دفعہ 35A موت وحیات کا معاملہ،عوامی تحریک شروع کرنے پر زور

دفعہ 35اے کے دفاع کیلئے ’عوامی تحریک‘ شروع کرنے پر زور دیتے ہوئے سینئر قانون دان ظفراحمد شاہ نے کہا کہ اگر 1954کے صدارتی حکمنامے کو ختم کیا جائے گا تو ریاست جموں و کشمیرخصوصی حیثیت ، مستقل رہائشی حقوق اورحق املاک و روزگار کھودے گی ۔ظفر شاہ کے مطابق اس صورتحال سے اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی متاثر ہونگی جو کشمیرکی متنازعہ حیثیت ثابت کرتی ہیں۔ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ اتوار کو کشمیر سنٹر فار سوشل اینڈ ڈیولپمنٹ سٹیڈیز (KCSDS)کے اہتمام سے منعقدہ ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔

واضح رہے کہ آر ایس ایس کی ایک ذیلی تنظیم نے سپریم کورٹ میں ایک اپیل دائر کی ہے جس میں دفعہ 35A کو چلینج کیا گیا ہے۔ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ نے کہا’’تین چیزیں یہاں انتہائی اہم ہیں مستقل باشندے، پشتینی باشندوں تک روزگار محدودکرنا اور اس کو بنانے سے متعلق ریاستی قانون سازیہ کے اختیارات ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’اگر دفعہ35اے کو کالعدم قرار دیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست کے پشتینی باشندوں کو جو اختیارات حاصل ہیں وہ ختم ہوجائیں گے اور یہ حفاظت روزگار، پراپرٹی حاصل کرنے اورسکالرشپ کے معاملات میں بھی ختم ہوجائے گی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح پشتینی باشندوں کی حیثیت ہی تبدیل ہوجائے گی اور غیر ریاستی افراد کیلئے دروازے کھل جائیں گے۔ دفعہ35Aایسی شق ہے جو آئین ہند میں موجود نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی دفعہ ہے جو آئین ہند کے اپلی کیشنز میں شامل صرف ریاست جموں وکشمیر میں قابل نفاذ ہے۔شاہ نے کہا’’اس شق کی ضرورت یونین آف انڈیا کے ساتھ جموں وکشمیر کے محدود الحاق،اقوام متحدہ قرارداد اور گورنر جنرل آف انڈیا کا ریاستی مہاراجہ کو یہ ردعمل کہ عارضی آئینی رشتہ اُس وقت تک ہی رہے گا جب تک کشمیر میں رائے شماری نہ ہوتی ہے ، کی مجبوری کی وجہ سے محسوس ہوئی ‘‘۔انہوں نے کہا’’اس دفعہ کو ختم کرنا اقوام متحدہ قراردادوں کے خلاف ہوگا جن میں رائے شماری کی بات کی گئی ہے ۔اس دفعہ کی منسوخی کی کوششیں ہورہیں او ر ایک دفعہ اگر ایسی کوششیں کامیاب ہوجاتی ہیں تو بیرونی ریاستوں کے شہریوں کو اس ریاست میں نوکریوں اور جائیداد خریدنے کا حق حاصل ہوگا۔دفعہ35Aکی منسوخی کا مطالبہ اس وجہ سے کیاجارہا ہے تاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو کمزور کیاجائے‘‘۔ظفر شاہ نے کہا کہ دفعہ35Aکی منسوخی سے ’’نہ صرف آبادیاتی تناسب تبدیل ہوگا بلکہ مالکانہ حقوق تبدیل ہونگے اور مستقل باشندوں کا آبادیاتی تناسب غیر محفوظ بن جائے گا‘‘۔ان کا مزید کہناتھا’’اور پھر اگر بھارت کل کشمیر میں رائے شماری کرانے کا فیصلہ لیتا ہے تواُس وقت حق رائے دہی کا مسئلہ انہیں سنگین اور پیچیدہ بن جائے گا‘‘۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس دفعہ کی منسوخی کے تباہ کن نتائج برآمد ہونگے اور اگر ایسا کرنے کی اجازت دی گئی تو اس کا یہ مطلب لیاجائے گا کہ ہم اقوام متحدہ قراردادوں کی عمل آوری کے خواہشمند نہیں ہے اور پھر جموں وکشمیر بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرح ایک ریاست ہوگی۔سینئر قانون دان کے مطابق دفعہ35اے کی صورتحال مدنظر رکھ کر سول سوسائٹی ، قانون دان ،ڈاکٹروں اور دیگر شعبہ جات سے وابستہ لوگوں کیلئے یہ لازم بن گیا ہے کہ وہ اس کے دفاع کیلئے ایک ’مکمل عوامی تحریک‘ شروع کریں۔ سینئر ایڈوکیٹ ظفراحمد شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اگر آئین کی اس دفعہ کو ختم کرنے کا فیصلہ سنایا تو سابق فوجیوں کی کالونیوں کی بے تحاشا تعمیر شروع ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی آئین کے مطابق جموں وکشمیر ہندوستان میں ضم نہیں ہواہے بلکہ آئین و قانون کی رو سے جموں وکشمیرنے الحاق کیا ہے جس وجہ سے اس کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں جن کو ہندوستانی پارلیمنٹ ختم نہیں کرسکتی۔انہوں نے مزید کہا ’’اگر ہم اس رٹ پٹیشن کو منسوخ کروانے میں کامیاب ہوگئے تو ہم مضبوط ہوجائیں گے۔اس کو محفوظ کرنے کیلئے ہمیں ہر ایک شہری کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ہم صرف سرینگر کے کوچوں میں ہی نہیں رہ سکتے،یہ ہماری آنے والی نسل کا معاملہ ہے‘‘۔اس موقع پر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم نے دفعہ35اے کا بھر پور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس دفعہ کو پہلی بارنہیں بلکہ اس سے قبل 1956,1961اور1970میں بھی چلنج کیا گیا۔میاں قیوم کے مطابق یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے ،اسی لئے ایک خاص وقت کا تعین کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنا چاہتی ہے اور اس کیلئے دفعہ 35A ہٹا کر راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔بار صدر کا کہنا تھا کہ شرائن بورڈ تنازعہ کیا تھا ،دراصل ہندوستان شرائن بورڈ کے نام پر اراضی حاصل کرکے یہاں غیر ریاستی باشندوں کو بسانا چاہتا تھا۔میاں قیوم نے زور دیکر کہا ’’ اگر ہم نے اس وقت احتجاج نہیں کیااور اگر ہم چپ رہے تو بہت زیادہ خطرہ ہے کیونکہ انہیں کوئی ٹوکنے والا نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’بار ایسو سی ایشن پوری ریاست کے وکلاء کے علاوہ آزادی پسند لیڈران کے ساتھ بھی اس معاملے پر بات چیت کررہی ہے ‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’بار ایسو سی ایشن کا موقف ہے کہ ہم اس پٹیشن کے خلاف بحث کریں گے کیونکہ ہمارے پاس ایک مضبوط کیس ہے ‘‘۔انہوں نے معاملے کی نوعیت کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے تجویز دی کہ’ عوام کو باخبر کرنا اشد ضرورت ہے بلکہ یہ نہیں دیکھنا ہے کہ بار ہی سپریم کورٹ جائے ،معاملہ اتنا حساس اور اہم ہے کہ ہم سب کو سپریم کورٹ جانا چاہئے۔ میاں قیوم کے مطابق بارایسو سی ایشن سپریم کورٹ میں دفعہ 35اے کے دفاع کیلئے لائحہ مرتب کررہی ہے۔میاں قیوم کے مطابق برٹش انڈیا کی تقسیم کے وقت پاکستان سے 60 ہزار ہندو مہاجرین بھارت آئے تھے، جنہیں جموں میں بسایا گیااور اس دفعہ کے ہٹنے سے اْن مہاجرین کو مستقل شہریت دی جائے گی جن کی تعداد اب چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دفعہ 35 اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے ، غیر منقولہ جائیداد خریدنے ، نوکری حاصل کرنے اور ووٹ ڈالنے کے حق سے دور رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے خلاف ہرسطح پر صدائے احتجاج بلند کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا’’اس دفعہ کو چلینج کرنے کا ہدف اس کے سوا اورکچھ بھی نہیں کہ ریاست کے پشتینی باشندگان اس آئینی تحفظ سے محروم ہو جائیں اور غیر ریاستی باشندوں کو ریاست جموں وکشمیر میں غیر منقولہ جائداد کے حصول کے علاوہ ریاست کی ڈیموگرافی تبدیل کرسکیں ‘‘۔معروف تجزیہ نگار عبدالمجید زرگر نے کہا کہ اس منصوبے کے پس پردہ اصل ہدف ریاست جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دائراس اپیل کا جو بھی حشر ہو ، اس سے قطع نظردیکھنا یہ ہے کہ سنگھ پریوار کو یہ ترکیب اختیارکرنے میں کیوں انتظار کرنا پڑا جبکہ سنگھ پریوار سے وابستہ تھنک ٹینکس کہلانے والی تنظیمیںیہ اقدام پہلے بھی کرسکتی تھیں خصوصاََ جب وہ مرکز میں بلواسطہ یا بلاواسطہ اقتدارمیں تھیں۔زرگر کے مطابق یہ سوال بحث طلب ہے۔کانفرنس میں دیگرشرکاء نے بھی متفقہ طور اس بات پر زور دیا کہ دفعہ35اے کا ہر صورت میں دفاع کیا جائے گا۔شرکاء کانفرنس نے اس اقدام کے خلاف ہرسطح پر صدائے احتجاج بلندکرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں عوامی بیداری مہم شروع کرنے کے ساتھ ساتھ دفعہ 35اے کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ میں فرقہ پرستوں کی طرف سے دائر کی گئی پٹیشن سے آئینی طور حل ہوچکے ایک مسئلہ کو پھر سے پیدا کئے جانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ دفعہ 370اوردفعہ35A آئین کی بنیادی دفعات سمجھوتے کی بنیاد ہیں اس لئے ان کو ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا۔شرکاء نے متفقہ طوراس ضمن میں ریاستی حکومت کے اپروچ کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ میں مفاد عامہ کی یہ عرضی دائر کرناصرف اور صرف کشمیر کا مسلم اکثریتی تناسب تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔کانفرنس میں کے سی ایس ڈی ایس چیئرپرسن حمیدہ نعیم کے علاوہ کئی صنعت کاروں ،تاجروں، ڈاکٹروں،کالم نویسوں اورصحافیوں نے شرکت کی۔ خیال رہے کہ بھارتی آئین کی دفعہ 35 اے کے تحت بھارتی شہریوں کو کشمیر میں زمینیں خریدنے، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے، ووٹ ڈالنے اور دوسری سرکاری مراعات کا قانونی حق نہیں ہے۔یہ دراصل دفعہ 370 کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے جسے 68 برس قبل بھارتی آئین میں شامل کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومت کو ہدات جاری کی ہے کہ وہ نومبر کے پہلے ہفتے سے قبل آئین کی دفعہ 35اے کے خلاف دائر عرضداشت کے خلاف اپنے عذرات داخل کرے لیکن وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید ابھی تک اپنی شریک اقتدار بی جے پی کو دفعہ35اے کے دفاع پر آمادہ نہیں کرسکی ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: