’راہیں جدا جدا،موقف یکساں‘

گیلانی ، میرواعظ اور ملک 7سال بعد ایک ہی سٹیج پر
Geelani+Mirwaiz+Malikوسطی کشمیر کے نارہ بل بڈگام میں سات سال بعد جموں و کشمیر کے سرکردہ آزادی پسند رہنما سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک ایک ہی سٹیج پر نظر آئے۔ اس سے قبل 2008میں شرائن بورڈ ایجی ٹیشن کے دوران عیدگاہ چلو کال کے موقعہ پر تینوں لیڈران ایک ساتھ ایک ہی سٹیج پر نظر آئے تھے۔ تینوں آزادی پسند قائد ین نے سرینگر گلمرگ شاہراہ پر واقعہ نارہ بل نامی گاؤں میں پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہوئے 16سالہ طالب علم کے لواحقین سے غیر متوقع طور بیک وقت یکجہتی کا اظہارکیا۔واضح رہے کہ ترال میں فوج کے ہاتھوں ہوئی ہلاکتوں کے بعد ہڑتال اور مظاہروں کی کال کے بیچ سنیچر18اپریل کو نارہ بل میں پولیس فائرنگ سے ایک16سالہ طالب علم سہیل احمد صوفی جان بحق ہوگیا تھا۔اتوار کو اس واقعہ کے خلاف بڈگام ضلع کے مختلف علاقوں میں ہڑتال رہی۔اس واقعہ کے پیش نظر بیشتر مزاحتمی لیڈران کو نارہ بل جانے سے روکنے کیلئے خانہ نظر بند کیا گیا جبکہ محمدیاسین ملک کو حراست میں لیا گیا۔ پیر کی صبح جونہی نظر بند مزاحتمی لیڈران کوچھوڑ دیا گیا تو انہوں نے نارہ بل کا رْخ کیا۔تینوں لیڈران نے ایک ساتھ کچھ وقت مرحوم کے گھر پر ہی گزارا اور متاثرین کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔بعد میں مین چوک نارہ بل میں ایک جلسہ بھی منعقد ہوا ۔جلسے میں موجود لوگوں نے اسلام اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کئے جبکہ لیڈران نے سہیل احمد صوفی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تینوں لیڈران نے کہا کہ تحریک آزادی کے حوالے سے تمام آزادی پسندوں کا موقف یکساں ہے اور الگ الگ ہونے کے باوجود ہم آہنگی ہے۔اس موقعہ پر حریت کانفرنس(گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے قوم کو اپنا محاسبہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک لوگ اپنی کمزوریوں پر قابو نہیں پائیں گے تب تک آزادی کی منزل دور رہے گی اور نارہ بل اور ترال جیسے واقعات میں معصوم جوانیوں کا اتلاف بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے ریاست کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت کے لئے برابر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اِن دونوں میں کوئی تفاوت نہیں ہے۔گیلانی نے دسویں جماعت کے طالب علم سہیل احمد صوفی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ’’ جو لوگ ہندنواز افراد یا جماعتوں کا ساتھ دیتے ہیں اور الیکشن میں ووٹ ڈالتے ہیں، وہ ان بچوں کے خون کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور وہ قومی مجرم ہیں‘‘۔عمرعبداللہ اور مفتی سعید کو ایک جیسا قرار دیتے ہوئے بزرگ آزادی پسند لیڈرنے کہا کہ اقتدار کے حصول اور کرسی سے چمٹے رہنے کے سوا اِن کا کوئی ہدف نہیں ہے بلکہ انہیں اپنی قوم کے جینے مرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اتحاد کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ بھارت کے قبضے اور الیکشن کے حوالے سے تمام آزادی پسندوں کا موقف ایک جیسا ہے اور ان میں الگ ہونے کے باوجود اس حوالے سے ہم آہنگی ہے۔ حریت کانفرنس (ع)چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے فورسز کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کو ریاستی دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے اِس کی مذمت کی۔انہوں نے کہا’’ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری عوام کے جذبہ مزاحمت کو توڑنے کیلئے انسان کش قانون افسپا یعنی فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کے نام پر سرکاری فورسز کو یہاں کے لوگوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے‘‘ میرواعظ نے کہا ’’ جہاں بی جے پی اور جموں کشمیر کی ہند نواز جماعتیں کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر یکساں طور مصروف عمل ہیں ،وہیںآر ایس ایس جیسی فرقہ پرست تنظیم اپنے ہندتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھا کر ہمارے ملی تشخص اور اسلامی شناخت کو کمزور کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے‘‘۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معصوم جوانوں کا لہو بہانا فورسز کا ایک معمول بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نونہال اقوام کیلئے طاقت و قوت کا ذریعہ اور سر چشمہ ہوا کرتے ہیں لیکن’ ہمارے ان نونہالوں کو فورسز بے دریغ قتل کررہے ہیں اور یوں ہماری نسل کشی کی جارہی ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے قتل عام کو کوئی مہذب معاشرہ تسلیم نہیں کرسکتا۔سہیل احمد صوفی کے قتل ناحق کی مذمت کرتے ہوئے ملک نے کہا ’’ ابھی ترال کے شہداء خالد مظفر اور محمد یونس کا خون تازہ ہی تھا کہ ہمارے ایک اور معصوم کا لہو بہایا گیا‘‘۔فرنٹ چیئرمین نے جذباتی لہجے میں بھارت اور ریاستی حکمرانوں سے سوالیہ انداز میں کہا’’ آخر یہ قتل و غارت کب تک جاری رہے گی؟کب تک معصوموں کا لہو بے دریغ بہایا جاتا رہے گا؟ کب تک تحقیقات کے نام پر مظالم دبانے کی کوشش کی جاتی رہے گی؟‘‘۔انہوں نے کہا ’’ آزادی ہمارا بنیادی حق ہے اور تحریک آزادی کو اسکی مطلوبہ منزل مقصود تک پہنچانے کیلئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے‘‘۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: