بورڈ ’سیریز‘ نظام کے خلاف طلبہ برہم

جموں و کشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی جانب سے بارہویں جماعت کیلئے لئے جارہے امتحانات کے دوران مسلسل تیسرے سال سیریز سسٹم طالب علموں کیلئے پریشانی کا باعث بن چکا ہے۔امتحان دے رہے طالب علموں کا کہنا ہے کہ پرچہ انتہائی سخت اور نصاب سے باہر ہونے کی وجہ سے وہ کچھ نہیں کرپارہے ہیں۔جموں و کشمیر سٹیٹ بورڈ آف سکول ایجوکیشن نے امتحانی نظام میں جدت لانے کی غرض سے2011 میں چند اصلاحات عمل میں لانے کی کوشش کی گئی تھی جن کے تحت روایتی امتحانی نظام کی جگہ نیا نظام متعارف کیا گیا۔نئے نظام میں یہ فیصلہ لیا گیا تھاکہ اب ہر امتحانی مرکز پر یکساں سوالنامے نہیں رکھے جائیں گے جبکہ سیریز نظام متعارف کرکے یہ فیصلہ ہوا کہ ہر سیریز میں درج سوالات دوسری سیریز سے بالکل مختلف ہونگے۔رواں مہینے بارہویں جماعت کے امتحانات شروع ہوئے توطلبہ کے اْس وقت ہوش اڑ گئے جب انہوں نے ایک امتحانی مرکز میں مختلف سیریز کے سوالنامے دیکھ لئے۔ کئی طلبہ نے بتایا کہ اس ’سیریز‘ نظام کی وجہ سے کئی میرٹ ہولڈر امتحان پاس کرنے میں دشواریاں محسوس کررہے ہیں۔یہ پہلا موقعہ نہیں ہے جب بورڈ پر امتحانی پرچے نصاب سے باہر یا گنجلک بنانے کا الزا م لگاہو بلکہ ماضی میں تواتر کے ساتھ ایسی شکایات سامنے آتی رہی ہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ہر امتحان میں اس طرح کی شکایات سامنے آتی ہیں تو بیجا نہ ہوگا۔نیو کانونٹ ہائی سکول گوگجی باغ میں امتحان دے رہے کامرس کے ایک طالب علم نے کہا’’اکنامکس Zسیریز کا پرچہ اتنا سخت تھا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی طالب علم نے پورا پرچہ حل کیا ہو‘‘۔مذکورہ طالب علم کے مطابق کامرس پرچہ تواِس سے بدتر تھا ،جو نہ صرف انتہائی طویل بلکہ نصاب سے بالکل باہر اور سخت تھا۔اِس طالب کا کہنا تھا کہ اْس نے دسویں جماعت میں96فیصد نمبرات سے امتحان پاس کیا ہے لیکن آج اگر50فیصد بھی ملیں گے تو میرے لئے خوشی کی بات ہوگی۔وہ طلبہ جنہیں فزیکس مضمون میں XاورZسیریز کے پرچے ملے تھے ،وہ بھی یہی رونا رورہے ہیں۔خالد شاہ نامی ایک طالب علم نے کہا ’’بورڈ کیلئے سبھی طلبہ ایک جیسے ہیں،تو پھر یہ دورخی پالیسی کیوں؟‘‘۔ خالد نے مزید کہا ’’یہ سیریز نظام جب سے متعارف ہوئی ہے تب سے طلبہ کو محنت کی ضرورت نہیں بلکہ قسمت کا ساتھ چاہئے‘‘۔محمد امین جس کا فرزند بھی کانونٹ ہائی سکول گوگجی باغ میں ہی امتحان دے رہا ہے،کا کہنا ہے’’ جہاں تک اس سیریز نظام کا تعلق ہے تو اس کا تعلق براہ راست امتحانی پرچے مرتب کرنے والے ماہرین کی کمیٹی سے ہے‘‘۔محمد امین نے کہا’’ بورڈ کے ذمہ داران قطعی طور یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس میں ان کا کوئی رول نہیں ہے کیونکہ امتحانات کیلئے سوالی پرچے ترتیب دینے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہوتا ہے کہ طالب علموں کو انتہائی مشکل ترین گتھیوں میں الجھا کر انہیں شکست کے احساس سے دوچار کیا جائے بلکہ سوالنامہ ترتیب دیتے وقت یہ بات ذہن نشین کرلینی ہوتی ہے کہ ممتحن کو طالب علموں کی ذہنی صلاحیتوں اور نصاب مکمل کرنے میں محنت اور لگن کی جانچ کرنی ہوتی ہے‘‘۔محمد سعید جس کی بیٹی بھی بارہویں جماعت کا امتحان دے رہی ہے ،نے بتایا’’ مختلف سیریز کے سوالنامے مختلف ماہرین نے ترتیب دئے ہونگے اور ہر ترتیب کارنے اپنے معیار کے مطابق سوالنامہ ترتیب دیا ہوگا۔ایسی صورتحال میں جب ترتیب کاروں کے درمیان تال میل کا کوئی انتظام نہ ہو ،تو اس بات کے کافی امکانات رہتے ہیں کہ کوئی سوالنامہ آسان تو کوئی ذرا مشکل اور کوئی طویل بن جائے، بالکل ایسا ہی ہوا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’سیریز نظام کے خلاف کوئی نہیں ہے تاہم انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام سوالنامے یکساں معیار کے ہوں‘‘۔اس سلسلے میں جب بورڈ انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان شکایات کا ازالہ کرنے کیلئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔سیکریٹری بورڈ وینا پنڈتا نے بتایا ’’ جن طالب علموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ،وہ ہمارے دفتر کو آگاہ کریں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’اگر یہ ایک برا مسئلہ ثابت ہوا اور ہمیں کافی تعداد میں شکایات موصول ہوگئیں تو ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس معاملے کی تحقیقات کرے گی‘‘۔بورڈ سیکریٹری کے مطابق اگر کمیٹی کو لگا کہ طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوگئی ہے تو اصلاحی اقدامات کئے جائیں گے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: