مزاحمتی لیڈران کا کریک ڈاؤن

پولیس نے جمعرات کو ڈرامائی انداز میں پہلے متعدد مزاحتمی لیڈران کو نظر بند یا گرفتار کرلیا لیکن صرف چند گھنٹے بعد ہی سید علی گیلانی کو چھوڑ کر تمام لیڈران کو دوبارہ آزاد کردیا۔معلوم ہوا ہے کہ یہ اقدام علیحدگی پسند لیڈران کو پاکستانی ہائی کمشنر کی طرف سے دی گئی دعوت کے تناظر میں اٹھایا گیا تاہم بعد میں حکومت نے اچانک اپنا فیصلہ بدل دیا۔ پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز23اگست کو نئی دلی کا دورہ کرکے اپنے بھارتی ہم منصب اجیت دووَل کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں۔اس سلسلے میں نئی دلی میں مقیم پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری مزاحتمی لیڈران کو اسی روز دلی آنے کی دعوت دی جہاں وہ سرتاج عزیز کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔بدھ کو جب علیحدگی پسند لیڈران کو پاکستانی سفیر کی طرف سے مدعو کئے جانے کی خبر منظر عام پر آئی تو پولیس نے وادی بالخصوص سرینگر میں مزاحتمی قیادت کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا جس کے تحت متعدد علاقوں میں چھاپے مارے گئے اور مزاحتمی لیڈران کی خانہ نظر بندی عمل میں لائی گئی۔یہ کارروائی بظاہر حریت لیڈران کو نئی دلی جانے سے روکنے کیلئے شروع کی گئی۔ حریت (گ) چیئرمین سید علی گیلانی بدستور نظر بند ہیں اور جمعرات کو ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد تعینات کرکے ان کی خانہ نظر بندی مزید سخت کی گئی۔پولیس نے تحریک حریت جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی اور ترجمان ایاز اکبر سمیت دیگر کئی لیڈران کو بھی اپنے گھروں میں نظر بند کردیا اور ان کی نظر بندی بھی صرف دو گھنٹے بعد ہٹالی گئی۔حریت ترجمان ایاز اکبر نے کہا کہ سید علی گیلانی بدستور خانہ نظر بند ہیں اور انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا’’پہلے ہمارے گھروں اور دفاتر پر پولیس تعینات کی گئی اور ہمیں نظر بند ہونے کی اطلاع دی گئی لیکن بعد میں پولیس اچانک واپس چلی گئی‘‘۔ادھر جمعرات کی صبح حریت (ع)چیئرمین میرواعظ عمر فاروق اورمولوی عباس انصاری سمیت کئی لیڈران کے گھروں کے باہر پولیس کا سخت پہرہ بٹھادیا گیا۔حریت ترجمان نے کہا کہ چیئرمین کی نگین رہائش گاہ کے گردونواح میں پولیس اور فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی اور انہیں اس بات کی اطلاع دی گئی کہ وہ گھر سے باہر نہیں جاسکتے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایک گھنٹہ بعد ہی اچانک اور غیر متوقع طور پر پولیس کا پہرہ ہٹالیا گیا اور میر واعظ سمیت تمام لیڈران کی نظر بندی ختم کردی گئی۔اس دوران جمعرات کی صبح لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک اور نائب چیئرمین شوکت احمد بخشی کو گرفتار کر لیا گیا لیکن بعد اذاں انہیں ایک گھنٹے کے بعد رہا کردیاگیا۔فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ جو گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنی صنعت نگر رہائش گاہ پر نظر بند ہیں ، جمعرات کو ان کے گھر پر پولیس کی اضافی نفری بٹھادی گئی۔تاہم پارٹی ترجمان نے بتایا کہ دوپہر کے قریب ان کی رہائش گاہ کا پہرہ ہٹالیا گیا اور شبیر شاہ کی نظر بندی ختم کردی گئی۔پولیس نے دوران شب حریت (ع)لیڈر جاوید احمد میر اورمیڈیا صلاح کار شاہدالاسلام کے گھروں پر بھی چھاپے مارے لیکن وہ گھروں میں موجود نہیں تھے۔معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے دختران ملت سربراہ آسیہ اندرابی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس معاملے پر انتظامیہ اور پولیس کے متعلقہ افسران نے خاموشی اختیار کی ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے انہیں حریت لیڈران کو نظر بند کرنے کی ہدایات موصول ہوئیں اور جب ان ہدایات کو عملی جامہ پہنایا گیا تو کچھ دیر بعد ہی تمام حریت لیڈران کے گھروں کے باہر پہرہ ہٹانے کی ہدایت دی گئی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: