فرقہ پرستی کے خلاف ادیبوں کا احتجاج،کشمیر میں غلام نبی خیال کی پہل

Khayalکشمیر کے مشہور شاعر، ادیب اور صحافی غلام نبی خیال نے احتجاج کے طور پر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ حکومت ہند کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے پیر کوباضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ’’میں نے ایوارڈ واپس لوٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ ملک کی اقلیتیں خود کو غیر محفوظ اور خطرے میں محسوس کررہی ہیں‘‘۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے مختلف علاقوں میں حال ہی میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی طبقوں کے خلاف پیش آئے واقعات پر بھارت کے سرکردہ ادباء ، شعراء اور مصنفین نے مرکز اورساہتیہ اکادمی کی خاموشی پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان میں گجرات اور کرناٹک سمیت کئی ریاستوں کے قلم کار اور دباء شامل ہیں اور اب اس فہرست میں سرکردہ کشمیری شاعر، ادیب اور مصنف غلام نبی خیال کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔یاد رہے کہ کئی شعرے مجموعے اور کتابیں تحریر کرنے والے غلام نبی خیال کو1975میں ان کی ایک کتاب’’گاشِک مینار‘‘ کیلئے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ اس ایوارڈ کی واپسی کا تعلق موجودہ مرکزی سرکار برسراقتدار آنے کے بعد ہندوستان میں فرقہ واریت ،نفرت اور ذات پات کی سیاست کو فروغ دینے کے خلاف واپس کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جو انہیں آئین کے تحت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرجاگھروں کو نذر آتش کیا جارہا ہے،مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے اور مذہبی معاملات پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔انہوں نے دادری واقع پر وزیر اعظم ہند نریندر مودی کے ردعمل میں تاخیر پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم کو ہدف تنقید بنایا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ غلام نبی خیال کشمیر کے پہلے ادیب ہیں جنہوں نے یہ اقدام کیاہے۔ اس وقت تک 40سے زیادہ کشمیری شاعروں اور ادیبوں کو یہ ایوارڈ ملا ہے۔خیال نے اُن میں سے بقید حیات ادیبوں سے اپیل کی کہ وہ بھی اپنے ایوارڈ واپس کریں۔انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ایوارڈ واپس کرنے والوں میں ہندو ادیبوں نے پہل کی ۔خیال نے ہندو ادیبوں کے اس طرح کے اقدام کیلئے انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں‘۔تازہ اطلاع کے مطابق ہندوستان میں اب تک 19ادیبوں نے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کئے ہیں۔بھارت کی مختلف ریاستوں کے معروف ادباء اور شعراء نے گذشتہ چند روز کے دوران ساہتیہ اکیڈمی کو اپنے ایوارڈ واپس کئے ہیں جن میں ادے پرکاش، نین تارا سہگل ،سارہ جوزف ، اشوک واجپائی اور گنیش دیوی قابل ذکر ہیں۔یاد رہے کہ نوے کے پُر آشوب حالات میں کشمیر میں حقوق البشر کی توہین کے خلاف معروف ادیب اورتاریخی تجزیہ نگار اختر محی الدین نے اپنا سرکاری ایوارڈ(پدم شری) واپس کردیا تھا جو انہیں 1968میں ادب اور تعلیم کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے کیلئے دیا گیا تھا۔ہندوستان کے معروف ناول نگار خشونت سنگھ نے ’اوپریشن بلیو سٹار‘ کی مذمت میں اندرا گاندھی کو اپنا پدم شری ایوارڈ واپس کیا تھا جبکہ بوکر(Booker) انعام یافتہ اروندھتی رائے نے کشمیر اور جنوب مشرقی ریاستوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر اپنی ناراضگی جتلانے کیلئے قومی ایوارڈ لینے سے ہی انکار کیا ۔اس دوران ساہتیہ اکیڈمی کے صدر وشوناتھ پرساد تواری نے پیر کو اس صورتحال پر کہا ہے کہ حالیہ واقعات سے انہیں کافی دکھ پہنچا ہے ۔انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس پورے معاملے کو اکیڈمی کی ایگزیکٹیو بورڈ میٹنگ میں زیر بحث لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ساہتیہ اکیڈمی کا موقف اظہار رائے کی مکمل آزادی کے حوالے سے واضح ہے اور حالیہ واقعات کی اکیڈمی مذمت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی سیکولر اصولوں اور آئین ہند کے تحت ہر ایک کیلئے زندگی جینے کے بنیادی حق کے سنہرے اصولوں کے حوالے سے پُرعزم ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: