ادھمپور واقعہ کے خلاف وادی میں ہڑتال

ادھمپور جموں میں کشمیری ٹرک ڈرائیوروں پربلوائیوں کی جانب سے قاتلانہ حملوں کے خلاف تجارتی و مزاحمتی انجمنوں کی جانب سے دی گئی ہڑتالی کال کی وجہ سے پیر کو وادی میں معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے ۔اس دوران پائین شہر میں احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جبکہ کھنہ بل ،پانپور،کاکہ پورہ ،ناربل ،پٹن اور پلہالن میں بھی پتھراﺅ کے واقعات پیش آئے جبکہ لبریشن فرنٹ نے لالچوک ،پیپلز فریڈم لیگ نے پریس کالونی ،وکلاءنے بمنہ کے نزدیک سرینگر جموں شاہرا ہ جبکہ انجینئر رشید کی عوامی اتحاد پارٹی نے ہندوارہ میں احتجاجی جلوس نکال کرادھم پور واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ہڑتال کال کاسرینگر سمیت وادی کے کم و بیش تمام قصبہ جات میں خاصا اثر دیکھنے کو ملا۔شہر اور اس کے گردونواح میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہنے سے بازار سنسان پڑے رہے جبکہ سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری کم رہی ۔

وسطی کشمیر
شہر کے لالچوک سمیت سول لائنز کے تمام بازاروں اور تجارتی مراکز کے ساتھ ساتھ پائین شہر میں دکانداروں اور تاجروں نے احتجاج کے بطور روزمرہ سرگرمیاں معطل رہیں جبکہ گاڑیوں کی آمدورفت بھی بری طرح سے متاثر رہی تاہم بالائی شہر میں ہڑتال کا جزو ی اثر دیکھنے کو ملا جہاں پبلک ٹرانسپورٹ چلتا رہا ۔اس دوران نہ صرف بالائی شہر میں چھوٹی مسافر گاڑیاں چلتی رہیں جبکہ سوموسروس بھی متاثر نہ ہوئی اور بٹہ مالو بس اسٹینڈ سے معمول کے مطابق بین ضلعی ٹرانسپورٹ چلتا رہا۔پائین شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود بہوری کدل، صراف کدل، راجوری کدل اور ملحقہ علاقوں میں نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔جب پولیس نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تو مظاہرین نے پولیس پر سنگباری کی جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہوا ۔دوپہر کے بعد جھڑپوں میں شدت پیدا ہوئی اور پولیس و نیم فوجی دستوں نے کئی جگہوں پر مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گیس کے گولے داغے۔جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا۔کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے بھی جموں میں کشمیری ڈرائیوروں پر حملوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرنے کےلئے عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر ہائی کورٹ سمیت سرینگر کے علاوہ دیگر تمام اضلاع کی تمام چھوٹی بڑی عدالتوں میں معمول کا کام کاج ٹھپ ہوکر رہ گیا۔اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے شعبے سے وابستہ تمام ملازمین ،اسٹامپ فروش اور دیگر متعلقین بھی مکمل ہڑتال پر رہے۔وکلاءکی ایک بڑی تعداد ایسو سی ایشن کے نائب صدر ایڈوکیٹ اعجاز احمد بیدار بمنہ بائی پاس کے نزدیک نمودار ہوئی اور سرینگر جموں شاہراہ پر دھرنا دیکر پر امن احتجاج کیا۔وکلاءنے قریب آدھ گھنٹے تک دھرنا جاری رکھا اور نعرے بازی کی جس کی وجہ سے شاہراہ پر کچھ دیر کےلئے گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی، البتہ یہ دھرنا بعد میں پر امن طور اختتام پذیر ہوا۔ لبریشن فرنٹ کے کئی قائدین او اراکین کو اُسوقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ اُدھمپور میں تین کشمیریوں پر فسطائیوں کی جانب سے جان لیوا حملوں کے خلاف ایک پُرامن احتجاجی جلوس میں شرکت کررہے تھے۔اس کے علاوہ پولیس نے کئی دوسرے لوگوں کو بھی گرفتار کرلیا  جن میں محمد حسین نامی جوان کی سخت مار پیٹ بھی کی گئی ہے۔ پیپلز فریڈم لیگ کا ایک احتجاجی جلوس سرینگر کی پریس کالونی سے تنظیم کے جنرل سیکریٹری محمد رمضان خان کی قیادت میں بر آمد ہوا اور جونہی یہ جلوس لالچوک کی طرف گامزن ہواتو پولیس کی ایک بھاری جمعیت نے جلوس میں شامل افراد پر لاٹھی چارج کرکے جنرل سیکریٹری محمد رمضان خان سمیت کئی کارکنوں کو گرفتار کیا۔بڈگام سے اطلاعات ہیں کہ ضلع میں بھی ہڑتال کا جزوی اثر رہا جس کے دوران بیشتر قصبہ جات میں اگر چہ پبلک ٹرانسپورٹ چلتا رہا تاہم قلیل تعداد میں دکانیں بند رہیں لیکن ہڑتال کی وجہ سے سرکاری دفاترمیں ملازمین کی حاضری متاثر نہ ہوسکی ۔اس دوران ناربل کو چھوڑ کر ضلع کے تمام قصبوں میں صورتحال پر امن رہی تاہم ناربل میں صبح سویرے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سرینگرسے گلمرگ اور بارہمولہ کی طرف جانے والی سڑکوں پر گاڑیوں پر پتھر پھینکے تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایالیکن اس کے بعد ناربل میں مکمل ہڑتال رہی اور ہو کا عالم تھا۔

جنوبی کشمیر
جنوبی کشمیر میں مکمل ہڑتال کے بیچ کھنہ بل ،پانپور اور کاکہ پورہ میں پتھراﺅ کے واقعات پیش آئے۔پلوامہ اور شوپیان اضلاع میں مکمل ہڑتال کے دوران چند جگہوں پر گاڑیوں پر پتھراﺅ کے واقعات رونما ہوئے جبکہ پتھراﺅ کے دوران کئی غیر صوبائی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی۔صبح نو بجے کے قریبپانپور میں کئی نوجوانوں نے غیر صوبائی گاڑیوں پر پتھرﺅ کیا جس سے کئی گاڑئیوں کے شیشے چکنا چور ہوئے۔ اس کے بعد بعد دوپہر ایک بار پھر نوجوانون نے سڑکوں پر آ کر اےسی ہی گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی توڑ پھوڑ کی۔ کاکہ پورہ میں بھی نوجوانون نے کئی گاڑیوں خاصکر ٹپروں پر ہڑتال کے دوران سڑکوں پر چلنے کی پاداش میں پتھراﺅکیا جس سے کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم یہ سلسلہ کچھ ہی وقت چلا۔شوپیاں ضلع میں بھی مکمل ہڑتال کے بیچ پبلک ٹرانسپورٹ بند رہا جبکہ دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہے تاہم سرکاری دفاتر میں حاضری انتہائی کم رہی۔اسلام آباد ضلع میں مکمل ہڑتال کے بیچ کاروباری ادارے بند رہے جبکہ دفاتر میں حاضری معمول کے مطابق انتہائی کم تھی۔سنگم سے پہلگام اور ویری ناک تک مکمل ہڑتال کے بیچ پبلک ٹرانسپورٹ غائب تھا اور صبح کھنہ بل چوک میں نوجوانوں نے احتجاج کرکے ہلکا پتھراﺅ کیاتھا تاہم پولیس نے فوری طور حرکت میں آکر صورتحال پر قابو لیا اور دن بھر ضلع میں پر امن ہڑتال رہی ۔کولگام سے خالد جاوید کے مطابق ضلع میں مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران ٹرانسپورٹ بند رہا اور کاروباری ادارے مقفل رہے ۔ہڑتال کی وجہ سے تمام تحصیل صدر مقامات اور ضلع صدر مقام پر ہو کا عالم تھا تاہم ہڑتال پر امن رہی۔

شمالی کشمیر
سوپور میں ہڑتال کی وجہ سے ہو کا عالم تھا جبکہ پٹن اور پلہالن میں پتھراﺅ کے واقعات پیش آئے جس کے دوران مشتعل مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا تاہم پولیس نے فوری مداخلت کرکے ٹریفک کی آمدورفت بحال کی اور سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال رکھنے کےلئے دونوں جگہوں پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بھاری تعداد تعینات کی گئی۔بارہمولہ  میں مکمل ہڑتال رہی تاہم اکا دکا گاڑیاں چلتی رہیں۔بانڈی پورہ ضلع میں ہڑتال کا جزوی اثر رہا تاہم بانڈی پورہ قصبہ میں مکمل ہڑتال رہی۔کپوارہ ضلع کے کئی علاقو ں میں مکمل طور بند رہا جبکہ ان علاقوں میں گا ڑیو ں کی آمد و رفت بھی متاثر رہی ۔ضلع کے لنگیٹ ،کرالہ گنڈ ،کلنگام ،چوگل اور ہندوارہ قصبہ میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی جبکہ ضلع کے کرالہ پورہ ،ترہگام ،کپوارہ اور سوگام میں جزوی ہڑتال اور اور سڑکو ں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی چلتی رہی ۔اس دوران لنگیٹ ،کرالہ گنڈ ،ہندوارہ اور راجواڑ سے آئے ہوئے سینکڑوں عوامی اتحاد پرٹی کے ورکرو ں نے ہندوارہ کے مین چوک میں ادھم پور واقعہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ اس افسوس ناک واقعہ کی بڑے پیمانے پر تحقیقات ہونی چایئے ۔انہو ں نے مودی سرکار ہائے ہائے کے نعرے بھی لگائے اور ہندوارہ چوک میں نرندر مودی اور مفتی محمد سعید کے پتلے جلا کر مخلوط سرکار کی مسلم دشمن پالیسیوں کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: