راجستھان میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ پر حملہ،کئی زخمی

راجستھان میں زیر تعلیم جموں و کشمیر کے طلبہ پرپولیس اور مقامی نوجوانوں نے مبینہ طور جان لیوا حملہ کیا ہے۔حملے میں کئی طلبہ زخمی ہوگئے ہیں جن کو علاجہ ومعالجہ کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ کالج انتظامیہ نے طالب علموں کو مبینہ طور کالج مکمل طور خالی کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ اس حملے کے بعد اب بیشتر طلبہ نے خوف کی وجہ سے کشمیر واپسی کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ ادارے میں ایک ہزار کے قریب طالب علم وزیراعظم اسکالر شپ سکیم کے تحت زیر تعلیم ہیں جن کا تعلق جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع سے ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں جب بیرون ریاست زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کو نشانہ بناکر اْن پر جان لیوا حملہ کیا گیاہو بلکہ اس سے قبل بھی ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں کئی بار ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔یہ واقعہ سنیچر کو اُس وقت پیش آیا ہے جب پیسیفک انسٹی ٹیوٹ (Pacific Institute) ادھے پور میں زیر تعلیم طلبہ دوپہر کا کھانا کھانے کیلئے ہوسٹل میں جمع ہوگئے تھے۔کالج میں زیر تعلیم ایک طالب علم محمد ظفر (نام تبدیل)نے فون پر بتایا ’’ہم ہوسٹل میں دوپہر کا کھانا کھارہے تھے کہ اس دوران راجوری کے ایک لڑکے نے راٹھور نامی مطبخ انچارج سے شکایت کی کہ کھانا پینا صحیح نہیں ہے‘‘۔مظفر نے کہا ’’راٹھور مذکورہ طالب کی شکایت سننے کے ساتھ ہی بھڑک اٹھے اور زبردست گالیاں دینے لگے ‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’ راٹھورنے ہمیں طعنے دئے کہ آپ لوگوں کو مفت میں تعلیم مل رہی ہے اس لئے آپ کو بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ہمیں یہ طعنہ ناگوار گزرا جس کے بعد راٹھور کے ساتھ توتو میں میں ہوگئی ‘‘۔مظفر کا کہنا تھا کہ’ راٹھور نے نہ صرف گالیاں دینے کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ مقامی نوجوانوں کوبھی ہمارے خلاف اُکسایا ‘ ۔ایک اور طالب علم راشد ارشاد(نام تبدیل)نے کہاکہ لاٹھیوں اور خنجروں سے لیس مقامی نوجوان ہوسٹلوں میں گھس کر جموں و کشمیر کے طلبہ پر ٹوٹ پڑے جس کے نتیجے میں کئے لڑکے زخمی ہوگئے۔راشد کے مطابق حملہ آوروں نے اُن کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور الماریوں میں جتنی بھی چیزیں (لیپ ٹاپ، کتابیں ،کپڑے)تھیں اُنہیں تہس نہس کیا ۔مذکورہ طالب علم نے کہا ’’ہم نے انتظامیہ اور پولیس کے ساتھہ رابطہ کیا تاہم دونوں کوئی تسلی بخش کارروائی نہیں ہوئی۔اس دوران کشمیری لڑکے جمع ہوگئے اور اپنی حفاظت کیلئے حملہ آوروں سے لڑپڑے۔ہم پٹتے رہے لیکن پولیس نے محض ایک خاموش تماشائی کا رول ادا کیا ‘‘۔کالج میں زیر تعلیم طالب علم اس حملے کے بعد اب خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور انہوں نے واپسی کا منصوبہ بنالیا ہے۔مذکورہ طلاب نے کہا کہ شام ہوتے ہی انہیں کالج انتظامیہ نے ادارہ چھوڑنے کی ہدایت دے دی۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی کئی بارکالج میں لڑائیاں ہوگئیں اورہمیشہ کشمیری طلبہ کوطعنے دئے جاتے ہیں کہ آپ’ اسکالر شپ‘ کی مہربانی سے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ کالج کی ایک ذمہ دارمس نیتو نے اس سارے معاملے سے اپنا پلو جھاڑتے ہوئے کہا ’’میں کالج سے باہر ہوں اورآپ میرے سینئر سے بات کریں‘‘۔ حالانکہ کشمیری طلبہ کے مطابق وہ دن بھر کالج میں ہی موجود تھیں۔کالج انتظامیہ کے ایک عہدیدار کا موبائل نمبرجو نیتو نے ہی دیا کئی بار ڈائل کیا لیکن انہوں نے بار بار کاٹا۔ریاست کے وزیر تعلیم نعیم اختر نے اس واقعہ کی فوری تحقیقات کا یقین دلایا۔انہوں نے کہا کہ وہ چیف سیکریٹری بی آر شرما کو یہ معاملہ راجستھان حکومت کے ساتھ اٹھانے کیلئے کہیں گے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: