مفتی جدوجہد آزادی کا بیانیہ تبدیل کرنے کے خواہاں:یاسین ملک

ریاست میں نافذسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی صورت میں احتجاجی مہم چھیڑنے کا اعلان کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست میں جاری جدوجہد آزادی کا بیانیہ (Discourse) تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے مین اسٹریم جماعتوں کوبلاامتیاز ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی پارٹی ہو،ووٹ مانگنے والے بنیادی طور پر یہاں ہندوستان کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 50سال تک عوام کو یہ جھل دیتی رہی کہ یہ عوامی پارٹی ہے لیکن جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے اُسے بے دخل کردیا اور اس کے بعد جب حکومت ہند کو لگا کہ یہ پارٹی عوام میں بے اعتبار ہوچکی ہے تو اُس نے پی ڈی پی کومعرض وجود میں لایا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کو جان بوجھ کر ریاست میں علاحدگی پسندوں کی بولی بولنے کی چھوٹ دے دی گئی۔جموں و کشمیر میں پی ڈی پی بی جے پی مخلوط حکومت سازی کے اعلان کے دو روز بعد لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک جمعرات کو ایک مقامی ہوٹل میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے پی ڈی پی کے تئیں تندلہجہ اختیار کرتے ہوئے اس پارٹی پر پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے پی ڈی پی سرپرست مفتی سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ وہ آج فوج کو حاصل خصوصی اختیارات (افسپا)کا مخالف ہونے کا تاثر دیتے وقت یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ کشمیری عوام بھول گئے ہونگے کہ اس کالے قانون کو دراصل انہوں نے ہی بحیثیت مرکزی وزیر داخلہ یہاں نافذ کروایاتھا۔انہوں نے کہاکہ ایک جانب مفتی انسانی حقوق کی باتیں کررہے ہیں ،دوسری جانب وہ اُس گھر(پاپا ٹو) میں رہتے ہیں جہاں پہلے فورسز کا انٹروگیشن سینٹر تھا اور جس میں سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو قتل کردیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کے نعرے دینے والے مفتی سعید نے اُس مکان کو اپنا گھر بنالیا جہاں ہزاروں کشمیری زیر حراست قتل کئے جاتے رہے ہیں بلکہ جہاں کے درودیوار آج بھی معصوموں کے لہو سے رنگین ہیں ۔یاسین ملک نے کہا کہ مفتی سعید نے ممبئی میں بعض صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بتایا کہ وہ شعوری طور ایک ہندوستانی ہیں لیکن انتخابی مہم کے دوران عوام سے ہندوستان کے ظلم وجبر کے خلاف ووٹ مانگے۔ملک نے کہا ’’اگر مفتی حقیقت پسند ہوتے تو وہ ریاست میں انتخابی جلسوں کے دوران بھی شعوری طور ہندوستانی ہونے کا اعتراف کرلیتے‘‘۔ ملک کے مطابق جموں میں پی ڈی پی کے انتخابی جلسوں میں اکثر لوگ آر ایس ایس کارکنان ہوتے تھے۔انہوں نے کہا ’’مفتی سعید نے جموں میں شعوری طور ہندوستانی ہونے کا ثبوت دیا کیونکہ انہوں نے صوبے میں مسلم ووٹ تقسیم کرکے آر ایس ایس کے ہاتھ مضبوط کرلئے‘‘۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’ آج سبھی ہند نواز جماعتیں دفعہ 370کو ایمان کا ایک حصہ سمجھ کرواویلا کررہی ہیں جبکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس قانون کی جڑیں کھوکھلا کرنے میں انہی جماعتوں نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑدی‘‘۔ملک کا کہنا تھا ’’اس قانون(دفعہ370) میں ترامیم کا سلسلہ بنیادی طور ریاست کے سابق وزیراعلیٰ غلام محمد صادق کے دور میں ہی شروع ہوا تھا اور مفتی صاحب اُس حکومت میں ایک وزیر تھے‘‘۔یاسین ملک نے کہ اب اس دفعہ کی آڑ میں جدوجہد آزادی کا بیانیہ نہ صرف تبدیل کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں بلکہ مفتی سعید اسی دفعہ370ہی کواب بیانیہ قراردے رہے ہیں۔مفتی سعید پر تابڑ توڑ حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ پی ڈی پی سرپرست آج فوج کو حاصل خصوصی اختیارات (افسپا) کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن وہ شائد یہ بھول گئے ہیں یا کشمیری عوام کو بیوقوف بنارہے ہیں کہ اس ایکٹ (افسپا) کا نفاذ اُنہی کے دور میں ہو ا،جب وہ ہندوستان کے وزیر داخلہ تھے۔ فرنٹ چیئرمین نے کہا ’’ مذاکرات کا معاملہ چھیڑ کر آزادی پسندوں کو بہلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ ہمیں کھلونے دے کے بہلایا نہیں جاسکتا ‘‘۔انہوں نے کہا کہ علاحدگی پسند فوٹو سیشن میں حصہ لیکر اپنی قوم کے ساتھ دھوکہ دہی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے سبھی مین سٹریم جماعتوں کو ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں انہوں نے ایک ہی رول ادا کیالیکن 1990 میں جب عوامی سیلاب سڑکوں پر آیا تو نیشنل کانفرنس دیگر جماعتوں کی طرح عوامی حمایت سے محروم ہوئیں تو حکومت ہند کو لگا کہ یہ پارٹی عوام میں اپنی ساکھ کھوچکی ہے تو اُس نے پی ڈی پی کو معرض وجود میں لایا۔ملک کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی نے 2002میں اقتدار سنبھالتے ہی یہ تاثر دیا کہ اُسے ٹاسک فورس ختم کرنا ہے لیکن جب مرکزنے اُن سے اس سلسلے میں وضاحت طلب کی تومفتی سعید نے اُن سے کہا کہ وہ یہاں ہر ایک پولیس اسٹیشن کو ٹاسک فورس کیمپ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ملک کے مطابق جس کا ثبوت آج وادی کے پولیس تھانوں سے مل رہا ہے۔محمد یاسین ملک نے کہا ’’ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ یہاں حکومت کون بناتا ہے اور کس کے ساتھ مل کر بناتا ہے ‘‘۔ملک کا کہنا تھا کہ بھارت نے 1947 سے اب تک جموں کشمیر میں الیکشن کو ہمیشہ یہاں تحریک آزادی دبانے اور مسئلہ کشمیر کی ہیئت مسخ کرنے کیلئے استعمال کیا ہے۔ فرنٹ چیئرمین نے کہا ’’ہم یہاں سبھی انتخابات اور اُس کے نتیجے میں بننے والی حکومتوں کوریاستی عوام کا دشمن اور تحریک آزادی کا مخالف تصور کرتے ہیں‘‘۔ان کا کہنا تھا ’’ اگر بھارت اور اسکے بہی خواہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اُن کے ساتھ ہیں تو مفتی محمد سعید اسلام آباد اور عمر عبداللہ بیروہ سے غیر جانبدار الیکشن میں میرا مقابلہ کریں‘‘۔انہوں نے کہا کہ 1996 میں لوگوں نے الیکشن بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرلیا جس کا اثر بڑھتا رہا ،جس کے نتیجے میں بھارت کوعالمی سطح پر خفت اُٹھانا پڑرہی تھی اسلئے بھارتی پالیسی سازوں نے اس کا توڑ کرنے کی ٹھان لی اور پی ڈی پی کے نام پریہ علاقائی جماعت معرض وجود میں لائی گئی جس نے لوگوں کو آزادی ،انسانی حقوق اور دیگر نعرے لگانے کی شروعات کی تاکہ بائیکاٹ کا توڑ کیا جائے۔ملک کے مطابق ووٹ ڈالنا یا بائیکاٹ کرنا ہر ایک انسان کا جمہوری حق ہے اور اگر بھارت جمہوریت میں یقین رکھتی ہے تو علاحدگی پسندوں کو کیوں مقید کرلیا گیا۔یاسین ملک نے حکومت ہند کو مخاطب ہوکر کہا ’’میں بھارتی حکمرانوں کو بتادینا چاہتا ہوں کہ آپ نے یہ دور جیت لیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حتمی جیت بھی آپ کو حاصل ہوگی۔ آپ یہ جزوی کامیابیاں بار بار حاصل کرسکتے ہیں لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ آخری کامیابی ظالم و قابض کی نہیں بلکہ مظلوموں کی ہی ہوتی ہے‘‘۔ملک نے جذباتی لہجے میں کہا ’’بھارت ہمیں جتنا دبانے کی کوشش کرے گا، ہم بار بار اُبھرتے رہیں گے اور یاد رکھیں کہ جس دن ہم کامیاب ہوں گے اُس دن بھارت کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں ملے گا‘‘۔

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: