حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

سرکاری زبان کی سرکاری سرپرستی میں برا حال سنجیدہ فکر افراد کیلئے باعث تشویش
bنوشتہ دیوار پڑھ لیں اردو کی موجودہ صورتحال کا نوحہ شہر کے ایک نامی سرکاری سکول کی دیواروں پر نظر آتا ہے جہاں کلاس رومز میں داخل ہونے سے قبل طلبا ’’عوامی اصلاح‘‘ سے متعارف ہوتے ہیں۔ ان دیواروں پر اردو کے عظیم شعراء کے اشعار اس طرح لکھے ہوئے ہیں کہ خود غالب ، اقبال، اوراستاد ذوق کی روحیں قبروں میں تڑپ رہی ہوں گی کہ ان کی شاعری کے ساتھ موجودہ نسل نے کیسا سلوک کیا ہے۔یہ معاملہ ایک سکول ہی نہیں بلکہ ساری ریاست میں جگہ جگہ دفاتر ،سکولوں اور محکمہ جات کے علاوہ شاہراہوں پر ایسے بورڈ نصب ہیں ،جن میں اردو املا کے ساتھ کھلم کھلا کھلواڑ کیا جاتا ہے۔aریاست جموں و کشمیر میں اردو سرکاری زبان ہے لیکن سچ ہر کوئی جانتا ہے کہ اس شیرین زبان جس کی نوشت خواند سے ہمارا ایک بہت بڑا طبقہ وابستہ ہے،کا دیس نکال ہوالیکن پھر بھی حکومت بار باریہ دعویٰ کرتی ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کیلے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو جلد ہی سرکار کو اپنی سفارشات پیش کرے گی اور اردو کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔ایسی کمیٹیوں کا حشر بھی ہمارے سامنے ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ سادہ لوح عوام اور اردو دوست حضرات اِس چھلاوے کا شکار بھی ہوتے ہیں۔سرکار کی ان کوششوں اور موجودہ صورتحال کے تناظر میں اردو زبان کے ماہرین ،ادیبوں اور اساتذہ نے مختلف خیالات کا اظہار کیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت نے چند برس قبل خورشید احمد گنائی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اور اس کمیٹی کے ذمہ یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ ریاست میں اردو اکیڈمی کے قیام اور اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کی سمت اپنی سفارشات پیش کرے گی۔کمیٹی کے ایک ممبر اور نامور شاعر و استاد ڈاکٹر لیاقت جعفری نے اس حوالے سے بتایا’’اس اشو پہ Debate کی اشد ضرورت ہے۔اردو کا درد رکھنے والوں اور قلمکاروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اِس زبان کی ترویج و بقاء کیلئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں‘‘۔اردو اشعار ،نصیحتوں اور دیگر تحاریر سے سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی دیواریں سجانا اگرچہ طلبا کیلئے کلاس رومز میں داخل ہونے سے قبل ایک اصلاحی عمل سمجھا جاتا تھا لیکن شہر کے ایک معروف سکولی عمارت کی باہری دیواروں پرچند اشعار ایسے لکھے گئے ہیں کہ انسان یہ سوچنے کیلئے مجبور ہوجاتا ہے کہ یا تو اس سکول میں کوئی اردو استاد نہیں ہوگا یا اس کام کومکمل کرنے کیلئے کسی پینٹر کو ٹھیکہ دیا گیا ہو۔شائد مذکورہ سکول کے اساتذہ کی نظر ان اشعار کی طرف نہیں گئی ہے یا دیکھنے کے باوجود کبھی سدھار کی کوشش نہیں کی ہے۔ایک شعر اسطرح لکھا گیا ہے’’اب تو گھبراکے کہتے ہیں کہ مر ہی جائیں،مر کے چین نہ آیاجائیں کدھر کو ہم۔‘‘ایک اور شعر اس طرح لکھا گیا ہے’’فرد قائیم رابط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں،موج ہے دریا کے اندربیرون دریا کچھ نہیں‘‘۔اس طرح کی غلطیاں جب تعلیمی اداروں سے سرزدہوں توپھر دیگر شعبے اگر معذرت کو ’’ماذرت‘‘ ،انعامات ’’انامات ‘‘، معروف ’’ماروف ‘‘، طویل کو ’’تویل‘‘،مذمت ’’مزمت ‘‘کیوں نہ لکھیں۔ کہیں پھر اس طرح کے ’خوبصورت‘ اردو جملے بھی پڑھنے کو ملتے ہیں ’’وادی میں غیر معیاری غذائی اجناس خاص کر بڑے شاپنگ مالو اور بڑے بڑے ہوٹلوں کے ریسٹورنٹ اور مغل باغات کے ارد گرد پھیلے غذئی اجناس فروخت کرنے والے دکانداروں کی آماجگاہ بن گئی ہے‘‘۔ اس طرح کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے شاعراوربذات خودایک استاد اور نقاد ڈاکٹر نذیر آزادکہتے ہیں کہ اساتذہ کیلئے ریفرشر کورسز کی ضرورت ہے اور ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو سکولوں و کالجوں میں درس وتدریس کے عمل پر نظر گزر رکھنے کے ساتھ ساتھ اردو سے متعلق ہورڈنگ یااشتہارات پر بھی نظرگذر رکھیں گے۔ماہرین زبان کے بقول اردو انتہائی ثروت مند زبان ہے کیونکہ اس میں انتہا درجہ کی لچک یعنی خیالات ،جذبات اور افکار کے اظہار میں بلاغت وفصاحت اور دیگر زبانوں کے الفاظ سمونے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔جموں یونیورسٹی کے سابق رجسٹرار پروفیسر ظہورالدین نے کہاکہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے کیونکہ یہاں ہر کوئی حرف آشنا اپنے آپ کو ماہر سمجھتا ہے اور جموں میں تویہ بیماری کچھ زیادہ ہی لگ چکی ہے جو ایک المیہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حد یہ ہے کہ انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرتے وقت کبھی اردو جاننے والوں سے مدد لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے۔پروفیسر موصوف کے مطابق سرکاری سطح پر کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں ہوا،صرف کمیٹیوں کی تشکیل پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا ’’میں خود کئی کمیٹیوں کا ممبر رہا ہوں ،ہم نے کئی سفارشات پیش کی ہیں لیکن وہ سفارشات سرکاری فائلوں میں دھول چاٹ رہی ہیں اسلئے صرف کمیٹیوں کی تشکیل نہیں بلکہ مضبوط اقدامات کی ضرورت ہے‘‘۔انہوں نے کہاکہ اردو ادیبوں اور اساتذہ کو اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے ا س ذمہ داری کو پورا کرناچاہئے اورہمارے اساتذہ اور ادباء کے پاس جو علم ہے اس کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ریاست میں اگرچہ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے لیکن عملاً یہ زبان اپنوں کے درمیان ہی کسمپرسی اور زوال کا شکار ہے۔کالم نویس اشفاق ملک کہتے ہیں ’’ جس زبان میں کسی قوم کا مذہبی، اخلاقی، سماجی، ثقافتی، علمی، تاریخی ورثہ محفوظ ہو اگر وہی زبان آنے والی نسلوں تک پہنچنے سے رہ جائے ،تو اس قوم کے ذہن و قلب کو غلامی کا طوق پہناناکسی دوسری قوم کے لیے چنداں مشکل نہ ہو گا‘‘۔اشفاق ملک مزید کہتے ہیں کہ’’ہم اوروں کی شکایت کیوں کریں ،خود ہمارارویہ اردو کے ساتھ مخلصانہ نہیں ہے۔میرے نزدیک اہم نکتہ یہ ہے کہ اردو کو اس کا اپنا مقام عطا کرنے اور دنیا کی دیگر زبانوں کے ہم پلہ بنانے کیلئے ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے۔ ہماری آزمائش اب شروع ہوچکی ہے کیونکہ اردو کی کشتی آج ایک صبر آزما طوفان سے گذر رہی ہے‘‘۔کئی اردوشناس لوگوں کا کہنا ہے کہ اردو کے ساتھ صریحاً زیادتی پر علمی و ادبی ادارے جس طرح مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ کسی ظلم سے کم نہیں۔ اردو کے ساتھ جو امتیاز آج برتا جارہا ہے وہ عام کشمیری کی سمجھ سے باہر ہے۔ مگر کچھ بھی ہو، اس زبان میں ہماری پہچان، ثقافت اور تہذیب ہی ڈھلی ہوئی نہیں ہے بلکہ ریاست کے مال، عدلیہ اور دیگر محکمہ جات کا ریکارڈ بھی اسی زبان میں درج ہے۔ اگر اس کے ساتھ ریاستی سرکار نے بے اعتنائی برتی تو لسانی نقصان کے علاوہ ہمیں ایک انتظامی بحران کا سامنا بھی کرنا پڑے گا جسے سلجھانے کے چکر میں سارا ریکارڈ کئی طرح کی الجھنوں کا شکار ہوکر عشروں تک درد سر بنا رہے گا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: