ہندوپاک مذاکرات پر گہرے بادل

نئی دلی میں ہندوپاک قومی سلامتی مشیروں کے مجوزہ مذاکرات پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔بھارت نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ اس کے قومی سلامتی کے مشیر نئی دہلی میں موجودگی کے دوران مزاحمتی لیڈران سے ملاقات نہ کریں جبکہ پاکستان نے سرتاج عزیز کی حریت قائدین سے ملاقات نہ کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔یاد رہے کہ بھارت میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی قومی سلامتی کے مشیروں کی بات چیت سے قبل ایک استقبالیہ میں مزاحتمی رہنماؤں کو مدعو کیاہے۔ دعوت نامہ پر مشاورت کے بعد سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق ، محمد یاسین ملک اور شبیر احمد شاہ سمیت کئی لیڈران نے استقبالئے میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو علیحدگی پسند رہنماؤں کو نظر بند رکھنے کیلئے ان کے گھروں کے باہر پولیس تعینات کر دی گئی تھی، تاہم چند گھنٹے بعد ہی سید علی گیلانی کو چھوڑ کر دیگر تمام لیڈران کو رہا کردیا گیا۔ قومی سلامتی مشیروں کے مجوزہ مذاکرات کے موقع پر پاکستان کی طرف سے مزاحمتی لیڈران کو مدعو کرنے پر نئی دلی نے اگر چہ فوری رد عمل کا اظہار نہیں کیا لیکن سیاسی پارٹیوں کی طرف سے حکومت کی شدید تنقید کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان سامنے آیا۔وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سروپ کا کہنا ہے کہ دہلی نے اسلام آباد سے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیروں کی بات چیت سے قبل استقبالیہ میں کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کو مدعو کرنا مناسب نہیں ہے۔وکاس سروپ نے یہ بات جمعہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہی۔سروپ نے ٹویٹ کیاہے’’ پاکستان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز حریت رہنماؤں سے نہ ملیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا ہے’ ’پاکستانی قومی مشیر اور حریت رہنماؤں کے درمیان ملاقات اوفا میں مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے حوالے سے ہونے والے اتفاق رائے کے مترادف ہے‘‘۔وکاس سروپ کے مطابق بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان مذاکرات کے ایجنڈے کی توثیق چاہتا ہے جو پاکستان کو 18 اگست کو بھجوایا گیا تھا۔اس دوران جمعہ کو جے پور میں نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا’’ہم پاکستان کے ساتھ بات چیت چاہتے ہیں اور مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن اب یہ پاکستان پر منحصر ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ ہم نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ ان کی بات چیت پر اپنا موقف واضح کردیا ہے اور ان سے ایجنڈا کے بارے میں وضاحت کرنے کیلئے کہا ہے تاہم اس پر ابھی تک پاکستان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا ہے‘‘۔اس دوران پاکستان نے سرتاج عزیز کی حریت قائدین سے ملاقات نہ کرنے کی بھارتی تجویز مسترد کر دی ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جمعہ کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ہائی کمشنر کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ پاکستان کو یہ تجویز قبول نہیں۔ وزیراطلاعات پرویز رشید نے کہا’’ بھارت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہمیں بتائے کہ ہمیں اپنا مہمان کسے بنانا ہے اور کسے نہیں۔ ہم کس سے ملتے ہیں اور کس کی دعوت کرتے ہیں یہ فیصلہ کرنا ہمارا حق ہے‘‘۔پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان مجوزہ مذاکرات کیلئے ایک جامع ایجنڈا بھی تجویز کیا ہے جس میں کشمیر اور دہشت گردی سمیت متعدد امور پر بات چیت شامل ہے۔پاکستانی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ جمعہ کی صبح وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں لیا گیا جس میں فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کے علاوہ کابینہ کے بعض ارکان نے بھی شرکت کی۔اس اجلاس میں موجود وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بعد اذاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کو یہ بتانے کا حق نہیں رکھتا کہ وہ کس کی میزبانی کر سکتا ہے اور کس کی نہیں۔پرویز رشید نے کہا کہ بھارت کا یہ اصرار کہ کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کی صورت میں وہ پاکستان سے مذاکرات ہی نہیں کرے گا، اس کی مذاکرات میں عدم دلچسپی کا ثبوت ہے۔انہوں نے مزید کہا’’یہ تو کوئی بات نہیں کہ بھارت یہ اصرار کرے کہ اگر ہم کشمیریوں سے ملیں گے تو وہ مذاکرات ہی نہیں کرے گا۔ ساری دنیا اس بھارتی طرز عمل کو دیکھ رہی ہے جس سے اس کی مذاکرات میں عدم سنجیدگی ثابت ہو رہی ہے‘‘۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ کشمیری رہنماؤں کو ایک دعوت میں پاکستانی سفارتخانے جانے کی اجازت نہ دینا کشمیریوں کے بنیادی حقوق صلب کرنے کے مترادف ہے۔اس اجلاس میں پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر کی بھارتی ہم منصب سے ہونے والی ملاقات میں کشمیر کا مسئلہ اور پاکستان کے اندر دہشت گردی میں بھارت کے مبینہ کردار کے معاملات اٹھائے جائیں گے۔پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں میں یہ ملاقات اتوار کو نئی دلی میں متوقع ہے۔دفتر خارجہ نے اس سلسلے میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق متنازع علاقہ ہے اور پاکستانی قیادت ہمیشہ سے بھارت کے دورے کے دوران کشمیری اور حریت قیادت سے رابطے میں رہی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اس روایت سے انحراف کرے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کا بات چیت کے ایجنڈے کو محدود کرنے پر اصرار اور شرائط لگانا اس بات کا مظہر ہے کہ وہ پاکستان سے بامعنی روابط کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: