بڑے گوشت ’بڈماز‘ پر عدالتی پابندی، کشمیر سیخ پا

جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے بڑے گوشت کی خریدوفروخت پرپاندی عائد کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست میں بڑے گوشت کی پابندی سے متعلق پہلے سے موجود حکمنامہ پر سختی سے عملدر آمد یقینی بنائے۔پابندی کا یہ فیصلہ جمعرات کو عدالت عالیہ نے پری موکش سیٹھ نامی ایک وکیل کی درخواست پر سنایا ہے۔عدلیہ نے فیصلے میں 1928 میں ڈوگرہ شاہی کے دوران بنے رنبیر پینل کوڈ کے سیکشن 298 الف کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ گائے ، بیل اور بھینس کو ذبح کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ایڈوکیٹ پریموکش سیٹھ کی طرف سے ایک مفادِ عامہ کی عرضی دائر کی گئی تھی جس میں بڑے گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔معلوم رہے کہ گائے، بھینس یا بیل کے گوشت کو کشمیری زبان میں’ بڈماز‘ کہتے ہیں۔عرضی گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ سنیل سیٹھی،جو بی جے پی کی ریاستی شاخ کے ترجمان بھی ہیں،عدالت میں پیش ہوئے جبکہ حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وشال شرما نے دلائل پیش کئے۔مفاد عامہ کی عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس دھیرج سنگھ کوتوال اور جسٹس جنک راج کوتوال پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد محسوس کیا کہ ڈویڑنل کمشنر کشمیر کی جانب سے وادی میں مو یشیوں کی سمگلنگ اور ذبح کرنے سے متعلق مناسب جواب دائر نہیں کیا گیا ہے اور اس حوالے سے مناسب جواب دائر کرنے کی ہدایت دی۔ ڈویڑن بنچ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ وہ بڑے گوشت کی فروخت پر پابندی سے متعلق موجودہ قانون کو سختی سے نافذ کرے۔ عدالت عالیہ نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو حکم دیا کہ وہ ریاست بھر میں گائے اور اس کے قبیل کے جانوروں کے گوشت کی فروخت کو روکنے کیلئے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مفادِ عامہ کی عرضی میں کہا گیا تھا کہ رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ298الف کے تحت گائے یا اس کے قبیل( بشمول بیل و بھینس) کے جانور کو جان بوجھ کر مارنا غیر ضمانتی جرم ہے جس کی سزا 10سال کی قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ 298 ب کے مطابق ایسے جانور کا گوشت اپنے پاس رکھنا قابلِ دست اندازی اور غیر ضمانتی جرم جس کی سزا ایک سال قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے لیکن اس کے باوجود ریاست کے کچھ حصوں میں گائے کے گوشت کی فروخت بلا روک ٹوک جاری ہے جس سے سماج کے ایک طبقہ کے جذبات مجروح ہو تے ہیں۔ڈویڑن بنچ نے غیر معمولی فیصلہ صادر کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ ریاست جموں و کشمیر میں جو کوئی بھی شخص گائے ، بیل اور بھینس جیسے جانوروں کو ذبح کر کے ان کا گوشت فروخت کرنے کا مرتکب پایا جائے ، اس کے خلاف متعلقہ قانون کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔یاد رہے کہ رنبیر پینل کوڈ کا اطلاق ریاست میں1862میں عمل میں لایا گیا اور اسی سال بھارت میں انڈین پینل کوڈ نافذ ہوا۔آزادی پسند اور مذہبی جماعتوں نے اس فیصلے کے خلاف شدید ردعمل کا اظہارکیا ہے۔حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں سمیت لبریشن فرنٹ اور مجلس علماء نے بڑے جانوروں کو ذبح کرنے پرہائی کورٹ کے احکامات کو مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے 12ستمبر یعنی سنیچر کو ہڑتال کی کال دی ہے جبکہ کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سنیچر کو عدالتوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ نے عیدالاضحی کے روز لال چوک میں گائے کی قربانی پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔جماعت اسلامی نے تو یہاں تک کہا کہ اگر مقامی اسمبلی اور بھارت پارلیمنٹ میں بھی متفقہ قرارداد کے ذریعہ بڑے گوشت ’ بڈماز‘ کو ممنوع قرار دیا گیا تو بھی کشمیری اس سے گریز نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں مزاحمتی لائحہ عمل طے کرنے کے لیے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی مذہبی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس 12 ستمبر کو سرینگر میں طلب کیا گیا ہے۔اس اجلاس میں بڑے گوشت یعنی بڈماز پر پابندی کے خلاف مزاحمت کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔واضح رہے کہ 1928 سے ہی بڑے گوشت پر پابندی نافذ ہے۔ ڈوگرہ شاہی کے دوران مہاراجہ رنبیر سنگھ کے بنائے رنبیر پینل کوڈ کے سیکشن 298 کے مطابق جموں اور کشمیر میں گائے یا بھینس کے گوشت کا کاروبار ممنوع ہے۔قابل ذکر ہے کہ 35 برس قبل بھی جب حکام نے رنبیر پینل کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کی تو اْس وقت کے مذہبی رہنما قاضی نثار نے سرعام جنوبی کشمیر میں گائے ذبح کرکے کشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی تحریک شروع کی تھی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: