سیلاب کی برسی پر کشمیر میں ہمہ گیر ہڑتال

ایک سال بعد بھی سیلاب متاثرین کی بحالی اور بازآبادکاری نہ ہونے کے خلاف وادی بھر میں پیر کو تاجروں کی کال پر مکمل ہڑتال کی گئی۔ ریاست کی سبھی مزاحمتی جماعتوں نے ہڑتالی کال کی مکمل حمایت کی تھی۔ تجارتی انجمنوں نے لال چوک میں ایک احتجاجی جلسے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومت نے اتوارکی شام سے ہی کئی تجارتی اور مزا حمتی لیڈران کوگرفتاراور خانہ نظر بندکیا۔ لالچوک کی ناکہ بندی کی گئی تھی اور شہر کے دیگر علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔واضح رہے کہ 7 ستمبر2014 کو دریائے جہلم کی سطح نے 100 سالہ ریکاڑ توڑ دیا تھا اور کشمیر کے بیشتر علاقے طغیانی کی زد میں آ گئے تھے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پونے دو لاکھ گھر ناقابلِ رہائش بن گئے جس کے باعث 15 لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور جموں و کشمیر کے صوبوں میں 281 لوگ لقمہ اجل بن گئے۔اس تباہ کن سیلاب کے دوران وادی بالخصوص سرینگرکا کاروباری ڈھانچہ بری طرح متاثر ہو گیا۔اْس وقت کی سرکار نے نقصان کا تخمینہ لگا کر حکومت ہند سے 44 کروڑ روپے کے مالی پیکیج کا مطالبہ کیا تھاجبکہ تاجروں نے ایک لاکھ کروڑ روپے کے نقصان کی بات کی تھی۔تب سے وادی کی تاجر برادری سیلاب سے متاثرہ دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھیوں کی امداد اور بازآبادکاری کا مطالبہ کررہی ہے اور اس ضمن میں ایک احتجاجی مہم بھی جاری ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی کے تحت تجارتی انجمنوں کے مشترکہ اتحاد’کشمیر اکنامک الائنس‘ نے سیلاب کا ایک سال مکمل ہونے کے باوجود متاثرین کی بازآبادکاری میں سرکاری لیت و لعل کے خلاف7ستمبر یعنی سیلاب کی برسی کے موقعہ پر یوم سیاہ منانے اور مکمل ہڑتال کی کال دی تھی جس کی کئی دیگر سرکردہ تجارتی اور مزاحتمی انجمنوں نے بھی حمایت کی۔ اکنامک الائنس نے سیلاب کی برسی پر لالچوک میں گھنٹہ گھرکے قریب ایک احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کا پروگرام بنایا تھا جس کی ضلع انتظامیہ نے اجازت نہیں دی۔چنانچہ تاجروں کے احتجاجی جلسے کو ناکام بنانے کیلئے نہ صرف شہر کے حساس علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری تعداد تعینات کی گئی بلکہ لالچوک اور گردونواح کے علاقوں میں بھی لوگوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے گھنٹہ گھر کی طرف جانے والے تمام راستوں کو خاردار تار کے ذریعے سیل کردیا گیا تھا اور فورسز کی بکتر بند گاڑیاں کھڑی کی گئیں۔شہر اور اس کے گردونواح میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہنے سے بازار سنسان پڑے رہے اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔یہ صورتحال سول لائنز کے تمام بازاروں اور تجارتی مراکز کے ساتھ ساتھ پائین شہر میں بھی نظر آئی جہاں دکانداروں اور تاجروں کی روزمرہ سرگرمیاں احتجاج کے بطور معطل رہیں۔شہر میں ٹریفک کی آواجاہی معطل رہی اور سڑکوں پر صرف پرائیویٹ گاڑیاں ہی نظر آئیں۔ہڑتالی کال کاسرینگر سمیت وادی کے تمام اضلاع اورقصبہ جات میں اثر دیکھنے کو ملا۔بارہمولہ، کپوارہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ میں بھی اکنامک الائنس کی کال پر مکمل ہڑتال کے باعث معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ہڑتال کے نتیجے میں معمول کے حالات میں مصروف رہنے والے بازار ویران پڑے رہے اور اس طرح تاجروں اور دکانداروں نے اپنا احتجاج درج کیا۔اس دوران 11بجے کے قریب کشمیر اکنامک الائنس کے وائس چیئرمین فاروق احمد ڈار کی قیادت میں درجنوں تاجر لیڈران پریس کالونی سرینگر میں نمودار ہوئے اور لالچوک کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔ مظاہرین نے جب گھنٹہ گھر کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی توپولیس نے انہیں روک دیا۔اس موقعہ پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان سخت مخاصمت ہوئی جس کے دوران کئی تاجر لیڈران کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور انہیں کوٹھی باغ تھانے پہنچایا گیا۔لالچوک جلسے کو ناکام بنانے کیلئے تجارتی تنظیموں کے ساتھ ساتھ پولیس نے مزاحتمی قائدین کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائیں اور کئی لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: