’این ایچ پی سی بجلی پروجیکٹوں پر غیر قانونی طور قابض‘

KCCI & JCCIنیشنل ہائڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) پر جموں وکشمیر کے پن بجلی پروجیکٹوں پر غیر قانونی طور قابض ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے جموں اور کشمیرکے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈ سٹریز نے یک زبان ہوکر ان پروجیکٹوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کے پاس ان پروجیکٹوں کی واپسی سے انکار کا کوئی جواز نہیں ۔دونوں چیمبروں نے جموں وکشمیر کو آزاد اقتصادی خطے کے بطور ترقی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ فرقہ پرستی کو تجارتی روابط میں حائل ہونے نہیں دیا جائے گا۔

جموں اور کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سربراہان نے سرینگر میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس میں ” این ایچ پی سی “ سے پاور پروجیکٹوں کی واپسی کے حوالے سے یک زبان ہوکر آواز بلند کی ۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے چئیرمین مشتاق احمد وانی نے بتایا کہ سنہ 2000سے چیمبر پاور پروجیکٹوں کی واپسی کے حوالے سے مطالبہ کرتا آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب چیمبر کے چئیرمین کے عہدے پر ڈاکٹر مبین احمد شاہ فائز تھے ، نے وزیر اعظم ہند ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ کئی میٹنگیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ چمبر کے چئیرمین نے وزیر اعظم ہند ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ پاور پروجیکٹوں کی واپسی کے حوالے سے کئی میٹنگیں کیں ۔ انہوں نے کہا کہ رنگا راجن کمیٹی نے بھی پاور پروجیکٹوں کی واپسی کے حوالے سے سفارشات پیش کی ہیں ۔ اُن کا کہنا تھا کہ سنہ 2010میں مرکزی حکومت کی جانب سے جموں وکشمیر میں ”فیکٹ فائنڈنگ “کے حوالے سے 3رکنی رابطہ کاروں کے ٹیم سے بھی یہ معاملہ اٹھایا ۔ مشتاق احمد وانی کا کہنا تھا کہ مرکزی رابطہ کاروں کے ساتھ چمبر نے پاور پروجیکٹوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں کشمیر کو واپس کرنے کے حوالے سے اپنی مانگ اُن کے سامنے رکھی ۔ اُن کا کہنا تھا کہ مرکزی رابطہ کاروں نے بھی اپنی سفارشات میں مرکزی حکومت پر یہ واضح کیا ہے کہ وہ ریاستی حکومت کو 12.5حصص داری شرح میں اضافہ کر کے اسے 50فیصد کیا جائے ۔ تاہم بدقسمتی سے مرکزی حکومت نے تمام سفارشات کو ردی کی ٹوکری کی نظر کیا اور ان سفارشات پر آج تک عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔ پریس کانفرنس میں موجود جموں چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر راکیش گپتا نے بتایا کہ چمبر یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اگر پاور پروجیکٹوں کا ایگریمنٹ ختم ہوچکا ہے تو پھر این ایچ پی سی ان پر کیونکر قبضہ جمائے ہوئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان پاور پروجیکٹوں پر این ایچ پی سی کی جانب سے چارج سنبھالنا قانونی طور بلا جواز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جو پاور پروجیکٹ این ایچ پی سی کے زیر اہتمام ہیں انہیں عارضی بنیادوں پر ایگریمنٹ کے تحت این ایچ پی سی نے حاصل کیا تھا لیکن اب یہ ایگریمنٹ ختم ہوچکا ہے لہذا ان پاور پروجیکٹوں کو ریاست کو واپس کردینا چاہئے ۔ راکیش گپتا کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن ان پاور پروجیکٹوں کو چلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ۔ راکیش گپتا نے مطالبہ کیا کہ جموں وکشمیر کو آزاد اقتصادی خطے کے بطور ترقی دی جانی چاہیے ۔ دونوں چیمبرس نے کمرشل ٹیکسز ڈیپاٹمنٹ کو بھی خبردار کیا کہ وہ تاجروں کو ہراساں کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر مذکورہ ڈیپارٹمنٹ نے تاجر طبقے کو ہراساں کرنے کے عمل کو ترک نہیں کیا تو وہ مالی بے انضباطی کال دینے پر مجبور ہوجائیں گے اور اس کے جو بھی نتائج نکلیں گے اُس کی ساری ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔ انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ سے اپیل کی کہ وہ ”پری ویٹ “ کی مدت میں رعائت کا اعلان کریں۔ دونوں چیمبرس نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں وکشمیر کو آزاد اقتصادی خطہ قرار دینے کے حوالے سے موثر اور ٹھوس اقدامات کریں تاکہ کشمیر کے تاجر ملک کے ساتھ ساتھ سینٹرل ایشیاء، چین، روس اور ایران کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی تجارت کے روابط بڑا سکے ۔ایک سوال کے جواب میں راکیش گپتا نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اگر کشمیر کو آزاد اقتصادی خطہ قرار دیا جائے اور نئے آپشنوں کوتلاش کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت اپنے آپ کو قابل عمل سمجھتی ہے تو مزید تاخیر کئے بغیر پوری ریاست کو آزاد اقتصادی خطہ قرار دیا جانا چایئے ۔ اس موقعہ پر مشتاق احمد وانی نے مزید بتایا کہ 1947سے ریاست معاشی طور کافی متاثر ہوئی ہے لہذا آزاد تجارت کو یقینی بنانے کے حوالے سے قدم اٹھائے جانے چاہئیں ۔ دونوں چیمبروں نے یہ بھی واضح کیا کہ فرقہ پرستی کو تجارتی روابط میں حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: