سوپور میں چوتھا پُراسرار قتل ۔۔۔!

aijazشمالی قصبہ سوپور کے بادام باغ علاقے میں اتوار کی صبح معراج الدین کے قتل کے خون کے دھبے ابھی خشک بھی نہیں ہوئے تھے کہ قصبہ کے مضافات میں ٹارگٹ کلنگ کی ایک اور دلدوز واردات رونما ہوئی۔ چوبیس گھنٹوں میں دوسری اور چار دن میں چھوتی ہلاکت سے شمالی کشمیر میں خوف و دہشت کی فضا قائم ہوگئی ہے۔22دنوں میں یہ سوپور میں چھٹی ہلاکت ہے۔اس ہلاکت کے خلاف سوپور اور بارہمولہ میں شدید احتجاج ہوا اور پر تشدد واقعات بھی پیش آئے۔پیر کی صبح ساڑھے8بجے سابق جنگجو اعجاز احمد ریشی ولد عبدالرحیم اپنے گھر کے باہر ایک کلینکل لیبارٹری کے سامنے بیٹھے تھے کہ دو نا معلوم اسلحہ برداروں نے اْن پر نزدیک سے گولیاں چلائیں جن سے وہ جاں بحق ہو گئے۔عینی شاہدین کے مطابق لیبارٹری کے اندر موجود دو مقامی نوجوانوں نے اعجاز کو گرتے دیکھا اور وہ اْنہیں اسپتال لے گئے جہاں اْنہیں مْردہ قرار دیا گیا۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ اعجاز اسپتال پہنچانے سے قبل ہی دم توڑ چکے تھے۔اْنہوں نے کہا کہ مقتول کو کئی گولیاں لگ چْکی تھیں۔ معلوم ہوا ہے کہ جس وقت اعجاز احمد پر گولیاں چلائی گئیں اس وقت وہاں ایک آوارہ کتے نے حملہ آوروں پر حملہ کیا۔ بعض مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کتے کے حملے میں ایک حملہ آور زخمی بھی ہوا جس کے بعد اسلحہ برداروں نے آوارہ کتے کو بھی گولی کا نشانہ بنایا۔35سالہ اعجاز احمد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ عسکریت کی شروعات میں وہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ساتھ وابستہ تھے تاہم بعداذاں اْنہوں نے اپنا کاروبار شروع کیا تھا اور وہ ابھی دکانداری کرکے اپنا روزگار چلا رہے تھے۔وہ تین بیٹوں سمیت چار بچوں کے باپ تھے۔واردات کے فوراً بعد پولیس اور فورسز کے دستے علاقے میں نمودار ہوئے اور حملہ آوروں کی تلاش میں نزدیکی علاقوں کو محاصرے میں لیا تاہم ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملا۔اسی دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد گھروں سے باہر آئی اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے اعجاز کی ہلاکت کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو افراد کو دیکھا جو اس واقعہ میں ملوث تھے لیکن انکا پیچھا کرنے کے دوران انہوں نے ہوا میں گولیاں چلائیں اور رفو چکر ہوگئے۔اس ہلاکت کی خبر پورے قصبے میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی جس کے بعد تمام دکانیں اور کاروباری ادارے احتجاج کے بطور بند کردئے گئے اور لوگوں نے اس ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ مین چوک، عشہ پیر کراسنگ اور چھانہ کھن علاقوں میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد کافی دیر تک پر تشدد کاروائیاں ہوتی رہیں۔ادھر سنگرامہ میں گاڑیوں پر پتھراؤ کے بعد پولیس کو مداخلت کرنا پڑی اور وہاں فورسز اہلکار تعینات کردئے گئے۔سوموار کو ہر طرح کی کاروباری اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں اور اس دوران لوگوں میں خوف و ہراس پایا گیا۔پے در پے شہری ہلاکتوں کے بعدقصبے میں پولیس اور فورسز کی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ادھر بارہمولہ میں اعجاز احمد ریشی کی ٹارگٹ کلنگ کی خبر پھیلتے ہی نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نکل آئیں اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی شروع کی۔مشتعل نوجوانوں نے دکانوں اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں پورے قصبے میں اتھل پتھل کے بیچ آناً فاناً ہڑتال کی گئی۔پولیس نے جب مین چوک سے مشتعل نوجوانوں کو ہٹانے کی کوشش کی تو انہوں نے پتھراؤ شروع کیا جس کے جواب میں مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا گیا اور اشک آور گیس کے گولے داغے گئے۔اس طرح قصبے میں پورا دن ہڑتال کے بیچ صورتحال کشیدہ رہی جبکہ پولیس ومظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بھی کافی دیر تک جاری رہا۔بارہمولہ میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔قابل ذکر ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا چوتھا قتل تھا کہ ہفتے بھر سے نامعلوم اور پْراسرار بندوق بردار سوپور اور اسکے مضافات میں عام لوگوں کا قتل کرتے پھر رہے ہیں۔اس سے قبل نیو کالونی سوپور،بومئی اور بادام باغ علاقہ میں تین افراد کا قتل کیا گیا ہے۔ پولس جنگجوﺅں کے ایک منحرف گروہ کو ذمہ دار قرار دے رہی ہے جبکہ علیٰحدگی پسندوں اور عام لوگوں کا سرکاری ایجنسیوں پر شک ہے۔ صرف ایک ہفتے کے اندر ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ کی چوتھی واردات پیش آئی اور کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی جس کے نتیجے میں سوپور قصبہ اور اسکے گردونواح کے علاقوں میں سنسنی اور خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ قصبہ میں اس قدر دہشت کا ماحول ہے کہ شام چھ بجے سے ہی بازاروں کی دکانیں اور کاروباری ادارے بند ہونا شروع ہوتے ہیں اور گاڑیاں سڑکوں سے غائب ہونے لگتی ہیں جس کے نتیجے میں نماز مغرب سے پہلے ہی سڑکیں سنسان اور بازار ویران نظر آتے ہیں۔شام ہوتے ہی عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا لوگ کھڑکی دروازے بند کرکے اپنے گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ٹارگٹ کلنگ کا نیا رجحان اگر چہ ابھی تک سوپور قصبے تک ہی محدود ہے لیکن ان واقعات نے پوری وادی کو خوفزدہ کردیا ہے اور عوامی حلقوں میں اس پر شدید غم و غصے کے ساتھ ساتھ تشویش کا اظہارکیا جارہا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: