئے ‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ اب بی جے پی اپنے شرائط منوانے کیلئے پی ڈی پی کوتنگ نہیں کرسکتی ہے کیونکہ اِنہیں یہ خطرہ لاحق رہے گا کہ اگر ہم نے پی ڈی پی کے شرائط نہیں مانے تو پھر جموں و کشمیر کی سرکار کا حصہ بننے کا خواب چکنا چور بھی ہوسکتا ہے‘‘۔نوگام کے ایک دکاندار عبدالرشید نے کہا’’سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید کیوں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کو اپنی مجبوری بتارہے ہیں۔انہیں اروندکیجریوال سے سبق لینا چاہئے جن کی جیت کا ابھی اعلان بھی نہیں ہوا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اْنہیں بھرپور تعاون دینے کی یقین دہانی کی‘‘۔عبد الرشید نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کشمیر دلی نہیں ہے جو بالکل درست ہے لیکن انہیں یہ ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ دلی بھی کشمیر کی طرح متنازعہ نہیں ہے ۔مذکورہ شہری کے مطابق کشمیر کی یہ متنازعہ صورتحال دلی ہی نہیں پورے بھارت کیلئے گلے کی ہڑی ہے،جسے آج نہیں تو کل انہیں تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔ کشمیر یونیورسٹی کے ایک طالب علم مشتاق بٹ نے کہا ’ میرے لئے یہ کوئی حیرانگی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ رجحان کشمیر سے ہی شروع ہوگیا،یہاں تو تقریباً سبھی بی جے پی اُمیدواروں کی ضمانت ہی ضبط ہوگئی ‘۔بٹ نے مزید کہا’’نیشنل کانفرنس کا حال ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اسلئے میں سو فیصد مطمئن ہوں کہ کانگریس اور اب بی جے پی ہماری ریاست میں زیادہ دیر ٹکنے والی جماعتیں نہیں ہیں‘‘۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دلی اسمبلی انتخابات میں اصل مقابلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی اور اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کے درمیان تھا۔بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق دہلی کی ریاستی اسمبلی کی 70 نشستوں میں سے عام آدمی پارٹی نے67 پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ تین نشستیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے حصے میں آئی ہیں۔ریاست میں گذشتہ 15 سال تک حکومت کرنے والی کانگریس پارٹی ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: