ہندوپاک مذاکرات:اعتمادسازی ناگزیر

پاکستان کے ہائی کمیشن نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی قومی سلامتی کے مشیروں کی مجوزہ بات چیت سے قبل ایک استقبالیہ میں جموں و کشمیر کے مزاحمتی لیڈران کو مدعو کیا ہے۔یہ مذاکرات رواں ماہ کی 23تاریخ یعنی اتوار کو ہو رہے ہیں۔ نئی دہلی میں اسے بھارت کو ناراض کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا جارہا ہے۔اس دوران جموں و کشمیر کے مزاحمتی لیڈران کا کہنا ہے کہ وہ 25سال سے پاکستانی حکام سے مل رہے ہیں اور یہ کوئی نئی روایت نہیں ہے۔واضح رہے کہ ایک سال قبل جب پاکستان نے خارجہ سطح کی بات چیت سے قبل جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے بات چیت کی بات کہی تھی تو بھارت نے امن مذاکرات کو منسوخ کر دیا تھا۔اس وقت بھارت نے پاکستان پر اندرونی معاملے میں دخل اندازی کا الزام لگایا تھا۔ایک بار پھر مزاحمتی لیڈران کو 23اگست کے موقعہ پر مدعو کرنے کے فیصلے سے پھر دلی میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ مرکزی حکومت پاکستان کے اس فیصلے سے سخت ناراض ہے۔ مرکزی حکومت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے ’’دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ،اگر انہوں نے مزاحمتی لیڈران کے ساتھ میٹنگ کی تو حکومت مناسب طریقے سے جواب دے گی‘‘۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جو ہندوپاک مذاکرات کے خلاف ہے اوراسی لئے وہ ایسی کوششیں کرکے مذاکرات میں رخنہ ڈالنا چاہتے ہیں۔مرکزی حکومت کے قریبی ذرائع کاکہنا ہے’’دعوت نامے کواس سمت میں تازہ ترین اشتعال انگیز اقدام کے طور پر دیکھا جارہا ہے‘‘۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مجوزہ بات چیت سے قبل نئی دہلی میں قائم پاکستانی سفارتخانے نے مزاحمتی قائدین کو دلّی طلب کر لیا ہے تاکہ بات چیت سے قبل ان کے ساتھ بھی مشاورت کی جاسکی۔مزاحمتی لیڈران کا کہنا ہے کہ جب کبھی بھی پاکستانی حکام بھارت کے دورے پر آئے تو وہ ان سے ملتے رہے۔فرنٹ سربراہ محمد یاسین ملک کا کہنا ہے ’’یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے ہندوپاک امن عمل کو پٹری سے اتارا۔اس کے برعکس ہم امن عمل کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ تمام متعلقین اپنی رائے ظاہر کرسکیں ہم تیسرے فریق نہیں ہیں۔ کسی بھی مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کو شامل کرنا ضروری ہے ‘‘۔تجزیہ نگاروں کے مطابق ہندوپاک تعلقات میں کوئی بھی پیش رفت یقینی طور کشمیر مسئلہ سے مشروط ہے اور جب تک کشمیر معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوتی ہے ،اْس وقت تک مفاہمت کی فضا بحال ہونا تقریباً ناممکن ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے اولین فرصت میں فریقین کے مابین اعتمادسازی ناگزیر ہوتی ہے اور جب دو ممالک کے درمیان بھروسے کی فضا قائم ہوتی ہے ،اُسی صورت میں پھر بات بھی آگے بڑھتی ہے لیکن جہاں تک ہندوپاک مذاکرات کا تعلق ہے تو دونوں جانب سے اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے۔جانکار حلقوں کا کہناہے ’’ جب بھی ہندوپاک کے مابین تعلقات خوشگوار رہے تو کشمیریوں کو راحت ملی لیکن جب بھی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تو کشمیری عوام کو جانوں کے لالے پڑے۔کشمیر یوں کے ساتھ ساتھ پورے برصغیر میں ترقی و خوشحالی کا عمل بھی مخاصمت کی وجہ سے یر غمال بن چکا ہے اور جب تک کدورتوں کو ختم نہیں کیا جاتا ،اُس وقت تک شاید ہی کشمیر مسئلہ حل ہونے یا بر صغیر کے لوگوں کو راحت ملنے کا کوئی امکان ہے۔ مخالفانہ اور مخاصمانہ بیان بازی کی بجائے مفاہمانہ رویہ اپنا کر مفاہمت کو فروغ دینے کی سعی کرنا لازمی ہے کیونکہ مخاصمت نہیں بلکہ مفاہمت میں مسائل کا حل اور امن و خوشحالی کا راز پنہاں ہے‘‘۔یاد رہے کہ حریت (گ) چیئرمین سید علی گیلانی سمیت حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق ،لبریشن فرنٹ سربراہ محمد یاسین ملک،فریڈم پارٹی سربراہ شبیراحمد شاہ اورنیشنل فرنٹ چیئرمین نعیم احمد خان نے نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کی طرف سے میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے دعوت نامہ قبول کرلیا ہے تاہم دختران ملت سربراہ آسیہ اندرابی خرابی صحت کی بناء پر شرکت نہیں کرپارہی ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: