افضل گورو کے باقیات

پی ڈی پی نے واپسی کا مطالبہ کیا
جموں و کشمیر میں پی ڈی پی اوربی جے پی کی مخلوط حکومت معرض وجود میں آنے کے دوسرے ہی روز پی ڈی پی نے محمد افضل گورو کے باقیات کی واپسی کامطالبہ کیا۔ اس دوران ریاست کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاہے کہ اگر پی ڈی پی محمد افضل گورو کے باقیات کی واپسی کیلئے سنجیدہ ہے تو انہوں نے کم از کم مشترکہ پروگرام میں اس کا ذکر کیوں نہیں کیا ہے؟پی ڈی پی کے8 ممبران اسمبلی نے ایک مشترکہ بیان میں افضل گورو کی پھانسی کی سزا منسوخ کرنے سے متعلق آزاد رکن اسمبلی انجینئر عبدالرشید کی طرف سے لائی گئی قرار دا د کو جائز قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ اس قرارداد کوریاستی قانون سازیہ میں2013کے اجلاس میں ہی اختیارکیا جانا چاہئے تھا۔ اس مشترکہ بیان میں محمد خلیل بند ، ظہور احمد میر ، راجہ منظور احمد ، محمد عباس وانی ، یاور دلاور میر ،ایڈو کیٹ محمد یوسف ، اعجاز احمد میر اور نور محمد شیخ نے کہا ہے کہ پی ڈی پی کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ افضل گورو کی پھانسی انصاف کا خون تھا اور اس سلسلہ میں آئینی لوازمات اور قواعد پورے نہیں کئے گئے تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ افضل گورو کو 28ویں سیریل نمبر سے اٹھا کر پھانسی دی گئی ،جس کی پی ڈی پی نے بھی مذمت کی تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پارٹی افضل گورو کے باقیات کی واپسی کے مطالبہ پر قائم ہے اور وعدہ بند ہے کہ اس معاملہ کی مسلسل پیروی کرے گی۔ واضح رہے کہ افضل گورو کو 9فروری2013دلی کے تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی۔انجینئر رشید نے اس ضمن میں بتایا ’’میں نے آج قانون ساز کونسل میں پی ڈی پی کے حق میں اپنا ووٹ دیا ہے کیونکہ انہوں نے ’دیر آئد درست آئد‘ کے مصداق افضل سے متعلق میری قرارداد کی حمایت کی اور افضل کے باقیات کی واپسی کا مطالبہ کیا‘‘۔ انجینئر نے کہا ’’افضل گورو کے معاملے پر میراموقف واضح ہے،مجھے امید ہے کہ وہ اس معاملے کو زور وشور سے آگے بڑھائیں گے‘‘۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ راجیہ سبھا انتخابات کے دوران انجینئر رشید نے اپنا ووٹ کانگریس کے سینئرلیڈر غلام نبی آزاد کے حق میں دے دیا جس کی وجہ سے آزاد نے کامیابی حاصل کرلی۔
مطالبہ مشترکہ پروگرام میں کیوں نہیں؟عمر
ریاست کے سابق وزیراعلیٰ اور ممبر اسمبلی بیروہ عمر عبداللہ نے سوموار کو کہاہے کہ اگر پی ڈی پی محمد افضل گورو کے باقیات کی واپسی کیلئے سنجیدہ ہے تو انہوں نے کم از کم مشترکہ پروگرام میں اس کا ذکر کیوں نہیں کیا ہے؟۔واضح رہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے مابین کم از کم مشترکہ پروگرام کی بنیاد پر ہی مخلوط حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔یاد رہے کہ محمد افضل گورو کوجب تختۂ دار پر لٹکایا گیا تب ریاست کی زمام کار عمر عبداللہ ہی سنبھال رہے تھے۔ عمر نے تازہ صورتحال کے پیش نظر سوال کئے ہیں کہ کیا ریاست کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید اور اْن کی بیٹی محبوبہ مفتی پی ڈی پی ۔بی جے پی اتحاد کو توڑنا چاہتے ہیں؟عمر عبداللہ نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کیا ہے’’اگر پی ڈی پی واقعی افضل گورو کے باقیات کی واپسی میں سنجیدہ ہے تو انہیں کم از کم مشترکہ پروگرام میں اس کے اندراج کیلئے لڑنا چاہئے تھے،جو انہوں نے نہیں کیا‘‘۔سابق وزیراعلیٰ نے اس دوران ٹویٹر پرپی ڈی پی ۔بی جے پی اتحاد پر کئی سوالات کئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے’’کیا مفتی نے فیصلہ کرلیا ہے کہ مودی مفتی معاہدہ ایک غلطی ہے؟،کیا باپ بیٹی بی جے پی کواتحاد توڑنے کیلئے مجبور کررہے ہیں؟ ‘‘۔قابل ذکر رہے کہ عمر عبداللہ نے یہ سوال ایک ایسے موقعہ پر کئے ہیں جب پی ڈی پی سرپرست اور ریاست کے نو منتخب وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کے بیان پر دلی میں زبردست ہنگامہ خیز صورتحال ہے اورحزب اختلاف نے پارلیمنٹ کے رواں اجلاس سے واک آؤٹ کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی سے نہ صرف وضاحت طلب کی بلکہ وزیراعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں بیان دیں۔واضح رہے کہ مفتی محمد سعید نے ریاست کے 12ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد نائب وزیر اعلیٰ اور بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکتر نرمل سنگھ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ ریاست میں پرامن انتخابات کے انعقاد کا سہرا حریت ، پاکستان اور عسکریت پسندوں کے سربنتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: