عید کے موقع پر کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی

no-internetوادی میں عید الاضحی کے موقع پر انٹر نیٹ سروس مکمل طور پر تین دن سے زائد وقت تک بند رکھنے کے سرکاری فیصلے سے ریاستی عوام کوگونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وادی میں موبائل سروس چالو ہونے کے بعد پہلی بارعیدکے مقدس موقع پرانٹرنیٹ پر پابندی لگادی گئی جبکہ اس سے قبل صرف 26جنوری اور15اگست ( ہندوستان کا یوم جمہوریہ اور یوم آزادی) کے مواقع پر موبائل سروس بند رکھی جاتی تھی۔حکام کے اس اقدام سے جہاں عام لوگوں کا رابطہ دنیا سے کٹ کر رہ گیا وہیں اْن لوگوں کو سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہونا پڑا جنہیں علاجہ و معالجہ کی غرض سے دلی ،ممبئی اورچندی گڑھ جیسے شہروں کا سفر کرنے کی مجبوری تھی۔ اس فیصلے سے ناراض لوگوں کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی ۔بی جے پی قیادت نے انتہائی سخت رویہ اپناکر لوگوں کو متعدد مسائل سے دوچار کردیا۔اس دوران حکام نے انٹرنیٹ سروس پر مزید وقت کیلئے پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ’’ شرپسندوں کی طرف سے انٹرنیٹ سروس کے غلط استعمال کے پیش نظر احتیاطی طوراِس اقدام کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ فرقہ وارانہ رشدد بھڑکنے کا کوئی احتمال نہ رہے‘‘۔ واضح رہے کہ کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس سید جاوید مجتبیٰ گیلانی نے عرفہ کے روز تمام موبائل کمپنیوں کو خط لکھ کر انہیں وادی میں 46 گھنٹوں کیلئے تمام انٹرنیٹ خدمات بند رکھنے کی ہدایت کی۔خیال رہے کہ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ وادی میں انٹرنیٹ خدمات بند کی گئیں۔ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ انٹرنیٹ سروس ہی نہیں بلکہ ایس ایم ایس اور موبائل فون خدمات پربھی پابندی عائد کی گئی لیکن ایسا صرف15اگست یا پھر 26جنوری کے موقعوں پرہی کیا جاتا رہا ہے لیکن عید کے موقعہ پر پہلی بار 2002 ، جب سے وادی میں موبائل سروس کا آغاز کیا گیا ہے، انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند رکھی گئی۔حکام کے مطابق یہ’ احتیاطی‘ اقدامات اسلئے کئے گئے تاکہ عوام کو عید کے موقع پر بڑے جانوروں کو قربان کرنے کی تصاویر اپ لوڈ کرنے سے روکا جاسکے۔آئی جی پی کشمیر ایس جے ایم گیلانی کا کہنا ہے ’’صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ پیر کی صبح 10بجے تک موبائل انٹرنیٹ پر پابندی برقرار رکھی جائے تاہم اتوارکی شام 8بجے براڈ بینڈ سروس بحال ہوگی ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’اگر ہم نے انٹرنیٹ سروس پر پابندی عائد نہیں کی ہوتی ،یہاں فرقہ وارانہ فسادات کے بڑے خدشات موجود تھے۔ امن دشمن عناصر نے کچھ ایسی ہی تصاویر اپ لوڈ کی ہوتیں۔اسی لئے یہ فیصلہ لیا گیا‘‘۔انٹرنیٹ پر پابندی جموں و کشمیر میں گوشت پر پابندی کو لاگو کرنے کے حالیہ ہائی کورٹ ہدایت کے تناظر میں لیا گیا۔علیحدگی پسندوں نے عدالت عالیہ کے اس فیصلے کو مداخلت فی الدین سے تعبیر کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی تھی کہ عید پر بڑے جانوروں کی قربانی عمل میں لائی جائے۔عیدقربان کے مقدس موقع پرانٹرنیٹ خدمات پر حکام کے اس فیصلے سے پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط سرکار کے خلاف عوامی حلقوں میں کافی غم و غصہ پایا جارہا ہے۔طلبہ ، مریض ، سیاح ، سفر کے خواہاں افراد اورسٹاک مارکیٹ سے جڑے لوگ نے اس طرح ایک طویل مدت کیلئے پابندی نافذ کرنے کے حکومتی اقدام پرشدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔سول لائنز کے ایک شہری عبد الرشید کا کہنا ہے کہ اْسے اچانک دلی جانے کی مجبوری ہوئی کیونکہ اْس کا ایک قریبی رشتہ دار وہاں زیر علاج ہے لیکن بے پناہ کوششوں کے باوجود ٹکٹ نہیں مل سکی۔انہوں نے کہا ’’میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ پی ڈی پی کے وہ وعدے کہاں گئے جو الیکشن میں ہمارے ساتھ کئے گئے تھے‘‘۔بیرون ریاست زیر تعلیم کئی طلبہ جو عیدمنانے کی غرض سے ایک یا دو دن کی چھٹیوں کیلئے کشمیر آئے تھے ،انتہائی نالاں ہیں۔ایک طالب علم اشتیاق احمد نے بتایا’’میں صبح سے اس کوشش میں ہوں کہ کہیں سے مجھے جہاز کی ٹکٹ مل جائے اور میں کالج(پونے) پہنچ جاؤں لیکن ٹراول ایجنٹ انکار کررہے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’ اس سے قبل میں ہمیشہ اپنے موبائل سے ہی ٹکٹ بک کیا کرتا تھا‘‘۔ سٹاک مارکیٹ سے وابستہ افراد انتہائی تذبذب اورپریشانی کے عالم میں ہیں۔ اْن کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر پابندی کے بعد انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ اْن کے حصص کا کیا حال ہے۔محمد اقبال نامی ایک شیئر ہولڈر نے کہا’’ ممکن ہے کہ انٹرنیٹ پابندی کے اس وقفے کے دوران نفع بھی ہوا ہوگا لیکن اللہ بچائے اگر نقصان ہوا ہوگا تو وہ بہت زیادہ ہوگا ‘‘۔

Advertisements

One Response to عید کے موقع پر کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    اپنبے وطن جس کو میں ابھی تک بھُلا نہیں سکا کی ایک ایک خبر پر نظر رہتی ہے ۔ ہر دم اللہ سے بہتری اور آزادی کیلئے دعا گو رہتا ہوں ۔ اپنےبہنوں بھائیوں بھتیجیوں بھتیجوں پر ظُلم دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ اپنے بچپن کے مناظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں ۔ یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ میں جموں کشمیر ہی میں موجود ہوں اور نہیں جانتا کہ کب کوئی زخمی کر دے گا یا قتل کر کے جنگل میں پھینک دے گا ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: