فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد میں ایک اور کشمیری ادیب شامل

Margoob Banihaliہندو انتہاپسندوں کی جانب سے بڑھتے تشدد اورمرکزی سرکارکی پالیسیوں سے نالاں ادیبوں اور شاعروں کی جانب سے سرکاری ایوارڈ واپس کرنے کا سلسلہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔ اب تک 35 سے زائد، شاعر، ادیب اور دانشوراپنے ایوارڈ حکومت کی جانب سے تشدد کے خلاف مؤثر اقدام نہ کرنے پر بطور احتجاج واپس کرنے کااعلان کرچکے ہیں۔ کشمیر سے اس سلسلہ میں ایک اور اضافہ مشہور شاعر، ادیب اورقلمکار پروفیسر مرغوب بانہالی کا ہوا ہے جنہوں نے پیر کے دن اپنا وہ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ بطور احتجاج حکومت ہند کو واپس کرنے کا اعلان کیا جو انہیں1979میں کشمیری شعری مجموعہ ’پرتوستان‘ پر دیا گیا تھا۔معلوم رہے کہ اس سے چند روز قبل معروف صحافی اور قلمکار غلام نبی خیال نے اپنا ساہتیہ انعام واپس کردیا ہے۔یہ اعلان کرتے ہوئے پروفیسر مرغوب نے کہا’’ایک مدت سے درد برداشت کررہا تھا اور آج ایوارڈ واپس کرکے میرے ضمیر کو سکون نصیب ہوا‘‘۔انہوں نے کہا’’ہندوستان کی اقلیتوں پر آئے دن مظالم کا سلسلہ جاری ہے ، جو اب راہ چلتے کشمیری مسلمانوں اور19سالہ زاہد رسول کے بیدردانہ قتل تک پہنچ چکا ہے‘‘۔پروفیسر مرغوب کے مطابق زاہد کو آج ہزاروں کشمیریوں نے پُرنم آنکھوں سے سپرد خاک کیا اور لگ رہا تھا کہ انسان ہی نہیں بلکہ پیڑ پودے بھی رورہے ہیں۔واضح رہے کہ زاہد رسول 9اکتوبرکو ادھم پور میں ہندو بلوائیوں کی جانب سے ایک پٹرول بم حملے میں شدید طور جھلس گئے تھے اوردلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں نو روزکے بعد جاں بحق ہوگئے۔پروفیسر مرغوب نے کہا کہ فرقہ پرست قوتوں نے ماحول میں نفرت پھیلا دی ہے بلکہ بھارت میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوارڈ واپس کرنا ناراضگی کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہندوستان اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ۔یاد رہے کہ وفیسر مرغوب بانہالی5مارچ 1937بانہال کے ایک علاقے بنکوٹ میں پیدا ہوئے ۔موصوف نے فارسی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور 1969 میں کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ فارسی میں بحیثیت لیکچررتعینات ہوئے۔انہوں نے 20سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں پرتوستان،مرغوب تھیوری،اخلاقیات مرغوب،تجلستان اور کشمیر بالہ اپار شامل ہیں ۔شعری مجموعہ ’پرتوستان ‘کیلئے موصوف کو 1979میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ کلچرل اکیڈمی نے بھی موصوف کو کئی اعزازات سے نوازا ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے مختلف علاقوں میں حال ہی میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی طبقوں کے خلاف پیش آئے واقعات پر بھارت کے سرکردہ ادباء، شعراء اور مصنفین نے مرکز اورساہتیہ اکادمی کی خاموشی پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایوارڈز واپس کرنے والے معروف ادیبوں کاکہنا ہے کہ مودی سرکارعوام اور ادیبوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے جبکہ اس حوالے سے ساہتیہ اکیڈمی کی خاموشی بھی تشویش ناک ہے۔ ایوارڈ واپس کرنے والے بھارتی شاعر منگلیش دبرال کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی غیرملکی دوروں میں بڑی بڑی باتیں کرتے نظرآتے ہیں لیکن اپنے ملک میں وہ ان باتوں اوردعوؤں کو عملی شکل دینے میں ناکام نظر آتے ہیں۔بھارت کے ہی ایک اور مصنف اودے پرکاش کا کہنا ہے’’ میں نے اپنی زندگی میں کبھی اس طرح کی جارحیت نہیں دیکھی‘‘۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہرلال نہروکی بھانجی نین تارا سہگل بھی اپنا ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کرچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکارکی خاموشی ہندوانتہا پسندوں کی پرتشدد کارروائیوں کو مزیدبڑھاوا دے رہی ہے۔ایوارڈز واپس کرنے والے معروف ادیبوں کا کہنا ہے کہ مودی سرکارعوام اور قلم کاروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے اور اس حوالے سے انہیں ساہتیہ اکیڈمی کی خاموشی پر بھی تشویش ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: