میری رہائی میں حکومت کا کوئی رول نہیں:مسرت

ساڑھے چار سال کی اسیری کے بعد گذشتہ روز رہائی پانے والے حریت (گ)کے سینئر لیڈر اور مسلم لیگ سربراہ مسرت عالم بٹ نے کہا ہے کہ اُن کی رہائی میں پی ڈی پی – بی جے پی حکومت کا کوئی رول نہیں ہے بلکہ یہ معمول کے مطابق عدالتی کارروائی کا ایک حصہ ہے۔اُن کی رہائی کے بعد جہاں کانگریس اوربی جے پی نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے اپنا موقف واضح کرنے کیلئے کہا ہے وہیں ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مسرت عالم کی گرفتاری کو جواز بخشتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی گرفتاری کے بعد ہی وادی میں امن قائم ہوا تھا۔واضح رہے مسرت عالم پر سال 2010کی اُس عوامی ایجی ٹیشن کی سرپرستی کرنے کا الزام ہے، جو سرحدی ضلع کپوارہ کے مژھل سیکٹرمیں فوج کے ہاتھوں تین معصوم کشمیری نوجوانوں کے حراستی قتل پر یہاں شروع ہوگئی تھی۔ اس ایجی ٹیشن میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک سو سے زائد لوگ مارے گئے ، جن میں زیادہ تر کمسن بچے شامل تھے۔ پولیس نے مسرت عالم کو اس ایجی ٹیشن کو ہوا دینے اور امن و قانون بگاڑنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا ، تاہم پولیس عدالت میں مسرت عالم پر لگائے گئے الزامات کو ثابت نہیں کرسکی ۔اُنکی رہائی کیلئے کئی بارعدالتی احکامات جاری ہوجانے کے باوجود انہیں از سر نو گرفتار کیا جاتا رہا۔ مسرت عالم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی گرفتاری کے خلاف ایک قانونی لڑائی لڑ رہے تھے جس کی بنیاد پر اُنہیں رہا کیا گیا۔انہوں نے کہا ’’میری رہائی میں سرکار کا کوئی رول نہیں ہے بلکہ یہ صرف اورصرف عدالتی کارروائی کا نتیجہ ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’مخلوط سرکار میں شامل دونوں جماعتیں پی ڈی پی اوربی جے پی اس معاملے سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہیں ‘‘۔مسرت نے کہا ’’ میں مسلسل چھٹی مرتبہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایام اسیری کاٹ رہا تھا ۔میں نے اپنی گرفتاری کے بعد ہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا جو میرا حق بنتا تھا‘‘۔مذکورہ لیڈر کے مطابق اگرچہ عدالت نے کئی بار اُنکی رہائی کے احکامات صادر کئے لیکن ہر وقت کسی نئے کیس اور نئے پی ایس اے کے تحت دوبارہ گرفتار کیا جاتا رہا۔اپنی رہائی پرتنازعہ کھڑا ہونے کے حوالے سے مسلم لیگ لیڈر نے کہا ’’اگر میری رہائی پر شور و غوغا پیدا کیا گیا ہے تو یہ اُ ن کا درد سر ہے ‘‘۔جب اُن سے پوچھا گیا کہ اُن کی رہائی سے کیا یہ عندیہ ملتا ہے کہ علاحدگی پسندوں اور حکومت کے درمیان بات چیت شروع ہوگی ،تو اُن کا کہنا تھا ’’اُن کی پارٹی (مسلم لیگ) حریت کی ایک اکائی ہے اور بات چیت کے حوالے سے حریت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اُس پر عمل کرنے کے پابند ہیں‘‘۔ اس دوران کانگریس نے جموں و کشمیر میں بی جے پی۔پی ڈی پی سرکار کے ذریعہ حریت لیڈر مسرت عالم کو رہاکئے جانے کی سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا ہے کہ ریاست کے پرامن ماحول کو کیوں بگاڑ ا جارہا ہے ؟پارٹی کے اطلاعاتی شعبہ کے انچارج رندیپ سورجے نے اتوارکو ایک بیان میں کہا ہے کہ حریت لیڈر مسرت عالم کے خلاف ریاست میں وطن مخالف مہم چلانے اورفورسز پر پتھراؤ کے واقعات کی سربراہی کرنے کا الزام ہے۔کانگریس کے مطابق حریت لیڈر مسرت عالم کو رہا کرکے جموں و کشمیر میں بڑی مشکل سے قائم ہونے والے امن وامان کو پھر سے خطرے میں ڈال دیا گیا ہے ۔ ادھر ریاست کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹرپر ٹویٹ کیا ہے ’’مجھے مسرت کو گرفتار کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا ہوتا تو پُرامن انتخابات کا انعقاد ناممکن تھا‘‘۔ عمر نے ایک اورٹویٹ میں کہا ہے کہ 2010ایجی ٹیشن کے ماسٹر مائنڈ وہی تھے اور یہ اتفاق نہیں تھا کہ ایجی ٹیشن ختم ہوگئی بلکہ یہ تب ہی ممکن ہوسکا جب انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ افضل گورو کو پھانسی پر لٹکانے کے باوجود وادی میں 2010نہیں دہرایا گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ مسرت جیل میں تھا۔ پی ڈی پی نے مسرت عالم کی رہائی کو کم از کم مشترکہ پروگرام کے خطوط کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جموں و کشمیر میں قیام امن کی خاطر تمام متعلقین کو بات چیت کے عمل میں شامل کرنے کا ایک حصہ ہے۔پارٹی ترجمان اعلیٰ اور وزیرتعلیم نعیم اختر کا کہنا ہے ’’مسرت کی رہائی کو اچھے نکتہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔یہ کارروائی کم از کم مشترکہ پروگرام کا ایک حصہ ہے تاکہ ریاست میں مصالحت اور امن کے سلسلے میں تمام متعلقین کو بات چیت کے عمل میں شامل کیا جاسکے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’اگر آپ تمام متعلقین کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں ،جن میں یہ لیڈران بھی شامل ہیں تو انہیں جیلوں میں بند کرکے یہ ممکن نہیں ہے‘‘۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: