سوپور میں خوف و ہراس برقرار ، کئی مقامات پر احتجاج

پولیس کی طرف سے پوسٹر چسپاں ،دو جنگجوؤں کے ملوث ہونے کا دعویٰ

شمالی قصبہ سوپور میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں پْراسرار ہلاکتوں کے بعد صورتحال بدستور کشیدہ بنی ہوئی ہے اورعلاقے میں تیسرے دن بھی ہڑتال رہی۔اس دوران پولیس نے حالیہ ہلاکتوں میں مبینہ طور ملوث2 جنگجوؤں کی شناخت کا دعویٰ کرتے ہوئے سوپور اور اس کے مضافات میں پوسٹر چسپاں کئے ہیں جن میں اِن (جنگجوؤں)کے سروں پر20 لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا گیاہے۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ لشکر اسلام حزب المجاہدین کاایک ’باغی گروپ‘ہے جو سوپور میں مواصلاتی تنصیبات پر حملوں اور ان کے بعد شہری ہلاکتوں میں ملوث ہے۔ڈی آئی جی شمالی کشمیر غریب داس کے مطابق پولیس ان واقعات کی مسلسل تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہ ہلاکتیں ’بدلے کی کارروائی‘ کے تحت انجام دی جارہی ہیں اور ملوث جنگجوؤں کی بڑے پیمانے پر تلاش جاری ہے۔ منگل کو قصبہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں مسلسل تیسرے دن مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی حالانکہ کسی جماعت نے ہڑتال کی کال نہیں دی تھی۔ صبح ہوتے ہی نوجوانوں کی ٹولیوں نے آرمپورہ علاقے میں گاڑیوں پر پتھراؤ کرکے کئی گاڑیوں کے شیشے چکناچور کردئے جس کے بعد پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا۔اس موقعہ پر طرفین کے درمیان پتھراؤ، جوابی پتھراؤ اور ٹیر گیس شیلنگ کا سلسلہ کچھ دیر کیلئے جاری رہا۔مجموعی طور پر قصبے میں خوف و دہشت کا ماحول ہے اور پولیس و فورسز کی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا۔اس دوران پولیس کے کئی افسران نے قصبے کا دورہ کرکے تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سوپور میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے تناظر میں وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی طرف سے معیاد بند تحقیقات کے احکامات کے بعدداخلہ محکمہ کی طرف سے ہنگامی نوعیت کے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں پیر کی شب سوپور میں پولیس، فوج، خفیہ ایجنسیوں اور انتظامیہ کے سینئر افسران کی اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ڈی جی پولیس کے راجندار کمار ، فوج کی15ویں کور کے جی او سی لیفٹنٹ جنرل سوبرتا سوہا،آئی جی پی کشمیر سید جاوید مجتبیٰ گیلانی، ڈی آئی جی شمالی کشمیر غریب داس ،شمالی کشمیر میں تعینات پولیس افسران اور ڈپٹی کمشنر بارہمولہ پیرزادہ مشتاق احمدکے علاوہ سراغرساں اداروں کے ذمہ داروں نے شرکت کی۔میٹنگ میں صورتحال کا مجموعی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اب تک ہوئی تحقیقاتی پیش رفت اور آئندہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پیر کو منعقد ہونے والی میٹنگ میں بتایا گیا کہ اب تک کی چھان بین کے دوران مواصلاتی تنصیبات پر حملوں اور شہری ہلاکتوں میں قصبے میں سرگرم حزب المجاہدین کے ایک ’باغی گروپ‘ کے ملوث ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔تحقیقاتی افسران نے بتایا کہ مواصلاتی تنصیبات پر حملوں کو لیکر بعض حزب جنگجوؤں کا تنظیم کے اعلیٰ کمانڈروں بشمول حزب سربراہ سید صلاح الدین کے ساتھ اختلاف پیدا ہوگیا جس کے بعد انہوں نے لشکر اسلام کے نام سے اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا۔میٹنگ میں پولیس تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ باغی گروپ نے ’تحریک مخالف افراد‘کی ایک ہٹ لسٹ تنظیم کے اعلیٰ کمانڈروں کو بھیج دی تھی جس میں بعض حریت کارکنان کے نام بھی تھے لیکن اس لسٹ کو مسترد کیا گیا اور اب ’بدلے کی کارروائی‘ کے تحت ہلاکتوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ میں دوران چھان بین سامنے آنے والے جنگجوؤں کی تفاصیل منظر عام پر لانے اور اس کیلئے اشتہارات چسپاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا جسے عملی جامہ پہناتے ہوئے پولیس نے دوران شب قصبہ کے متعدد علاقوں میں دیواروں اور بجلی کے کھمبوں پردو الگ الگ پوسٹر چسپاں کئے۔ ان اشتہارات پر سرگرم حزب جنگجوؤں عبدالقیوم نجار عرف قیوم چھان ساکن بٹہ پورہ اور امتیاز احمد کندرو والد عبدالخالق ساکن کرالہ ٹینگ کی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔دونوں کو کئی حملوں اور ہلاکتوں میں ملوث قرار دیتے ہوئے پولیس نے ان جنگجوؤں کے بارے میں اطلا ع دینے والوں کیلئے دس دس لاکھ روپے کا نقد انعام دینے کابھی اعلان کیا ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: