سوپور:60نوجوان زیر تفتیش

شمالی کشمیر سوپور قصبہ میں پے در پے ہلاکتوں اور پولیس گاڑی کے اندر گرینیڈ دھماکے سے پاکستانی جنگجو کی ہلاکت نے پولیس کے سامنے ایک چیلنج پیدا کیا ہے۔باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس کی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم جسے خاص طورپر سوپور اور اسکے مضافات میں حالیہ 20دنوں کے دوران 6ہلاکتوں کی تفتیش کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، نے اب تک قریب80افراد سے پوچھ تاچھ کی ہے اور60 کے قریب افراد کو احتیاطی طور پر حراست میں لیا جاچکا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سوپور میں ہلاکتیں ہونے سے قبل پولیس تھانے پر ایک گرینیڈ حملہ ہوا تھا ، اس معاملے کی تفتیش بھی کی گئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں ریڈے پرچائے فروخت کرنے والا ایک نوجوان اور ایک آٹو ڈرائیور شامل ہے۔اگرچہ اس معاملے کی تفتیش ابھی جاری ہے لیکن پھربھی چار افراد کو زیر حراست رکھا گیا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سوپور اور اسکے ملحقہ دیہات میں برسوں پہلے جیلوں سے رہا شدہ نوجوانوں اور پتھراؤ میں پیش پیش رہنے والے نوجوانوں کی طلبی ہورہی ہے اور اس مقصد کی خاطر سوپور پولیس لائنز میں پولیس کو خصوصی تفتیشی ٹیم خیمہ زن ہے جو سرینگر سے خصوصی طور پر سوپور بھیج دی گئی ہے۔مذکورہ ٹیم کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آزادانہ طور پر کام کرے گی اور ہلاکتوں کے حوالے سے کسی بھی تفتیش اورگرفتاریوں کے معاملے میں از خود کارروائی کرے۔بتایا جاتا ہے کہ سوپور پولیس کو بھی تفتیش کے معاملے پر الگ رکھا گیا ہے۔سوپور کے کئی رہا شدہ جنگجوؤں کے والدین نے بتایا کہ انکے بیٹے کئی برسوں سے اپنا کاروبار کر رہے ہیں لیکن اب انہیں گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کو عنقریب ہی رہا کیا جائے گا۔اگر چہ پولیس تفتیش اور گرفتاریوں کے حوالے سے کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 80افراد سے پوچھ گچھ کی جاچکی ہے جن میں سے 60ابھی بھی زیرحراست ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ پولیس کی خصوصی ٹیم شبانہ چھاپے مار کر گرفتاریاں عمل میں لارہی ہے اور اس بات کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا جارہا ہے۔جن نوجوانوں کو زیر تفتیش رکھا گیا ہے ان میں زیادہ تر رہا شدہ جنگجو ہیں جبکہ کچھ نوجوان وہ بھی ہیں جو پتھراؤ کرنے والوں میں پیش پیش رہے ہیں اور جن کے خلاف پہلے ہی پولیس تھانوں میں کیس درج ہیں۔دریں اثناء پولیس نے پاکستانی جنگجو کی پر اسرارطور پر گرینیڈ حملے کے دوران ہلاکت، جس میں ایک پولیس کانسٹیبل کی جان بھی گئی، کی بھی بڑے پیمانے پر تفتیش شروع کی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ جنگجو کو اپنے ساتھی نے سوپور کی مقامی عدالت کے باتھ روم میں دو گرینیڈ دئے تھے جو اس نے ایک جیکٹ میں رکھے تھے، جو پاکستانی جنگجو کے پہنے ہوئے جیکٹ سے مشابع تھا۔جنگجو بھی باتھ روم چلا گیا اور اس نے وہ جیکٹ پہنا جس میں گرینیڈ رکھے گئے تھے اور اپنا جیکٹ وہیں پراتارا۔پولیس اس بات کی کوشش میں ہے کہ ان نوجوانوں کی نشاندہی ہوسکے جو پاکستانی جنگجو سے ملنے عدالت آئے ہوئے تھے۔پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ تفتیش جارہی ہے اور پولیس اس معاملے کو سامنے لانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: