پشتینی باشندگی اسناد تنازعہ،حکومت پیچھے ہٹ گئی

Altaf Bukhariجموں و کشمیر میں پشتینی باشندگی اسناد (سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ ) اسکولوں میں جاری کرنے کے فیصلے پر تنازعہ کھڑا ہونے کے پیش نظر حکومت نے یہ عمل روک دینے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مستقل سکونت سے متعلق اسناد اجراء کرنے کا عمل قانونی طریقہ کارپرکیا جائے گا۔واضح رہے کہ ریاست میں قائم پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط سرکار کے وزیر مملکت برائے مال و آر اینڈ بی سنیل کمار شرما نے گزشتہ ماہ ایک تقریب کے دوران اعلان کیا کہ حکومت نے مستقل سکونت سے متعلق سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ(پی آر سی) اسکولوں کی سطح پر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پروجیکٹ کا آغاز باضابطہ کشتواڑ ضلع سے کیا گیا جہاں 17 اسکولوں کی طرف سے 500 کے قریب اسناد جاری کی گئیں۔شرما نے یہ بھی بتایا کہ بہت جلد یہ پروگرام تمام سرکاری اسکولوں میں روبہ عمل لایا جائے گااور اس کا مقصد مذکورہ اسناد کے حصول کے سلسلے میں بچوں کا درپیش مشکلات کا ازالہ کرنا ہے۔ تاہم وزیرموصوف سنیل شرما جن کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے، کے اس بیان پر مزاحتمی تنظیموں کے ساتھ ساتھ ہند نواز سیاسی پارٹیوں اور آزاد ممبران اسمبلی نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر ریاستی شہریوں کو جموں کشمیر کی سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ فراہم کرنے کی ایک سازش سے تعبیر کیا۔

اس تنازعہ نے اْس وقت سنگین رخ اختیار کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک ممبر اسمبلی نے جموں میں منعقدہ تقریب کے دوران اس طرح کی درجنوں اسناد تقسیم کیں۔ اس معاملے کو لیکر متنازعہ صورتحال پیدا ہونے کے بعد حکومت نے اسکولوں سے مستقل سکونت سے متعلق اسناد کا عمل روک دینے کا اعلان کیا ہے۔ریاستی وزیرتعمیرات الطاف احمد بخاری نے اس بات کی تصدیق کی کہ جموں میں 40سے50سٹیٹ سبجیکٹ اسناد چھان بین کے بعد درست پائی گئیں جو متعلقہ تحصیلداروں اورضلع کمشنروں کے ذریعے جاری کی گئی ہیں۔ سنیچر کو سرینگر میں نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران بخاری نے واضح کیا کہ پشتینی باشندگی اسناد کو اجراء کرنے میں قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا اور یہ اسناد اب تعلیمی اداروں میں جاری نہیں کی جائیں گی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا’’اس معاملے پر کوئی تنازعہ نہیں ہے ، ہم سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ صرف قانونی طریقہ کار کے تحت جاری کریں گے ‘‘۔انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ مخلوط سرکار کے پاس کم تجربہ ہے تاہم یہ اقدام غیر دانستہ طور پر اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ کچھ 40 سے 50 اسنادتقسیم کی گئی ہیں جو مجاز اتھارٹی کی طرف سے جاری کی گئی ہیں‘‘۔قابل ذکر ہے کہ حکومت کے اس اعلان کے بعدوادی میں یہ بحث چھڑگئی ہے کہ پی ڈی پی-بی جے پی مخلوط سرکار کو پشتینی باشندگی اسناد کی فراہمی کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ہے؟ یاد رہے کہ حکومت میں شامل پی ڈی پی اور بی جے پی کے وزراء اس حوالے سے الگ الگ بولیاں بولنے لگے تھے۔ ایک طرف وزیر مال جاویدمصطفی میر( پی ڈی پی)نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت کے پاس ان اسناد کی فراہمی کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن دوسری جانب جموں خطہ کے کشتواڑ قصبہ میں ایک سکول میں وزیر مملکت برائے مال سنیل شرما (بی جے پی)نے سٹیٹ سبجیکٹ اسناد وہاں زیر تعلیم بچوں میں فراہم کیں۔ جانکار حلقوں کے مطابق یہ دو عملی فہم و فراست سے قطعی باہرہے۔یاد رہے کہ 20اپریل 1927کو ریاست کے سابق مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت میں نافذ کئے گئے اس قانون کو لانے کے پیچھے بنیادی طور پر وہی خدشات کارفرما رہے ہیں، جنکا کا اظہار اس وقت کیا جارہاہے۔ چونکہ اْس زمانے میں جموں وکشمیر کی افسر شاہی میں متصل ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور مہاراجہ کی حکومت کو یہ خدشہ لاحق ہوا تھا کہ وہ ریاست کے اندر باشندگی اختیار کرنے سے نہ صرف یہاں کے آبادیاتی تناسب کو بگاڑ نے کا سبب بن سکتے ہیں بلکہ یہاں معیشت پر بھی مقامی لوگوں کے مفادات پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ شخصی راج میں بھی اِس قانون کی شدت کے ساتھ حفاظت کی گئی لیکن 1947کے بعد کئی حلقوں نے اس قانون کے خاتمے کے منصوبے باندھے ، جن میں موجودہ بی جے پی کی پیش رو جماعت جن سنگھ اور اس کی سرپرست آ ر ایس ایس بھی شامل ہے۔ لہٰذا اگربھارتیہ جتنا پارٹی، جو ریاست میں اس وقت حکومت کا ایک حصہ ہے، اس کے حوالے سے کوئی رائے ظاہر کرتی ہے تو اسے یوں ہی نظرانداز کرناکسی بھی طرح درست نہیں ہوسکتا۔واضح رہے کہ جموں خطہ میں اس قانون کی خلاف ورزی کے حوالے سے پہلے ہی لاتعداد رپورٹ موجود ہیں، جن میں محکمہ مال کے ملازمین کے ساتھ ملی بھگت کرکے ہزاروں کی تعداد میں غیر ریاستی باشندگان نے پشتینی باشندہ ہونے کی اسناد حاصل کی ہیں۔ ریاستی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا تھا اور حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ 26اپریل1999کو جعلی اسناد کی تحقیقات کیلئے تشکیل دئے گئے تحقیقاتی کمیشن کے پاس 14برسوں میں 3ہزار سے زائدشکایات موصول ہوئیں تاہم صرف 550شکایات پر ہی کارروائی ہوئی۔اس پر طرہ یہ کہ ان550 میں سے بھی صرف 40شکایات کوہی غلط پایا گیا لیکن صرف28شکایات پر عملدرآمد کرکے ان کے سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کیلئے نوٹس جاری کر دئے گئے۔اسی طرح20اپریل2012کوبھی کمیشن نے 340شکایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے نوٹس جاری کئے اور ان کی مستقل باشندگی کو غیر قانونی قرار دیا تاہم یہ نوٹس بھی کوئی کام نہ کرسکا۔ اسٹیٹ سبجیکٹ قانون ریاستی تشخص کا ایک اہم عنصر ہے اور اگراس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برتنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج ریاست کے مستقبل کے لئے نہایت خطرناک ہوسکتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: