سیلاب کے خوف نے تاجروں کو سراسیمہ کردیا

Lalchowkسیلابی صورتحال سے جہاں وادی بھرمیں خوف و ہراس کی لہر پائی جارہی ہے وہیں شہر سرینگر کے لال چوک اور سول لائنز کے دیگر بازاروں میں دکانداروں کیلئے یہ صورتحال کسی عذاب سے کم ثابت نہیں ہوئی۔واضح رہے کہ ستمبر2014میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد شہر کے اکثر دکاندار ابھی اپنی دکانیں سجانے اور سنوارنے میں ہی مصروف تھے کہ اتوار کو شروع ہوئی موسلا دھار بارشوں کی شدت دیکھ کر اُنہیں اپنی دکانوں سے سارا مال نکال کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا پڑا۔

سیلابی صورتحال سے اضطرابی کیفیت کا حال یہ تھا کہ نہ صرف اتوار بلکہ اتوار اورمنگل کی درمیانی رات کو بھی شہر کے اکثر بازاروں میں دکاندار اپنی دکانوں سے مال نکالنے میں مصروف رہے۔گونی کھن بازار کے ایک دکاندار محمد صادق نے بتایا کہ اُس نے اپنے فرزند کو لیکر دوران شب ہی اپنی دکان خالی کردی۔صادق نے کہا’’میں نے ایک ہفتہ قبل ہی اپنی دکان سجائی تھی کیونکہ گذشتہ سال کے سیلاب کے دوران میری دکان میں موجود سارا مال تباہ ہوگیا تھا‘‘۔صادق کے مطابق پرانے زخم ابھی تازہ ہی تھے اسلئے مال دکان میں چھوڑ نے کی ہمت نہیں جُٹاپائے۔لالچوک میں الیکٹرانک سامان کا کاروبار کررہے ایک دکاندار خورشید احمد نے بھی دیگر کئی دکانداروں کی طرح دکان خالی کرنے کو ہی ترجیح دی۔خورشید نے کہا’’ہم نے گذشتہ سال تباہی دیکھی ہے اور حکومت کے ’بازآبادکاری ‘ بھی ، اسلئے نہ صرف میں نے بلکہ متعدد دکانداروں نے اپنی دکانیں خالی کرنے میں عافیت سمجھ لی‘‘۔یہی صورتحال پائین شہر میں بھی دیکھنے کو ملی۔خانیارمیں آستان عالیہ کے قریب ایک دکاندار اپنے بچوں کی مدد سے سامان لوڈ کیرئر میں بھر نے میں مصروف دکھائی دیا۔یہ پوچھنے پر کہ آپ اس مال کو کہاں لے جارہے ہیں تو اُ س نے یہ کہہ کر خاموش کردیا کہ آپ اگر اخبار میں لکھنے کیلئے پوچھ رہے ہیں تو سن لو ’’میں حکومت کو اپنی دکان کی تباہی پہ رونے کا موقع نہیں دینا چاہتا ہوں کیونکہ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ہماری برادری گذشتہ سال کے سیلاب میں تباہ ہوگئی اور حکومت نے صرف یقین دہانیوں پہ ہی اکتفا کیا‘‘۔واضح رہے کہ موسلادھار بارشوں کی وجہ سے وادی میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے شہر ودیہات میں لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سرینگر شہر سمیت وادی میں متعدد مقامات پر بارشوں کا جمع شدہ پانی بستیوں میں داخل ہوگیا ہے۔

Advertisements

2 Responses to سیلاب کے خوف نے تاجروں کو سراسیمہ کردیا

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    امتیاز خان صاحب ۔ السلام علیکم ۔ میں آپ کی تحاریر پڑھتا رہتا ہوں ۔ آج ایک سوال میرے ذہن میں ہے ۔ سرینگر میں سیلاب کی وجوہات کیا ہیں ؟ جتنی بارش اب سرینگر میں ہوتی ہے آج سے چار دہائیاں قبل تک اس سے کہیں زیادہ ہوتی تھی وقتی طور پر سڑکوں پراتنا پانی بہتا تھا کہ بچہ لوگ اس مین نہانے لگتے تھے لیکن سیلاب آنا یا گھروں اور دکانوں میں پانی گھسنے کا کبھی سنا نہیں تھا
    http://www.theajmals.com

    • imtiyazkhan نے کہا:

      وعلیکم اسلام
      محترم افتخار صاحب سرینگر میں سیلاب کی اگرچہ کئی وجوہات ہیں تاہم سب سے بڑی وجہ آبی گذرگاہوں کا ناپید ہونا اور غیر منصوبہ بند رہائشی کالونیوں کی تعمیر ہے۔ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ جہلم اورمعاون ندیوں کی ڈریجنگ دہائیوں سے نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے جہلم سمیت تمام ندی نالوں کی گہرائی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سیلابی پانی کی نکاسی کیلئے موجود فلڈ چینلوں کا حلیہ ہی بگاڑ دیا گیا ہے۔جب پانی کے بہاؤ کے فطری راستے بند ہوں تو گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہونا کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: