نواز شریف کی گیلانی کو پاکستان آنے کی دعوت

پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے سید علی گیلانی کو پاکستان آنے کی باضابطہ دعوت دی ہے۔اس سلسلے میں نواز شریف نے دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی وساطت سے حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی کے نام ایک تحریری خط بھیجا ہے۔ خط میں وزیر اعظم پاکستان نے حریت کانفرنس کے رول کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ گیلانی کی بے لوث قیادت میں یہ فورم اپنی جدوجہد کو ہر صورت میں جاری رکھے گا اور اس جدوجہد میں پاکستان پوری مستقل مزاجی، استقامت اور پختہ عزم کے ساتھ اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔

معلوم ہوا ہے کہ عبدالباسط نے یہ خط 9اکتوبر جمعہ کو اپنی دلی رہائش گاہ واقع تلک مارگ میں گیلانی تک پہنچایا۔انہوں نے حریت (گ)چیئرمین کو ایک عشائے پر مدعو کیا تھا۔اس موقع پر پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر منصور احمد خان اور دوسرے ذمہ دار بھی موجود تھے، جبکہ گیلانی کے پرسنل سیکریٹری پیر سیف اللہ، سیکریٹری رابطہ عامہ الطاف احمد شاہ اور حریت ترجمان ایاز اکبر بھی اس تقریب میں شریک ہوئے۔ واضح رہے کہ گیلانی میڈیکل چیک اپ کی غرض سے جمعہ کو ہی دہلی روانہ ہوئے ۔ حریت ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اپنے خط میں کشمیری قوم کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی محاذ پر مدد جاری رکھنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی ومنشا کے مطابق ان کے مستقبل کا فیصلہ قیامِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے اور اس ایجنڈے کو نظرانداز کرکے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کا خواب خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔حریت بیان کے مطابق وزیر اعظم پاکستان نے اپنے خط میں گیلانی کے عزم و استقلال، راست گفتاری اور قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ کا کردار اور عمل آنے والی کشمیری نسلوں کیلئے باعث تقلید ہے اور میں آپ کو دورئہ پاکستان کی دعوت دیتا ہوں، تاکہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں، میں بھی آپ کے خیالات سے مستفید ہوسکوں۔ امید ہے کہ آپ اولین فرصت میں دورئہ پاکستان کے لیے وقت نکالیں گے‘۔حریت بیان کے مطابق نواز شریف نے لکھا ہے کہ ’کشمیر کوئی سرحدی تنازعہ نہیں، بلکہ دو کروڑ انسانوں کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے اور ہم نے بھارت پر دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کرکے باہمی تعلقات میں کسی طرح کی پیش رفت کا کوئی امکان نہیں ہے‘۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’قومی سلامتی مشیروں کے مجوزہ مذاکرات صرف اس لیے نہیں ہوسکے کہ بھارت کشمیر کے موضوع پر بات چیت سے انکاری تھا۔ سید علی گیلانی نے تصدیق کی کہ وزیراعظم پاکستان نے انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی ہے ۔انہوں نے  بتایاکہ انہوں نے پاکستان جانے کی دعوت قبول کرلی ہے۔انہوں نے کہا کہ تاہم اس میں سب سے بڑا معاملہ پاسپورٹ کا ہے۔یاد رہے کہ حال ہی میں حکومت نے گیلانی کا پاسپورٹ معطل کیا ۔وزیر اعظم پاکستان نے اپنے خط میں لکھا ہے ” ہم دوسرے ہمسائیوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کے خواہش مند ہیں، البتہ بھارت کا غیر حقیقت پسندانہ رویہ اس راہ میں ہمیشہ بڑی رکاوٹ رہا ہے، بھارت مسائل کو افہام وتفہیم کے بجائے اپنی ملٹری مایٹ کے ذریعے سے حل کرانے کی راہ پر گامزن ہے اور اس روئیے کی وجہ سے پورے برصغیر کی سیاسی غیر یقینیت اور عدمِ استحکام کی صورتحال میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے“۔ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر کے مسلمانوں، بالخصوص کشمیری مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز اور محور ہے اور ان امیدوں پر پورا اُترنے کے لیے ہم اس ملک کو معاشی ترقی، سماجی انصاف اور پائیدار امن سے ہمکنار کرانا چاہتے ہیں، تاکہ وہ ایک مضبوط اور اہم مسلم ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرسکے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: