گرداس پور حملے کے بعد جموں و کشمیر میں سکیورٹی سخت

گرداس پورحملے کے بعدجموں وکشمیرمیں سکیورٹی ایجنسیاں متحرک ہوگئی ہیں جبکہ حدمتارکہ،ورکنگ باؤنڈری اوربین الااقوامی سرحدپرچوکسی بڑھادی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پولیس کے راجندرا کمار نے تازہ صورتحال کے بارے میں ریاستی پولیس ، مرکزی پولیس فورس ( سی آر پی ایف ) اور مختلف خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جس کے بعد پوری ریاست میں تعینات جموں وکشمیر پولیس کے علاوہ سی آر پی ایف اور فوج کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ڈی جی پی نے سوموار کے بعد منگل کو بھی مختلف میٹنگوں کے دوران تازہ ترین سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ریاستی پولیس سربراہ نے انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ، آئی جی پی جموں ، آئی جی پی سی آئی ڈی اور دیگر اعلیٰ پولیس افسروں کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جس کے دوران اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ جموں وکشمیر بالخصوص وادی میں کون سے علاقے جنگجویانہ سرگرمیوں کے اعتبار سے حالیہ مہینوں میں زیادہ حساس رہے ہیں۔ میٹنگوں کے دوران جنگجویانہ سرگرمیوں ، جنگجوؤں کی کارروائیوں اور سرحد پار سے دراندازی کی کوششوں کا بر وقت پتہ لگانے کیلئے خفیہ نیٹ ورک کو متحرک کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔حفاظتی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ممکنہ جنگجو حملوں کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاعات کے تناظر میں کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہیں۔اس سلسلے میں جموں خطے کی مختلف شاہراہوں خاص طور پر سرینگر جموں اور جموں پٹھانکوٹ شاہراہوں پر ہر آٹھ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر خصوصی ناکے بٹھائے گئے ہیں اور کوئیک رئیکشن ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔جموں میں داخل اور شہر سے باہر جانے والی تمام سڑکوں کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے جبکہ خطے میں آنے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کا سلسلہ بھی تیز کردیا گیا ہے۔ جموں شہر کی اہم سرکاری اور فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ ریلوے اسٹیشن ، ائر پورٹ اور فلائی اوؤروں کی حفاظت کی بڑھا دی گئی ہے۔اس ضمن میں شہر کے اندر مختلف مقامات پر ناکے بٹھاکر گاڑیوں کی تلاشی کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے۔سراغرساں ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ جنگجو15اگست کے موقعے پرجموں وکشمیر میں کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں اورانٹیلی جنس ایجنسیوں نے سیکورٹی ایجنسیوں کو ان خدشات کے بارے میںآگاہ کیا،جس کے بعد پورے جموں وکشمیر میں تمام سکیورٹی ایجنسیوں کو چوکسی برتنے کی ہدایات دی گئی ہے۔ تمام سکیورٹی اور سراغرساں ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریاست میں حفاظت سے متعلق اقدامات اٹھانے کے دوران آپسی تال میل کو یقینی بنائیں اور صورتحال سے نمٹنے کیلئے مل جل کرایسی حکمت عملی مرتب کریں تاکہ ریاست میں امن وقانون کی صورتحال برقرار رہے۔اْدھر بھگوتی نگر جموں میں واقع امرناتھ یاتریوں کیلئے مخصوص روانگی کیمپ کے گردونواح میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور اس کے علاوہ یہاں سے پہلگام اور بالہ تل روانہ ہونے والے یاتریوں کی سکیورٹی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: