پہلے تحقیقات پھر اعزازات

کشمیر کے مختلف علاقوں میں 2013سے مارچ 2015تک فورسز کے ساتھ ہوئی 29 جھڑپوں کی مجسٹریٹ کے ذریعے تحقیقات کا معاملہ طول پکڑتا جارہاہے۔جھڑپوں کی تحقیقات کامعاملہ اس وقت دلچسپی اختیار کر گیا جب وادی میں 2012میں مڑھل ایک جھڑپ ہوئی جو بعد میں فرضی ثابت ہوئی اور اسکے بعد منی پور ، تری پورہ اور میگالیہ میں اسی طرح کی فرضی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

ان واقعات کے بعد قومی انسانی حقوق کمیشن نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی۔اس عرضی میں عدالت عظمیٰ سے اپیل کی گئی کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں پولیس کے جن افسران یا جوانوں کو صدارتی اعزازات کے لئے سفارش کی جاتی ہے وہ صرف ضلع پولیس افسر کی سفارش کو مد نظر رکھ کر ہی کی جاتی ہے جس کی نہ تو کوئی تحقیقات ہوتی ہے کہ آیا جھڑپ ہوئی بھی ہے یا نہیں یا مذکورہ جھڑپ فرضی ہوئی یا اصلی۔عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی ریاستوں میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات( افسپا) کا قانون لاگو ہے اس لئے حقایق منظر عام پر جلدی سے نہیں آتے اور کئی واقعات بعد میں فرضی ثابت ہوجاتے ہیں جو ریاست کی بدنامی کے باعث بنتے ہیں۔سپریم کورٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور مرکزی وزارت داخلہ سے جواب طلب کیا، جس میں مرکزی وزارت داخلہ نے عدالت عظمیٰ کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ ہرایک جھڑپ ، جس کے بعد کسی افسر کو صدارتی تمغہ کے لئے سفارش کی جائے، متعلقہ ضلع مجسٹریٹ انکوائری کرے جس کے بعد ہی مذکورہ افسر کی سفارش کی جائے گی۔باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایسے معاملات کے لئے قومی انسانی حقوق کمیشن کے وضع کردہ قواعد و ضوابط کو قانون کے مطابق قرار دیا اور مرکزی وزارت داخلہ کو اس بات کا پابند بنایا کہ وہ ملک کی تمام ریاستوں کے لئے ایسے وضع کردہ اصولوں پرچلنے کا پابند بنائے۔چنانچہ مرکز نے تمام ریاستوں کے لئے ایک سرکیولر جاری کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ صدارتی تمغے حاصل کرنے سے قبل ہر ایک ایسی جھڑپ کی تحقیقات کی جائے جس کے لئے کسی پولیس افسر کی سفارش کی جائے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ریاستی محکمہ داخلہ نے اس طرح کی 29جھڑپوں کی نشاندہی کی، جس میں شرکت کرنے والے پولیس افسران کو صدارتی تمغوں کے لئے سفارش کی گئی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے ڈویڑنل کمشنر کشمیر کے نام ایک خط روانہ کیا گیا جس میں ان سے کہاگیا کہ وہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کو اس معاملے میں تعاون کرنے کے لئے کہے۔صوبائی کمشنر کی جانب سے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو خطوط روانہ کئے جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ ہر معاملے کی تحقیقات قومی انسانی حقوق کمیشن کے وضع کردہ اصولوں کی بنیاد پر کریں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں اگرچہ29جھڑپوں کی تحقیقات ہورہی ہے لیکن ان میں سے درد پورہ لولاب میں 24فروری2014کو ہوئی جھڑپ کے بارے میں خود کپوارہ پولیس نے تحقیقات کرنے کے لئے کہا ہے جس میں سات جنگجو مارے گئے تھے۔اب سننے میں آرہا ہے کہ کئی انکوائری آفیسر ایسی جھڑپوں کی تحقیقات کرنے میں اس لئے لیت و لعل کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ یہ واقعات بہت پرانے ہیں اس لئے وہ انصاف نہیں کرسکتے۔تاہم کئی جھڑپوں کی تحقیقات مکمل بھی ہوئی ہے۔ریاستی محکمہ داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ21مارچ 2015کو انکی جانب سے ڈیڑنل کشمیر کے نام ایک چٹھی ارسال کی گئی تھی اور اسی دن تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں اور ایس ایس پیز کو اس چٹھی کی نقل ارسال ہوئی۔انکا کہنا تھا کہ اس طرح کی تحقیقات صرف کشمیر یا ریاست میں ہی نہیں ہورہی ہے بلکہ پورے ملک میں اس عمل کو دہرایا جارہا ہے ، لہذا یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں۔ البتہ عوامی حلقوں میں یہ بحث کی جارہی ہے کہ جو صدارتی تمغات پہلے دئے گئے تھے کیا وہ شک کے دائرے میں نہیں آتے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: