لیڈن چرارشریف میں المناک واقعہ،16افراد زندہ دفن

مارچ 30, 2015

??????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????سیلابی صورتحال کے بیچ وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف قصبے سے9 کلومیٹر دور واقع ایک دور افتاد گاؤں لیڈن میں ایک پہاڑی کھسکنے اور زمین ڈھ جانے کے نتیجے میں زمین بوس ہوئے 3رہائشی مکانات میں موجودخواتین اور بچوں سمیت16افراد کے لقمہ اجل ہونے کا خدشہ ہے تاہم آخری اطلاع ملنے تک صرف 6 لاشیں ہی برآمد ہوئی تھیں جن میں 4خواتین اور22روز کا ایک نو زائد بچہ بھی شامل ہے۔اس حادثہ میں ڈیڑھ درجن کے قریب مویشی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں اس بستی کے حجام محلہ میں زمین ڈھ جانے کا یہ عمل اتوار اور پیر کی درمانی رات کوشروع ہوگیا۔بچاؤ کارروائیوں میں مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکار مصروف ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ملبے کے نیچے دبے افراد کے زندہ ہونے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ Read the rest of this entry »

Advertisements

نقوی سرینگر وارد،سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا

مارچ 30, 2015

Naqviکشمیر میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر حکومت ہند کے ایک کابینہ سیکریٹری اجیت سیٹھ نے ریاست کے چیف سیکریٹری محمد اقبال کھانڈے کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے دوران این ڈی آر ایف کی 8ٹیمیں وادی بھیجنے کا اعلان کیا جبکہ دو ٹیمیں پہلے ہی وادی پہنچ گئی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس یعنی NDRFکے 100اہلکاروں پر مشتمل دو ٹیمیں بھی پیر کی صبح بٹھنڈا پنجاب سے سرینگر وارد ہوئیں۔ Read the rest of this entry »


سیلاب کے خوف نے تاجروں کو سراسیمہ کردیا

مارچ 30, 2015

Lalchowkسیلابی صورتحال سے جہاں وادی بھرمیں خوف و ہراس کی لہر پائی جارہی ہے وہیں شہر سرینگر کے لال چوک اور سول لائنز کے دیگر بازاروں میں دکانداروں کیلئے یہ صورتحال کسی عذاب سے کم ثابت نہیں ہوئی۔واضح رہے کہ ستمبر2014میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد شہر کے اکثر دکاندار ابھی اپنی دکانیں سجانے اور سنوارنے میں ہی مصروف تھے کہ اتوار کو شروع ہوئی موسلا دھار بارشوں کی شدت دیکھ کر اُنہیں اپنی دکانوں سے سارا مال نکال کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا پڑا۔ Read the rest of this entry »


وزیر کی رہائش گاہ پر مامور اہلکار2بندوقیں لیکر فرار

مارچ 29, 2015

ریاست جموں و کشمیر میں تعمیرات عامہ کے وزیر سید الطاف بخاری کی رہائش گاہ کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران دو رائفل لیکر جمعہ کی شام لاپتہ ہوگیا ۔ پولیس نے بڑے پیمانے پراہلکار کی تلاش شروع کردی ہے اور ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ Read the rest of this entry »


اسمبلی2015:گورو قرارداد بحث کیلئے پیش نہ ہوگی

مارچ 25, 2015

Afzalقانون ساز اسمبلی میں ’افضل گورو کے باقیات کی واپسی‘سے متعلق آزاد رکن اسمبلی انجینئر رشید کی قرارداد پر رواں اجلاس کے دوران بھی اب کوئی بحث نہیں ہوگی۔انجینئر رشید کے مطابق رواں اجلاس کے دوران ایک مرتبہ پھر قانون ساز اسمبلی نے دلی کو خوش کرنے کیلئے جمہوریت اور جمہوری اقدار کا خون کرلیا ۔ Read the rest of this entry »


سبکدوشی کے بعد دوبارہ ملازمت کررہے لوگوں کی چھٹی

مارچ 18, 2015

ریاست جموں و کشمیر کے وزیرا علیٰ مفتی محمد سعید نے ایک انتہائی اہم فیصلے کے تحت اْن تمام ملازمین کو برطرف کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں جنہیں نوکری سے سبکدوش ہونے کے باوجودمختلف سرکاری محکموں،پبلک سیکٹر اداروں، بورڈوں اورخود مختار اداروں نے دوبارہ ملازمت فراہم کی ہے۔ اس دوران ریاست میں کیجول اور سیزنل لیبروں کی تعیناتی پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ریاست میں کیجول اور سیزنل لیبروں کی تعیناتی کا عمل2005میں شروع کیا گیا تھا اور ریاست کی زمام کار مفتی محمد سعید ہی سنبھال رہے تھے۔ Read the rest of this entry »


بورڈ ’سیریز‘ نظام کے خلاف طلبہ برہم

مارچ 15, 2015

جموں و کشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی جانب سے بارہویں جماعت کیلئے لئے جارہے امتحانات کے دوران مسلسل تیسرے سال سیریز سسٹم طالب علموں کیلئے پریشانی کا باعث بن چکا ہے۔امتحان دے رہے طالب علموں کا کہنا ہے کہ پرچہ انتہائی سخت اور نصاب سے باہر ہونے کی وجہ سے وہ کچھ نہیں کرپارہے ہیں۔جموں و کشمیر سٹیٹ بورڈ آف سکول ایجوکیشن نے امتحانی نظام میں جدت لانے کی غرض سے2011 میں چند اصلاحات عمل میں لانے کی کوشش کی گئی تھی جن کے تحت روایتی امتحانی نظام کی جگہ نیا نظام متعارف کیا گیا۔نئے نظام میں یہ فیصلہ لیا گیا تھاکہ اب ہر امتحانی مرکز پر یکساں سوالنامے نہیں رکھے جائیں گے جبکہ سیریز نظام متعارف کرکے یہ فیصلہ ہوا کہ ہر سیریز میں درج سوالات دوسری سیریز سے بالکل مختلف ہونگے۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: