تحریک حریت کے مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج

IMGتحریک حریت کے11ویں یوم تاسیس پر حیدر پورہ میں پولیس نے تنظیم کے احتجاجی مارچ پرلاٹھی چارج،رنگین پانی کی بوچھاڑوں اور آنسو گیس کے گولوں کا آزادانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں تنظیم کے کئی کارکن زخمی ہوگئے۔تحریک حریت ذرائع کے مطابق پولیس نے اس موقعہ پر تنظیم کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی سمیت 10کارکنوں کو حراست میں لیکر پولیس چوکی ہمہامہ میں بند کردیا جبکہ تھانہ صدر میں مزید 56کارکنوں کوبند کیا گیا۔یاد رہے کہ تحریک حریت نے 11ویں یوم تاسیس کے موقعہ پر پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ اس سلسلے میں حیدر پورہ دفتر میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس سے تنظیم کے سربراہ سید علی گیلانی بھی خطاب کریں گے۔ تقریب کے پیش نظر پولیس نے اتوار کو تحریک حریت دفتر کی ناکہ بندی کی تھی اور حیدرپورہ میں کافی تعداد میں فورسزاہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ تحریک حریت ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے اْن کے دفترکو سیل کر کے رکھ دیا تھا اور کسی بھی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔پولیس قدغن کے نتیجے میں تحریک حریت کے کارکنوں اور دیگر مزاحمتی نوجوانوں نے حیدر پورہ جامع مسجد میں پروگرام شروع کیا اورتحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی نے خطاب کیا۔ صحرائی کی قیادت میں 11بجے کے قریب تحریک حریت سے وابستہ کارکنوں نے پولیس قدغن کے خلاف حیدر پورہ چوک تک جلوس نکال کر دھرنا دینے کی کوشش کی۔معلوم ہوا ہے کہ صحرائی کی قیادت میں جب تنظیم کے کارکن پْرامن طور مین روڈ پر پہنچ گئے تو پولیس نے انہیں منتشر ہونے کی ہدایت دی۔ تحریک حریت ذرائع کے مطابق جونہی انہوں نے پْرامن طور آگے بڑھنے کی کوشش کی توپولیس نے انہیں منتشر کرنے کیلئے پہلے لاٹھی چارج اور رنگین پانی کی بوچھاڑوں اور ٹیر گیس گولوں کا آزادانہ استعمال کیا۔جس کے نتیجے میں جلوس میں شامل کئی مظاہرین زخمی ہوگئے جن میں کچھ تنظیم کے کچھ بزرگ کارکن بھی شامل ہیں۔تحریک حریت کا کہنا ہے کہ ٹیر گیس شلنگ اور لاٹھی چارج کے بعدتنظیم کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی اور سینئر کارکن امتیاز حیدر سمیت 10افراد کو حراست میں لیا گیا۔تنظیمی ذرائع کے مطابق پولیس نے اْن کے 56کارکنوں کو تھانہ صدر میں بھی بند کرلیا۔معلوم ہوا ہے کہ صحرائی کو پولیس چوکی میں حراست کے دوران چھاتی میں درد محسوس ہونے لگا تو انہیں رہا کردیا گیا تاہم تحریک حریت ذرائع کا کہنا ہے کہ صحرائی اپنے کارکنوں کے بغیر پولیس تھانے سے نکلنے کیلئے تیار نہیں ہوئے جس کے بعد دیگر کارکنوں کو بھی رہا کیا گیا۔اس دوران حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے حکومت کی طرف سے تحریک حریت پارٹی کنونشن پر پابندی لگانے، تحریک حریت جنرل سیکرٹری محمد اشرف صحرائی سمیت متعددرہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرنے اور پرامن کارکنوں پر شلنگ اور لاٹھی چارج کرکے درجنوں کو زخمی کرنے کی کارروائی کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمد سعید کے ’نظریات کی لڑائی‘ اور’گولی نہیں بولی‘ جیسے نعرے فراڈ ثابت ہوگئے ہیں۔ گیلانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحریک حریت کا آج کوئی پبلک پروگرام نہیں تھابلکہ چار دیواری کے اندر منتخب ممبروں کا ایک کنونشن تھا اور اس سے لااینڈ آرڈر پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کے یہ فیصلے غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہیں، جن کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حریت ترجمان ایاز اکبر نے پارٹی کنونشن پر پابندی لگانے اور اس سے پیدا ہوئی صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تحریک حریت نے آج کے پروگرام سے متعلق تمام تیاریاں مکمل کرلی تھیں اور اجتماع میں 1500کے لگ بھگ ممبروں کی آمد متوقع تھی، جن کے کھانے پینے کا بھی انتظام کیا گیا تھا اور حیدرپورہ میں چار دیواری والے ایک خطۂ زمین پر شامیانے وغیرہ بھی نصب کئے گئے تھے۔ ترجمان نے کہا ’’ اتوار کی صبح اس وقت ہم حیران ہوگئے جب دیکھا کہ پولیس اور دیگر سرکاری فورسز نے پورے علاقے کو اس طرح سے محاصرے میں لیا تھا کہ جیسے بھارت اور پاکستان کے مابین جنگ کا اعلان ہوا تھا۔ تحریک حریت دفتر کی طرف جانے والی ہر گلی، ہر نکڑ پر فورسز کوتعینات کیا گیا تھا اور کسی کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ کولگام، بارہ مولہ اور اسلام آباد اضلاع سے آنے والے کارکنوں کو راستے میں روک کر گرفتار کرلیا گیا اور انہیں اپنے اپنے متعلقہ علاقوں کے تھانوں میں نظربند کیا گیا۔ اس کے باوجود سینکڑوں کارکن حیدرپورہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے جامع مسجد حیدرپورہ کے احاطے میں پابندی کے خلاف ایک پْرامن دھرنا دینے کا فیصلہ کردیا‘‘۔بیان کے مطابق اس موقعہ پرتقریر کرتے ہوئے تحریک حریت جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی نے حکومتی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ پرامن سرگرمیوں پر پابندی عائد کرکے حکمران ایک خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔بیان کے مطابق جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی، محمد اشرف لایا، بشیر احمد قریشی، سلمان یوسف، امتیاز حیدر، ظہور الحق گیلانی، شاکر احمد، محمد یاسین ڈار بجبہاڑہ، مظفر احمد ٹھوکر ترال، شبیر احمد ڈار، شبیر احمد وانی، محمد سکندر، منظور احمد اور محمد سعید سوپور سمیت کئی کارکنوں کو حراست میں لیکر ہمہامہ تھانے میں نظربند کیا گیا جبکہ مختلف اضلاع سے آنے والے سینکڑوں کارکنوں کو شہر کے مضافات میں گرفتار کرکے تھانہ صدر اور دوسرے پولیس تھانوں میں پابندبند رکھاگیا۔ بیان کے مطابق ٹئیرگیس شلنگ اور لاٹھی چارج سے درجنوں کارکن زخمی ہوگئے، جن میں غلام قادر وار سوپور، عبدالکریم سوپور، سجاد احمد، ظفر حبیب ڈار زینہ کوٹ، سجاد احمد ڈاؤن ٹاون، ماسٹر عبدالغنی دیالگام، غلام حسن حجام قاضی گنڈ، عبد الغنی بٹ چوگل اور جاوید احمد میر لولاب شدید طور زخمی ہیں اور انہیں اسپتال میں داخل کرانا پڑا ہے۔ ترجمان کے مطابق صدرِ ضلع اسلام آباد میر حفیظ اللہ، صدرِ ضلع بانڈی پورہ رئیس احمد میر اور صدرِ تحصیل اسلام آباد عاشق احمد سمیت درجنوں ممبروں کو اپنے اپنے گھروں سے گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہرین نے پولیس پرپتھراؤ کیا جس کے دوران ایک پولیس آفیسر بھی زخمی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں پولیس نے مجبوراً لاٹھی چارج کیا تاہم اس دوران کوئی بھی شخص زخمی نہیں ہوا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: