کشمیر سیاسی مسئلہ:مفتی سعید

mufti-sayeedجموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے کشمیر کو ایک سیاسی قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس کے حل کے لئے تمام متعلقین کواعتماد میں لینا ضروری ہے۔ انہوں نے ترال واقعہ کو بد قسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ چھتر گام واقعہ کی طرح اس کی نہ صرف تحقیقات کی جائے گی بلکہ اصل حقیقت کاپتہ لگایا جائے گا۔ مفتی سعید گذشتہ سال کے سیلاب سے متاثر ہوئے تاجروں اور دکانداروں میں امدادی چکیں تقسیم کرنے کے حوالے سے سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس پر غیر یقینیت کا ماحول تب ہی ختم کیا جاسکتا ہے جب تمام متعلقین کو اعتماد میں لیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا ’’ میں اْن(حریت) کے لوگوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں آپ کا نقطہ نظر سمجھتا ہوں، اُسے بھی مان لینا چاہئے،ان کے ساتھ بھی بات چیت ہونی چایئے۔پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی ضروری ہیں کیونکہ ہمیں پاکستان بھی چایئے‘‘۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ جو لوگ سسٹم کے اندرہیںیا باہر ،سب کو ساتھ لے کر چلا جائے گا۔ گزشتہ 50 برسوں کو جموں و کشمیر کیلئے مشکل ترین قرار دیتے ہوئے مفتی محمد سعید نے کہا کہ ریاست کو سیاسی غیر یقینیت سے باہر نکالنے کیلئے راستوں کی تلاش ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ترال میں فوجی کارروائی کے دوران ایک معصوم نوجوان کی ہلاکت کو بدقسمتی قرار دیا۔ان کا کہنا تھا’’میں اس واقعہ کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا، ایسا کرنا مناسب نہیں ہوگا،یہ واقعہ بد قسمتی ہے ، فوج کوصورتحال کے ساتھ مزید احتیاط سے نمٹنا چاہئے تھا‘‘۔انہوں نے کہا کہ نوجوان کی ہلاکت سے متعلق حالات و واقعات کے بارے میں حقائق منظر عام پر لائے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس واقعہ کے بارے میں بڈگام(چھتر گام چاڈورہ) میں پیش آئے واقعہ کی طرز پر چھان بین عمل میں لائی جائے گی جہاں فوج نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔انہوں نے کہا’’ہم اس واقعہ کے تعلق سے بھی سچائی کا پتہ لگائیں گے ، ایسے واقعات پیش نہیں آنے چاہئیں‘‘۔مفتی محمد سعید نے مزید کہا’’ماضی میں بھی تحقیقات کے احکامات دئے گئے ہیں ، ہم اِس کیس میں بھی سچ کا پتہ لگائیں گے، میں چاہتا ہوں کہ دوبارہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ میں 2 ماہ قبل ہی ریاست کا وزیر اعلیٰ منتخب ہوا اور مجھے اپنے مقاصد ہیں۔ سیاست کو ممکنات کا ہنر اور تضادات سے نپٹنے کا فن قرار دیتے ہوئے مفتی نے واضح کیا کہ امن عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ مفتی محمد سعید نے کہا کہ تمام فریقین اورمتعلقین کے ساتھ بامعنی مذاکراتی عمل شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2002 میں جب انہوں نے وزیر اعلیٰ کی کرسی سنبھالی تو کرگل سے کٹھوعہ تک قیام امن کیلئے کئی اقدامات اٹھائے۔ اس موقعے پر جنوبی اشیائی ملکوں کی تنظیم سارک کو مذاکراتی عمل میں پہل کی سیڑھی قرار دیتے ہوئے مفتی محمد سعید نے کہا کہ تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ امن عمل کو آگے بڑھایا جانا چاہئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ’ میرا مقصد وزیر اعلیٰ بننا نہیں بلکہ ریاست میں ایک جوابدہ سرکار قائم کرنا ہے‘۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: