انجینئرنگ طالب علم شل لگنے سے جاں بحق

Gowherبھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دورۂ جموں و کشمیر کے دوران جب سنیچر کونوجوانوں کی فلاح و بہبود کی باتیں کیں تو سرینگر کے مضافاتی علاقہ زینہ کوٹ میں ایک انجینئرنگ طالب علم کے سر پر سی آر پی ایف اہلکاروں نے براہ راست آنسو گیس کا ایک گولہ داغ کر جاں بحق کیا۔ضلع انتظامیہ نے واقعہ کی مجسٹریٹ کے ذریعے تحقیقات کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرسرینگر ایم اے بابا انکوائری آفیسر مقرر کئے گئے ہیں۔22سالہ گوہر نذیر ڈار ولد نذیر احمد ساکن مصطفی آباد ایچ ایم ٹی اْس وقت جاں بحق ہوا جب 44بٹالین سی آر پی ایف کے اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان اس علاقے میں جھڑپیں ہورہی تھیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ نوجوانوں کا ایک گروپ سڑک پر کھیل رہا تھا جس دوران وہاں سے ریلی میں شامل گاڑیوں میں لوگ شمالی کشمیر کی طرف جارہے تھے۔نوجوانوں نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جن کی حفاظت پر مامورسی آر پی ایف اہلکار بھی اپنی گاڑیوں میں جارہے تھے۔جونہی سی آر پی ایف کی گاڑیاں پتھراؤ کی زد میں آئیں تو علاقے میں موجود پہلے سے حفاظتی بندوبست کیلئے فورسز اہلکار وہاں پہنچ گئے اور اس طرح جھڑپیں شروع ہوئیں جس میں 2نوجوان زخمی ہوئے۔سی آر پی ایف اہلکاروں نے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جن میں سے ایک شل گوہر احمد کے سر پر جالگا جس کے نتیجے میں وہ خون میں لت پت ہوکر گرپڑا۔اْسے فوری طور پر جے وی سی ہسپتال بمنہ لایا گیا جہاں سے اْسے صورہ میڈیکل انسٹچوٹ منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے بیجا طاقت کا استعمال کیا حالانکہ علاقے میں اْس وقت شدید جھڑپیں نہیں ہورہی تھیں۔گوہر احمد کے ایک قریبی دوست عاقب نبی نے بتایا کہ وہ ایس ایس ایم کالج پٹن میں انجینئرنگ کررہا تھا اور دوسرے سمسٹر میں تھا۔ گوہر اپنے والد کا دوسرا بیٹا ہے جو ایچ ایم ٹی میں ایک آٹوموبائل ورکشاپ چلارہا ہے۔ایس ایس پی سرینگر امیت کمار نے کہا کہ سی آر پی ایف کی ایک پارٹی علاقے سے ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد واپس جارہی تھی تو اْن پر پتھراؤ کیا گیا۔اْن کا کہنا تھا کہ فورسز اہلکاروں نے آنسو گیس کے گولے داغے جن میں سے ایک شل ایک نوجوان کے سر میں جالگا جو بعد میں چل بسا۔سی آر پی ایف ترجمان بھویش چودھری نے تاہم کہا کہ مظاہرین کے خلاف پولیس اور سی آر پی ایف نے مشترکہ کارروائی کی۔ترجمان نے کہا ’’شام کے وقت ہم پر شدید پتھراؤ کیا گیا جس کے جواب میں ہم نے گولیاں نہیں چلائیں بلکہ گولے داغے اور پولیس ہمارے ساتھ تھی‘‘۔ادھر گوہر کی ہلاکت کی اطلاع جونہی ایچ ایم ٹی اور اس کے گردونواح میں پھیل گئی تو سینکڑوں لوگ گھروں سے نکل آئے اور انہوں نے پولیس کی متعدد گاڑیوں کو نشانہ بناکر اْن پر پتھراؤ کیا۔لوگ آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے تھے۔اس کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر جھڑپیں ہوئیں جس میں 8پولیس اہلکار وں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: