مژھل۔۔۔دور جدید میں بھی سائنسی برکات اورالتفات سے محروم

Machilعصر حاضر میں جہاں سڑکوں کو رگِ حیات کی حیثیت حاصل ہے وہیں بجلی ، تعلیم اور طبی سہولیات کے بغیرکسی بھی انسانی معاشرے کو مکمل نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ ریاست کا مژھل ایسا ہی ایک علاقہ ہے جہاں8پنچایتوں پر مشتمل 20ہزار کے قریب آبادی کیلئے صرف ایک پرائمری ہیلتھ سینٹراورایک ہائر سیکنڈری سکو ل ہے۔بجلی سپلائی صرف ایک جنریٹر کے ذریعے فراہم ہوتی ہے وہ بھی چوبیس گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے اور سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔کشمیر کے اِس دور اُفتاد علاقے میں پہنچنے کیلئے انسان کو کپوارہ سے 50کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے جو کلاروس سے زڈ گلی اورپھر زڈ گلی کے دشوار گذارراستے سے ہوتے ہوئے مژھل پہنچتا ہے۔زڈگلی ایک ایسا مقام ہے جہاں سے مژھل کی حدود شروع ہوتی ہیں ۔
سڑکیں
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن علاقوں میں پائیدار سڑکیں نہیں وہ اکیسویں صدی کے اس دور میں بھی پسماندگی کی آگ میں جھلس رہے ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ ترقی کی رفتار چھونے سے بھی ابھی کوسوں دور ہیں۔اس حقیقت سے منہ نہیں موڑا جاسکتا ہے کہ مضبوط سڑکوں اور شاہراؤں کی عدم موجودگی کی صورت میں کسی ملک یا علاقے کا تعلیمی، سماجی، معیشی اور معاشرتی نظام درہم برہم ہوکر رہ جاتا ہے۔مژھل ایک ایسا ہی علاقہ ہے جہاں اکثر سڑکوں کی حالت نہ صرف ناگفتہ بہ ہے بلکہ زڈ گلی سے مژھل تک سڑک کی حالت نہ صرف ناقابل سفر ہے بلکہ جان لیوا بھی ہے۔ اس ساری صورتحال کے نتیجے میں ٹرانسپورٹر اور عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔اہلیان مژھل کے مطابق اس سڑک کی خراب حالت کی وجہ سے عام لوگوں کو پیدل چلنا ایک مجبوری بن گئی ہے ۔فقیر محمد ساکن پچھواڑی نامی ایک شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ہمارا علاقہ چھ ماہ برف کی وجہ سے دنیا سے ہی نہیں بلکہ کپوارہ سے بھی کٹا رہتا ہے اور سڑک کی خرابی کی وجہ سے سال کے باقی چھ ماہ بھی یہاں سومو یا دیگر اقسام کی گاڑیوں کے ڈرائیور اپنی سروس فراہم کرنا نقصان دہ قرار دیتے ہیں ‘‘۔واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے ’بھارت نرمان‘ اور ’وزیراعظم دیہی سڑک یوجنا ‘(PMGSY) کے تحت 2012تک تمام دیہات اور قصبوں کو سڑکوں سے جوڑنے کا اعلان کیا تھا اور اس حقیقت سے انحراف نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس منصوبے کے تحت کئی اہم سڑکوں کو وسعت دی گئی اور قابل سفر بنایا گیا تاہم کپوارہ مژھل سڑک کی حالت دیکھ کر ذہن میں کئی سوال اْبھرتے ہیں کہ’ کیا یہ سڑک بھارت نرمان یا وزیراعظم دیہی سڑک منصوبے سے مستثنیٰ ہے ؟ کیا اہلیان مژھل کو بہتر سڑک رابطوں کیلئے نسل در نسل انتظارر کرنا ہوگا؟‘ایسے کئی سوالات جن کے جوابات سے ارباب اقتدار بخوبی واقف ہیں لیکن کپوارہ مژھل اور پھر مژھل کی اندرونی سڑکوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ سڑکیں حکام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔مژھل کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حکام چاہیں تو دور جدید میں اس شاہراہ کو مضبوط اور پائیدار بنانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
تعلیم
علاقے میں صرف ایک ہائر سیکنڈر ی سکول ہے جو دُدی میں واقع ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طلبہ کو دور دراز علاقوں سے یہاں پہنچنے کیلئے کئی کلومیٹر پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ بارہویں جماعت کے ایک طالب علم منظور احمد نے کہا’’پورے مژھل علاقے میں ایک ہی ہائر سیکنڈری سکول ہے جہاں سٹاف بھی کم ہے ‘‘۔انہوں نے کہاکہ اگر کسی طالب علم کوکامرس پڑھنے میں دلچسپی ہو تو اُسے پھر کپوارہ منتقل ہونا پڑتاہے کیونکہ یہاں کامرس پڑھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ایک اور طالب علم بشیر احمد نے کہا ’’ہمیں دس سے پندرہ کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے پھر بھی وقت پر سکول نہیں پہنچتے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہاکہ روز اتنا سفر پیدل طے کرنے کی وجہ سے کچھ لڑکوں نے پڑھنا ہی چھوڑدیا ہے‘‘۔
صحت
پچھواڑی،دُدی، ڈفل، مسری باغ، کٹھواڑہ، یاری بہک، ژونٹھواری، تانترے بستی، ڈوبن، ڈنا،خان بستی، رنگ پائین اور رنگ بالا کیلئے صرف ایک پبلک ہیلتھ سینٹر (پی ایچ سی) ہے جو دُدی میں واقع ہے اور سہولیات تسلی بخش نہیں ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ہیلتھ سنٹر میں سہولیات اطمینان بخش نہیں ہیں۔شمیمہ نامی ایک خاتون نے بتایا کہ اُن کا طبی نظام بھی دیگر سہولیات سے کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کبھی کوئی زچگی کا معاملہ درپیش آتا ہے تو انہیں یا تو کپوارہ کا رخ کرنا پڑتا ہے یا پھر اپنا دیسی طریقہ اپنانا پڑتا ہے کیونکہ یہاں کوئی لیڈی ڈاکٹرتعینات نہیں ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق اَس ہسپتال میں دوڈاکٹر تعینات ہیں اور دونوں بی یو ایم ایس ہیں۔
بجلی
اگرچہ علاقے میں سولر لائٹس فراہم کی گئی ہیں تاہم ایک بہتر بجلی نظام کیلئے لوگ ترس رہے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے کو ایک جنریٹر سے بجلی فراہم کی جاتی ہے جو گذشتہ ایک ماہ سے خراب ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق جنریٹر سے شام سات بجے سے لیکر دس بجے تک بجلی سپلائی کی جاتی ہے تاہم اب اِس کے ٹھیک ہونے کا انتظارہے۔ محمد شریف نامی ایک بزرگ کا کہنا ہے ’’اگرچہ ہمارا علاقہ پہاڑوں میں ہی واقع ہے لیکن آجکل کے زمانے میں اس خطے کو بجلی سپلائی کے دائرے میں لانا کوئی مشکل نہیں ۔اگر حکام چاہیں تو اس خطے کو بھی ایک بہتر بجلی نظام سے آراستہ کیا جاسکتاہے‘‘۔اس ضمن میں ایگزیکیٹیو انجینئر پرویز احمد کا کہنا ہے کہ جنریٹر کے کچھ آلات خراب ہوگئے تھے جنہیں ٹھیک کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے اور بہت جلد بجلی فراہم کی جائے گی۔
مواصلاتی نظام
موجودہ دور جسے مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ نے گلوبل ولیج میں تبدیل کیا ہے ۔مژھل علاقہ میں صرف ایک ٹیلی فون بوتھ ہے جہاں ایک کال کرنے کیلئے لائن میں رہنا پڑتا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں بھی تقریباًہر گھر میں ایک یا دو موبائل فون ہیں لیکن وہ صرف فوٹوگرافی اور گانے سننے کا کام آتے ہیں اور کبھی کبھار اگر علاقے سے باہر جاتے ہیں تو گھروالوں کیلئے تاہم ایک رابطے کا ذریعہ رہتا ہے جو ٹیلی فون بوتھ سے حال چال پتہ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کئی بار اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ یہاں بھی ایک موبائل ٹاور نصب کیا جائے تاہم نامعلوم وجوہات کی بناء پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا ہے۔
ذریعہ معاش
فوج کے ساتھ مزدوری کرنا علاقے کا واحد ذریعہ معاش ہے۔اگرچہ علاقے میں راجماش،آلو اور مکی کی پیداوار ہوتی ہے تاہم اس کی مقدار تسلی بخش نہیں ہوتی۔اکثر لوگ فوج کے ساتھ مزدوری کرکے ہی اپنا پیٹ پالتے ہیں۔65سالہ غلام احمد ہرے نے کہا’’3850،کھنہ بل، کِلو، گوتم، چکی، کانگج نار، بجروالی، رنگ سر اور جنگل ٹیکری جیسی فوجی پکٹوں تک کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر ساز وسامان پہنچانا ہمارا معمول ہے‘‘۔ ہرے نے مزید کہا’’ہم روز صبح گھر سے نکل کر مین کیمپ پہنچ جاتے ہیں جہاں بتایا جاتا ہے کہ کون کس پکٹ تک ہتھیار، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر سازوسامان پہنچائے گا۔ شام کو واپس لوٹتے ہیں اور ایک دن کی مزدوری 150روپے ملتی ہے لیکن جس کے پاس گھوڑا ہوتا ہے اُسے300روپے ملتے ہیں‘‘۔مذکورہ شخص نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا کہ مزدوری کرتے کرتے اب بہت تھک گئے ہیں لیکن کیا کریں پیٹ پالنا ہے اسی لئے روزانہ دس سے پندرہ کلومیٹر تک فوج کا سازوسامان پہنچاتے ہیں۔اپنی زندگی کا بیشتر وقت فوج کی مزدوری کررہے اِس بزرگ نے کہا ’’ہمیں بھی بچوں کو پڑھانے کا شوق ہے لیکن مزدوری کرکے بچوں کو پڑھائیں یا کھانا کھلائیں‘‘۔
مژھل حلقہ انتخاب لولاب کا ایک حصہ ہے جہاں ووٹروں کی تعداد6ہزار کے قریب ہے۔ علاقے کے لوگوں کی شکایت ہے کہ سابقہ حکومتوں نے اس علاقے کو اپنے سیاسی داؤ پیچ کھیلنے کیلئے ہر دور میں استعمال کیا اور اپنی سیاسی روٹیاں توڑنے کے دوران عوام کا حد درجہ استحصال کیا گیا ورنہ دور جدید میں اس علاقے کے مسائل کو حل کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔رنگ پائین کے ایک معمر شہری نے بتایا’’ہر دور میں سیاستدانوں نے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ہمارے ساتھ وعدے کئے لیکن وہ کبھی وفا نہیں ہوئے لیکن پہلی بار کسی وزیر یا ممبر نے دلچسپی دکھائی،جس کی تازہ مثال سولر لائٹس ہیں جو انہوں نے گھر گھر پہنچائیں‘‘۔ دُدی مژھل کے سرپنچ محمد جمال کا کہنا ہے ’’ہم نے مختلف علاقوں میں چھوٹے چھوٹے پل خود بنائے تھے جوکبھی کبھار حادثات کا مؤجب بھی بنے تاہم ممبر اسمبلی لولاب اوردیہی ترقی کے وزیر عبد الحق خان نے علاقے میں پانچ پل مقررہ وقت کے اندر مکمل کرائے جس سے عوام کو راحت نصیب ہوئی‘‘۔انہوں نے کہا کہ ان پلوں کی بدولت اب اُن علاقوں تک گاڑیاں بھی جاسکتی ہیں۔واضح رہے کہ چند روز قبل دیہی ترقی کے وزیر عبد الحق خان نے علاقے میں انتہائی اہمیت کے پانچ پلوں کا افتتاح کیا جن کی مالیت7کروڑ روپے کے قریب بتائی جارہی ہے۔علاقے کے مسائل کے ضمن میں وزیر موصوف نے بتایا کہ انہوں نے بیکن عملے کو مژھل سڑک کی ناگفتہ بہ حالت کیلئے سرزنش کی ہے اور بیکن عملے کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ انتہائی کم وقت کے اندر اندرسڑک آمدورفت کے قابل بنائیں۔انہوں نے اعتراف کیا کہ مژھل کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔دیہی ترقی کے وزیر نے کہا کہ وہ اس علاقے کے سبھی مسائل کا ازالہ کرانے کیلئے کوشاں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہتر بجلی نظام کیلئے ایک منصوبہ زیر غور ہے اورامید ہے کہ سال رواں میں اس پر کام شروع ہوجائے گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: