سوپورچلو پروگرام آج،مزاحمتی لیڈران نظربند

حکام نے مزاحتمی قیادت کے سوپورچلوپروگرام کے پیش نظرجمعہ کو پائین شہر اور مائسمہ کے علاوہ دیگر کئی حساس علاقوں میں بندشیں رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پولیس کنٹرول روم میں جمعرات سہ پہر اعلیٰ پولیس افسران کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں سوپور کے علاوہ پلہالن، سنگرامہ اور پتوکھاہ کے ساتھ ساتھ بارہمولہ اور سوپور کے مضافاتی علاقوں میں بندشیں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم اس میٹنگ میں شہر سرینگر کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا البتہ شام کو ساڑھے آٹھ بجے ایک اور میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پائین شہر کے 5پولیس تھانوں کے علاوہ مائسمہ اور کرالہ کھڈ کے تحت آنے والے علاقوں کو بھی سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔جموں کشمیر پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ پائین شہر کے تمام پولیس تھانوں کو اس بارے میں مطلع کردیا گیا ہے اور دوران شب ہی سکیورٹی بڑھانے کے ساتھ ساتھ راستوں کو سیل کردیا جائے گا۔ اس دوران حریت قائدین سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق سمیت متعدد مزاحتمی لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند جبکہ کئی لیڈران کو باضابطہ گرفتار کیا گیا ہے جن میں لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ اورنیشنل فرنٹ چیئرمین نعیم احمد خان کے نام قابل ذکر ہیں۔سوپور میں عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مزاحتمی قائدین کی آپسی مشاورت کے بعدایک مشترکہ پروگرام کے تحت جمعہ کو’سوپور چلو‘ کی کال دی گئی ہے۔اس سلسلے میں حریت کانفرنس(گ) چیئرمین سید علی گیلانی، حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق، لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک اور فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ نے بذات خود جلسوں کی قیادت کرنے کا اعلان کیا ہے۔حریت لیڈران کا کہنا ہے کہ جمعہ کو سوپور میں مارے گئے شہریوں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے قصبے کی طرف مارچ کیا جائے گا۔اس سلسلے میں تمام مزاحتمی فورموں اور تنظیموں کو ریلی کامیاب بنانے کی ہدایت دی گئی اور معلوم ہوا ہے کہ مختلف تنظیموں نے مختلف اضلاع سے اپنے کارکنوں کو ریلی میں شرکت کرنے کیلئے سوپور بھیجنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔تاہم معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے سوپور میں ریلی منعقد کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اوراس مقصد کیلئے کئی علاقوں میں پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ بیشتر مزاحمتی لیڈران کو نظر بند کیا گیاہے۔ نقص امن کے خدشات کے پیش نظراس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ امن وقانون برقراررکھنے کیلئے سوپور میں لوگوں کی نقل و حرکت محدود کردی جائے تاکہ حریت کارکنوں کو جمع ہونے کا موقعہ نہ ملے۔بعض علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لائے جانے کا امکان بھی ہے۔ پولیس نے گزشتہ دنوں سے اس مقصد کیلئے کئی علاقوں میں چھاپے بھی مارے اور متعدد علیحدگی پسند کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔اس ضمن میں ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ پیر زادہ مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ اگر نقص امن کا خدشہ ہوا تو حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔ادھر سوپور چلو کے پیش نظرمیرواعظ عمر فاروق کوجمعرات کے روز ہی انکی نگین رہائش گاہ پر خانہ نظر بندکیا گیا۔ سید علی گیلانی اور تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی سمیت متعدد لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا گیا جبکہ محمد یاسین ملک کو ایک روز قبل ہی گرفتار کیا گیا اور شبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان کو نظر بندی کے دوران ہی حراست میں لیکر کسی نامعلوم جگہ پر منتقل کیا گیا ہے۔

Advertisements

One Response to سوپورچلو پروگرام آج،مزاحمتی لیڈران نظربند

  1. Rex نے کہا:

    If some one desires to be updated with newest technologies
    then he must be go to see this web site and be up to date daily.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: