مژھل۔۔۔جہاں ایک بستی نے ہی1992میں ترک سکونت اختیارکی

سرحدی علاقہ مژھل کا نام زبان پر آتے ہی سال 2010کے اوائل میں ہوئی وہ مژھل فرضی جھڑپ یاد آتی ہے جس میں بارہمولہ ضلع سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں کوجاں بحق کیا گیا تھا۔ موجودہ سائنسی دور میں بھی بیشتربنیادی سہولیات سے محروم اس سرحدی بستی کے عوام نے25سالہ جدوجہد آزادی کے دوران نہ صرف بے شمارپریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کیا ہے بلکہ ایک بستی نے تومکمل طورپاکستانی زیر انتظام کشمیر ہجرت کرلی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق 1992کے اوئل میں ہی چھوٹا ڈنا نامی بستی نے ترک سکونت اختیار کرلی اور چنگ نار (جنگل)سے ہوتے ہوئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر چلے گئے۔حبیب اللہ ہرے نامی ایک ریٹائرڈ استاد نے بتایا کہ عسکری تحریک کے دوران انہوں نے بے پناہ مصائب کا سامنا کیا ہے ۔انہوں نے کہا’’ آپ صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ ہماری ایک بستی نے مکمل طور ترک سکونت اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھ لی‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’چھوٹا ڈنا نامی اس بستی کی جائدادیں اگرچہ زیادہ نہیں تھیں لیکن ساری ضائع ہوگئی‘‘۔حبیب اللہ نے کئی افراد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ محمد سلیمان تانترے عرف بلا ولد حبیب اللہ بھی ہجرت کرنے والوں میں سے ایک ہیں جو رنگ نامی بستی کا چوکیدار تھا۔انہوں نے کہا ’’اب چونکہ ایک زمانہ بیت گیا ہے تاہم مجھے جن افراد کے نام یاد ہیں ،اُن میں محمد یوسف تانترے ولد بگھا تانترے،عبدالرشید تانترے ولد حبیب اللہ، میر زمان ولدمحمد اسماعیل، عبد الرحمان ولد غلام حیدر خان، ولی رحمان ولد عبد الرحمان خان اور عبد الرحیم تانترے ولد عبدالجبار شامل ہیں‘‘۔مذکورہ شخص کے مطابق اُس علاقے میں اب کوئی نہیں جاتا اور اگرچہ اُنکی جائدادیں زیادہ نہیں تھیں لیکن جتنی تھیں وہ ضائع ہوگئی۔70سالہ غلام احمد شیخ نے کہا ’’ہمارا حال تو یہ ہے کہ نہ اِدھر کی خبر ہے نہ اُدھر کی لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ چھوٹا ڈنا کے لوگ یہاں سے چلے گئے لیکن پھر کبھی واپس نہیں لوٹے‘‘۔انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جس راستے سے گئے وہ جنگلاتی علاقہ ہے جسے چنگ نار کہتے ہیں۔ان بزرگوں کی باتیں سنتے ہی ایک نوجوان لڑکی نے انتہائی دردمندانہ لہجے میں کہا ’’بھائی ہماری طرف سے سرکار تک ایک گذارش پہنچاؤ کہ ہمیں پار چلے گئے رشتہ داروں سے ملانے کا کوئی راستہ تلاش کریں‘‘۔اپنا نام شیرا جی ظاہر کرتے ہوئے اس لڑکی نے کہا’’یا تو انہیں واپس لانے کی کوشش کریں یا ہمیں آزاد کشمیر جانے کا کوئی آسان موقع فراہم کیا جائے ‘‘۔مذکورہ لڑکی نے روتے بلکتے کہا’’میرے نانا جی،ماسی،مسیرے بھائی اور بہنیں،چاچااوراُس کے بچے سب 1992میں پار چلے گئے۔تب سے اُن کا کوئی اتہ پتہ نہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ابھی جس سلیمان تانترے کا ذکر ہوا وہ میرے ناناجی تھے‘‘۔ شیراجی کے پاس ہی کھڑی سلیمہ نامی ایک اور نوجوان لڑکی نے کہا ’’آج بھی جب چھوٹا ڈنا اور ملک بیلا کی بستیوں سے گزر تے ہیں تو روتے ہوئے واپس لوٹتے ہیں کیونکہ وہاں اب کچھ نہیں بچا ہے۔نہ کوئی مکان ہے اور نہ کوئی نشان،جیسے وہاں کوئی بستی ہی نہیں ہوا کرتی تھی‘‘۔سلیمہ نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے اپنی سہیلی سے کہا’’شیرا ہمارے آنسو بہانے سے کچھ نہیں ہوگا ، جو چلے گئے وہ واپس نہیں آتے اوران پہاڑوں میں ہماری کوئی سننے والا بھی تو نہیں ہے‘‘۔

Advertisements

One Response to مژھل۔۔۔جہاں ایک بستی نے ہی1992میں ترک سکونت اختیارکی

  1. Abbey نے کہا:

    I am regular reader, how are you everybody? This piece
    of writing posted at this site is in fact good.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: