سویبگ بڈگام میں مگ -21 طیارہ گرکر تباہ

MiG-21-IAFوسطی ضلع بڈگام کے سویبگ علاقے میں پیر کو بھارتی فضائیہ کا ایک جنگی طیارہ (مگ 21) گر کر تباہ ہوگیا جس سے علاقے میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی تاہم طیارہ کا پائیلٹ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔یہ حادثہ 11بجے صبح سویبگ کے ہانجک پورہ محلے میں ایک اسکول کے نزدیک پیش آیا تاہم طلبہ معجزاتی طور محفوظ رہے ۔عینی شاہدین کے مطابق طیارہ زور دار دھماکے کے ساتھ سفیدوں کے ساتھ ٹکراکر تباہ ہوگیا۔غلام احمد نامی ایک شہری نے بتایا’’ طیارہ جب سفیدوں کے ساتھ ٹکرا گیا تو اس میں آگ کے شعلے بلند ہوئے ۔ جیسے ہی یہ زمین پر گر پڑا تو ایک طاقتور دھماکہ ہوا اور اس میں آگ لگ گئی‘‘۔مذکورہ شہری نے مزید کہا’’ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ دور دور تک آواز سنائی دی اور دھماکے کی آواز سنتے ہی سویبگ اور اس کے پڑوسی گاؤں دہرمنہ اور ہرن میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی‘‘۔عبد الاحد نامی ایک نوجوان نے کہا ’’ جیسے ہی طیارہ گرنے کی خبرعلاقے میں پھیل گئی تو سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جائے حادثہ کی طرف دوڑ پڑے‘‘ ۔انہوں نے کہا’’کئی والدین تشویش کی صورتحال میں جائے حادثہ کے قریب سکول کی طرف دوڑ پڑے اور اپنے بچوں کی خیر و عافیت دریافت کرنے لگے‘‘۔اس دوران واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فورسز نے جائے حادثہ کو گھیرے میں لیا ۔ پولیس ، فوج اورفضائیہ کے حکام نے موقعہ پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ دفاعی ترجمان کرنل ایس ڈی گوسوامی نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کی نسبت کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ طیارے میں ایک پائلٹ تھاجس نے سرینگر ائیر بیس سے اْڑان بھرلی تھی اور معمول کی تربیتی پرواز پر نکلا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ روسی ساخت کا مگ 21 بھارتی فضائیہ کا اہم ترین لڑاکا طیارہ تصور کیا جاتا ہے۔بھارتی فضائیہ کا اہم جنگی طیارہ ہونے کے باوجود مگ۔21 کو سب سے غیرمحفوظ جنگی طیارہ سمجھا جاتا ہے۔ اکثر حادثوں کا شکار ہونے کی وجہ سے اس طیارہ کو فلائنگ کوفن یعنی ’اْڑتا تابوت‘ بھی کہا جاتا ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ 1970 کی دہائی کے دوران عراقی ائیرفورس کے اہلکاروں کو مگ ۔21 چلانے کی تربیت بھارتی ائیرفورس نے ہی دی تھی۔سرکاری ریکارڈکے مطابق 1970سے کشمیر سمیت بھارت کی مختلف ریاستوں میں مگ 21 طیارے 30 سے زائد مرتبہ حادثوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان حادثوں میں بھارتی فضائیہ کے 170 سے زائد پائلٹ اور 40 سے زائد عام شہری مارے گئے ۔صرف سال 2010سے 2013تک 14 مگ – 21 لڑاکا طیارے تباہ ہوگئے۔گزشتہ برس بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ مگ 21 جنوبی کشمیر میں اونتی پورہ ائیر بیس سے اْڑان بھرتے ہی نزدیکی قصبہ بیج بیہاڑہ میں گر کر تباہ ہوگیاتھااور پائلٹ کی موت واقع ہوگئی ۔اس سے قبل2013میں سرینگر ائرپورٹ کے قریب مگ۔21 ایک رہائشی مکان پر گر کر تباہ ہوگیا ۔ پائلٹ تو بچ گیا تھا لیکن ایک شہری لقمہ اجل بن گیا۔ 2007 میں جموں کے ریاسی قصبہ میں مگ۔21 گرکر تباہ ہوگیا اور2 پائلٹ ہلاک ہوگئے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: