آزادی پسند لیڈر مسرت عالم رہا

حریت کانفرنس(گ) کے سینئر لیڈر اور مسلم لیگ سربراہ مسرت عالم بٹ کو ساڑھے چار سال کی اسیری کے بعد سنیچر کورہا کیا گیا۔اُنہیں سیاسی قیدیوں کی رہائی سے متعلق پی ڈی پی -بی جے پی مخلوط حکومت کی پالیسی کے تحت رہا کیا گیا ۔واضح رہے کہ وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے چند روز قبل سیاسی قیدیوں کی رہائی شروع کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔انہوں نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست میں ان تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کریں جن کے خلاف مجرمانہ مقدمے درج نہیں ہیں۔ مسرت 18اکتوبر2010کو گرفتار کرلئے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق ضلع کمشنر بارہمولہ طلعت پرویز نے اُن کی رہائی کے احکامات جاری کئے۔مسرت فی الوقت ڈسٹرکٹ جیل بارہمولہ میں مقید تھے۔ مسلم لیگ ذرائع نے بتایا کہ مسرت کوڈسٹرکٹ جیل بارہمولہ سے شہید گنج پولیس تھانے کی ایک ٹیم نے سرینگر پہنچاکر اپنے اہل خانہ کے سپرد کیا۔مسرت عالم کو2010کی ایجی ٹیشن کے دوران کلیدی رول ادا کرنے کے الزام میں چار ماہ کی روپوشی کے بعد بالآخر سرینگر کے تیل بل علاقے سے پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے گرفتارکرلیا تھا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بیالیس سالہ مسلم لیگ سربراہ کی رہائی کے احکامات داخلہ محکمہ نے اجراء کئے ہیں اورتکنیکی بنیادوں پر اب وہ آزاد ہیں ۔ مسلم لیگ ترجمان نے بتایا کہ 2010میں گرفتار ہونے کے بعد اب تک اُن پر8مرتبہ پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا۔ترجمان کے مطابق ’’کئی بار عدالت نے اُن کی رہائی کے احکامات صادر کئے تاہم انہیں دوبارہ کسی نہ کسی فرضی کیس میں ملوث کرکے گرفتار کیا جاتا رہا‘‘۔ مسرت عالم نے2008کی شرائن بورڈ ایجی ٹیشن کے دوران بھی اہم رول ادا کیا تھا اور بعد میں پولیس نے انہیں ایجی ٹیشن کے دوران ہی آلوچی باغ کے نزدیک گرفتار کرکے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا۔اپریل2010تک مسرت عالم پر لاگو سیفٹی ایکٹ عدالت عالیہ نے7مرتبہ کالعدم قرار دیا لیکن اس کے باوجود انہیں رہا کرنے کی بجائے ان پر 8ویں مرتبہ بھی سیفٹی ایکٹ لاگو کیا گیاتاہم اپریل2010میں عدالت عالیہ نے ان پر عائد کیا گیا مسلسل عائد کیا گیا آٹھواں سیفٹی ایکٹ کالعدم قرار دیا جس کے بعد انہیں رہا کئے بغیر انیمیز آرڈی نینس ایکٹ کے بعد نظر بند رکھا گیا البتہ بعد میں 21ماہ کی مسلسل نظر بندی کے بعد 8جون کو انہیں اس شرط پر ضمانت پر رہا کیا گیا کہ وہ ہر تین روز بعد متعلقہ پولیس تھانے میں رپورٹ کریں گے۔20جون 2010میں جب سید علی شاہ گیلانی کو چند ساتھیوں سمیت کپوارہ میں گرفتار کیا گیا تو اس کے بعد مسرت عالم نے24جون کو پائین شہر میں کسی خفیہ مقام پر پریس کانفرنس کا انعقاد کرکے ’’جموں و کشمیر چھوڑ دوتحریک‘‘اور ’’گو انڈیا گو‘‘کا نعرہ دیکر پہلا احتجاجی کلینڈر جاری کیا،جس کے فوراً بعد وہ خود روپوش ہوگیا۔ ایجی ٹیشن2010 میں ہڑتال اور ڈھیل دینے کا منفرد احتجاجی پروگرام دینے کا سہرابھی مسرت عالم کے سر جاتا ہے کیونکہ حریت(گ)چیئرمین سید علی شاہ گیلانی کی تین ماہ تک نظر بندی کے دوران مسرت عالم ہی اُس ایجی ٹیشن کے روح رواں تھے۔پولیس جب انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی تو پولیس کی جانب سے مقامی ذرائع ابلاغ میں ان کی گرفتاری پر انعامات دینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔اُن کے سر پر 5لاکھ روپے کا انعام رکھا گیاتھا۔
پروفائل
مسرت عالم نے ابتدائی تعلیم بسکو سکول سے حاصل کرنے کے بعد ایس پی کالج سرینگر سے سائنس مضامین میں گریجویشن حاصل کی۔زیندار محلہ حبہ کدل میں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے مسرت عالم نے 1987میں مسلم متحدہ محاذ کے قیام کے دوران اپنے سیاسی کیرئر کا آغاز کیا اور اس دوران عوامی ریلیوں میں بھرپور شرکت کی۔1987انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہونے کے بعد مسرت 1990 سے شروع ہوئی عسکری تحریک کا بھی حصہ بنے اور وہ حزب اللہ نامی تنظیم کا کمانڈر بھی بنا۔مسرت عالم گزشتہ 25برسوں کے دوران قریب 14 سال تک پابند سلاسل رہے۔انہوں نے ہی شرائن بورڈ ایجی ٹیشن کے دوران ’’رگڑا‘‘کو متعارف کرایا۔ان کے گھر میں ان کی ماں ،ان کی بہن اور اہلیہ ہیں اور وہ ایک انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مسرت عالم کی جب شادی ہوئی تھی تو تین روز بعد ہی انہیں پولیس نے گرفتار کرکے کورٹ بلوال جیل منتقل کیا تھا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: