سیلاب2014۔۔۔بازآبادکاری پر سوالیہ

جموں و کشمیر میں سیلاب کی شکل میں آئی قیامت صغریٰ کو گذرے اب ایک سال ہوگیااور آج اْس تباہ کن سیلاب کی برسی منائی جارہی ہے۔کشمیر کی اب تک کی سب سے بڑی تباہی کا یہ تازہ اور بھیانک باب اسطرح غیر متوقع طور رقم ہوا کہ دل یقین کرنے کو مانتا ہی نہیں ہے لیکن اجڑی بستیاں ،نابود ہوئے گھر، ہزاروں متاثرین کی خون کے آنسو رلا دینے والی کہانیاں مگر مجبور کرتی ہیں کہ نا قابلِ یقین مناظر کو حقیقت کے بطور قبول کر ہی لیا جائے۔اس صورتحال میں جہاں ایک طرف حزب اقتدار غم و اندوہ کی اس برسی کو’ احیائے نو‘کا نام دیکر یہ جتلا رہی ہے کہ کام ہوا ہے،کام ہورہا ہے اور کام ہوگا وہیں حزب اختلاف کا یہ ماننا ہے کہ کام ہوا کہ نہیں ہوا لیکن باتیں بہت ہوئیں۔اس دوران مزاحمتی جماعتوں نے کشمیری عوام کے تئیں حکومت کے سلوک کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب 2014 کے دوران ریاستی عوام نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوکے یہ ثابت کردیا کہ اس قوم کو ریاستی یا مرکزی حکومتوں سے کوئی امید وابستہ نہیں ہے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان اعلیٰ ڈاکٹر محبوب بیگ کا کہنا ہے کہ سیلاب2014واقعی ایک ایسی تباہ کن آفت ہے جسے کوئی بھی انسان بالخصوص ریاستی عوام لاکھ کوششوں کے باوجود بھی نہیں بھلا سکے گا۔انہوں نے سابق حکومت (این سی کانگریس)کوہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ’’پہلے یہ دیکھنا ہے کہ اْس وقت کی حکومت سیلاب زدگان کی کتنا مدد کرسکی ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ حد تو یہ ہے کہ سیلاب کے دوران لوگوں کو کشتیاں فراہم نہیں کی جاسکیں اور اس پر طرہ یہ کہ حکومت نے راہ فرار اختیارکر لی‘‘۔ڈاکٹر بیگ نے سیلاب متاثرین کے تئیں موجودہ سرکار کے کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ کام ہوا ہے،کام ہورہا ہے اور کام ہوگا۔ بیگ کے مطابق اْنہیں امید ہے کہ نومبر2015 تک سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری ہوگی،جیسا کہ وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے یقین دہانی کرائی ہے۔نیشنل کانفرنس جنرل سیکریٹری علی محمد ساگرکے مطابق ایک سال کے دوران کام ہوا کہ نہیں ہوا البتہ باتیں بہت ہوئیں۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب متاثرین کو بازآبادکاری کی بجائے صرف مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ساگر نے کہا’’ہم نے متاثرین کی بحالی اور بازآبادکاری کے سلسلے میں ایک خاکہ کھینچا تھا اور اس سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی دو مرتبہ ریاستی دورے پر آئے لیکن عین موقعے پر پی ڈی پی نے سیلاب متاثرین کی بازآباد کاری کی بجائے الیکشن منعقد کرانے پر زور دیا‘‘۔ساگر کے مطابق اْن کی پارٹی نے یہ احتجاج کیا تھا کہ متاثرین کی بازآبادکاری تک انتخابات کو مؤخر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اب موجودہ سرکار کے تقریباً سات ماہ بیت چکے ہیں اورسیلاب متاثرین کی بحالی کے حوالے باتیں بہت ہوچکی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب مایوس ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران عوام کو بازآبادکاری کے خوشنما نعروں سے بہلانے کی کوشش کی گئی اور وعدے کئے گئے تھے کہ پہلی ترجیح بازآبادکاری ہوگی لیکن وہ سارے وعدے سراب ثابت ہوگئے۔ این سی جنرل سیکریٹری کے مطابق حد یہ ہے کہ مرکزی سرکار نے بھی جموں و کشمیر کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا۔ساگر کے مطابق جموں و کشمیر کے مقابلے میں دیگر ریاستوں کو دو یا تین ماہ کے دوران ہی امداد اور بازآبادکاری پیکیج فراہم کئے گئے۔سی پی آئی (ایم) لیڈر اور ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی کے مطابق دلی سے لیکر ریاستی حکمران اتنے غیر سنجیدہ ہیں کہ وہ افسوس کا اظہار کرنا بھی بھول گئے۔ڈیموکریٹک نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر غلام حسن میر نے کہا ’’الیکشن سے قبل شور بپا تھا کہ بازآبادکاری ہوگی ،تعمیروترقی کا ایک نیا دور دورہ ہوگا تاہم ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے ‘‘۔انہوں نے کہا’’کشمیری بے گھر ہیں، حکومت شادیانے منارہی ہے اور یہ یاد ہی نہیں ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ہی انہیں حکومت ملی ہے‘‘۔ پردیش کانگریس کمیٹی صدر غلام احمد میر نے پی ڈی پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اِس جماعت کا الیکشن سے قبل ہی بی جے پی کے ساتھ اتحاد طے ہوچکا تھا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر الیکشن کی بجائے سیلاب متاثرین کو ترجیح دی جاتی۔انہوں نے کہا ’’افسوس کا مقام ہے کہ نہ ہی موجودہ سرکاربازآبادکاری پیکیج کواطمینان بخش طریقے سے پیش کرسکی اور نہ ہی حکومت ہند نے اسے سنجیدگی سے لیا‘‘۔اس دوران حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے نوجوانوں ،دینی و مزاحمتی جماعتوں کی سیلاب 2014کے دوران امدادی سرگرمیوں کو جموں و کشمیر کی تاریخ کا زریں باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوش آئند قدم ہے کہ کشمیریوں نے خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہاکہ سیلاب2014کی صورتحال سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کشمیری عوام کے حقوق مسلسل پامال ہورہے ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ پی ڈی پی کی حمایت سے بی جے پی اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اپنے خاکوں میں رنگ بھر رہی ہے۔حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے سیلاب2014کو ایک آزمائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری قوم نے من حیث القوم جو جذبہ دکھایا وہ قابل تعریف ہے۔انہوں نے کہا’’ اس جذبے سے ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا سبق ملا ہے‘‘۔لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیری لوگوں کے چہروں سے مایوسی چھلک رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ کئی بیرونی ممالک نے سیلاب کے دوران امداد کی پیشکش کی تھی لیکن حکومت ہند نے اْس پر روک لگادی۔دختران ملت سربراہ اور معروف مزاحمتی خاتون لیڈر آسیہ اندرابی نے کہا ’’ سیلاب 2014میں یہاں سب کچھ تباہ ہوا لیکن یہاں کی حکومت اور ہندوستان صرف تماشا دیکھتا رہ گیا‘‘۔انہوں نے کہا’’ پاکستان اور دیگر ممالک نے اپنے تعاون کا ہاتھ بڑھایا تھالیکن بھارت نے اُسے روک دیا‘‘۔انہوں نے جذباتی اندازمیں سیلابی صورتحال کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ سیلاب کے وقت بھارت کے طرز عمل سے یہ بات مزید تقویت پاگئی کہ یہاں بھارت کی غلامی میں رہنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: