جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس آج سے شروع ہوگا

ریاستی قانون سازیہ کا خزاں اجلاس آج سے منعقد ہورہا ہے۔سات ماہ قبل جب پی ڈی پی-بی جے پی مخلوط سرکار نے اقتدار سنبھالا تھا تب حکومت کیلئے سب سے بڑا معاملہ سیلاب متاثرین کا تھا لیکن سات ماہ کے اِس عرصے کے دوران کئی نئے معاملات نے جنم لے لیا ہے جن میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں شمالی کشمیر میں پُراسرارحالیہ ہلاکتیں، بڑے جانوروں کے گوشت پر پابندی اورعلیحدگی پسندوں کی سیاسی مکانیت جیسے معاملات شامل ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ حزب اختلاف نے قانون سازیہ کے اس مختصر اجلاس کیلئے ایجنڈا مقرر کرلیا ہے کہ وہ مخلوط سرکار سے ان اہم معاملات پر جواب طل کرے گی۔اس سلسلے میں وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے کہا ہے کہ قانون سازیہ اجلاس عوامی مسائل اجگر کرنے کیلئے ایک اہم موقع ہوتا ہے۔انہوں نے ریاست کے قانون سازیہ کوملک کے جمہوری اداروں میں ایک مضبوط ادارہ قرار دیا ۔وزیراعلیٰ نے ان خیالات کا اظہار پی ڈی پی -بی جے پی کے قانون سازیہ اراکین کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اُن کی اتحادی جماعت عوام کی فلاح و بہبود کیلئے لگن سے کام کرے گی۔مفتی نے توقع ظاہر کی کہ حزب اختلاف اجلاس کے دوران ایک تعمیری رول ادا کرے گی جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی احسن طریقے سے انجام پائے جائے گی۔اس موقع پر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے قانون سازیہ اراکین سے تلقین کی کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور اس جمہوری ادارے کا بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔ادھرنیشنل کانفرنس سے وابستہ ممبرانِ قانون سازیہ نے ایک غیر معمولی اجلاس کے دوران سنیچر کو شروع ہونے والے قانون سازیہ اجلاس کےلئے پارٹی لائحہ عمل کو حتمی شکل دی ۔ جمعہ کی شب اپوزیشن نیشنل کانفرنس کے ممبرانِ قانون سازیہ کا ایک غیر معمولی اجلاس پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کارگذار صدر عمر عبداللہ اور جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر کے علاوہ تمام ممبرانِ اسمبلی اور ممبرانِ قانون ساز کونسل موجود تھے۔ اجلاس میں آج سے شروع ہونے والے ریاستی اسمبلی اجلاس کے بارے میں پارٹی کے موقف اور عوامی مطالبات کو اجاگر کرنے کا لائحہ مرتب کیا گیا۔ پارٹی صدر نے ممبران پر زور دیا کہ وہ عوام کے مسائل اجاگر کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں۔ انہوں نے ممبرانِ قانون سازیہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے اور حکمران جماعتیں متاثرین کی راحت کاری کے مزاج میں نظر نہیں آرہی ہیں، اس لئے آپ پر فرض بنتا ہے کہ آپ اس عوامی اور انسانی مسئلہ کو اجاگر کریں اور حکومت کو سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری اور امداد کاری کیلئے جواب دہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس کا مقصد صرف اور صرف عوامی مسائل اور مشکلات کو اجاگر کرنا اور ان کا سدباب کرانا ہوتا ہے۔ اس موقعہ پرعمر عبداللہ نے بھی ممبرانِ قانون سازیہ کو اجلاس کے دوران اپنے اپنے علاقوں کے مسائل اور مشکلات حکومت کے سامنے لانے کی تاکید کی۔ انہوں نے ممبرانِ پر زور دیا” اسمبلی میں اپنے اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کی ترجمانی اور نمائندگی کرنا آپ کا فرض ہے اس لئے آپ اس میں کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں“۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس حالیہ ہلاکتوں ،سیلاب متاثرین اورعارضی ملازمین کے معاملات پر بھی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گی۔اُدھرپردیش کانگریس کمیٹی صدرغلام احمد میر نے کہا کہ ان کی جماعت ریاستی عوام کے مفادات سے جڑے ہر معاملے کو ایوان میں اٹھائے گی ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: