مودی دورہ:سرینگر میں غیر اعلانیہ کرفیو،وادی میں مکمل ہڑتال

ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کی آمد پرکشمیر میں زمین سے فضاء تک سیکورٹی کے غیر معمولی اور انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے جبکہ ’ملین مارچ‘ کے پیش نظر لالچوک سمیت سرینگر شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔اس دوران وادی بھر میں ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی تھم کر رہ گئی۔ سکیورٹی پابندیوں کے باعث ریل سروس اور انٹرنیٹ سہولیات معطل رہیں جبکہ یونیورسٹی سطح کے امتحانات اور نوکریوں کیلئے مجوزہ انٹرویو بھی ملتوی کر دئے گئے تھے۔اس دوران جلسے میں شرکت کیلئے آرہے پی ڈی پی،بی جے پی اور پیپلز کانفرنس کارکنوں کی گاڑیوں کو کئی مقامات پرپتھراؤ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا اورکئی کارکن زخمی ہوگئے۔اس موقع پر پولیس نے پتھراؤ کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور ہوا ئی فائرنگ کی۔ معلوم رہے کہ مودی کی وادی آمد سے قبل ہی بیشتر مزاحمتی لیڈران کوخانہ یا تھانہ نظر بند کر دیا گیا تھا اور ان کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔سنیچر کو لالچوک سمیت سرینگر شہر میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بھاری پیمانے پر تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور لوگوں کی نقل و حرکت پر قدغن عائد کرنے کیلئے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ پائین شہرمیں کسی بھی شخص کو سڑکوں کی طرف آنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔اس مقصد کیلئے سڑکوں پر جگہ جگہ خار دار تارلگائی گئی تھی اور فورسز کی بکتر بند گاڑیاں موجود تھیں جس کے نتیجے میں ایک وسیع آبادی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی۔ لوگوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں صبح سے ہی اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم جہاں مودی نے جلسے سے خطاب کیا، کو پولیس ، نیم فوجی دستوں اور وزیر اعظم کی حفاظت پر مامور ایس پی جی نے مکمل طور اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔اس دوران دن بھر شہر کی فضائی نگرانی کا عمل بھی جاری رہا۔جسکے لئے فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں کا استعمال عمل میں لایا گیا۔جلسہ گاہ کی طرف صرف خصوصی شناختی پاس رکھنے والے اہلکاروں، صحافیوں اور ر یلی میں شرکت کرنے والے لوگوں کو جانے کی اجازت دی جارہی تھی۔مجموعی طور پر شہر اور اس کے مضافات میں لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔اس دوران سنیچر کو پوری وادی میں صبح 10بجے سے دن کے 2بجے تک موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل رکھی گئیں تاہم بی ایس این ایل کی براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس چالو رہی۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی طرف سے پہلے ہی مواصلاتی کمپنیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ سنیچر کی صبح 10بجے بی ایس این ایل، ائرٹیل، ائر سیل، ووڈافون اور ریلائنس کی موبائیل انٹرنیٹ سروس معطل کردی جائے۔دورۂ مودی کے موقعے پر ایک اور حفاظتی اقدام کے بطور بارہمولہ اور بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس سنیچر بدستور دوسرے روز بھی معطل رہی۔ شمالی کشمیر سے سرینگر کی طرف آرہی پی ڈی پی ورکروں کی گاڑیوں پر نارہ بل کے نزدیک شدید پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی گاڑیوں کے شیشے چکناچور ہوگئے۔پولیس اور فورسز نے اگر چہ مظاہرین کوبھگانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے پتھراؤ کا سلسلہ جاری رکھا جس کے نتیجے میں نارہ بل سے میر گنڈ تک پی ڈی پی کارکنوں سے بھری متعدد گاڑیاں کئی گھنٹوں تک درماندہ رہیں اور یہ کارکنان وزیر اعظم کی ریلی میں نہیں پہنچ سکے۔ اجس بانڈی پورہ میں بھی پی ڈی پی ورکروں کی گاڑیوں پر زبردست پتھراؤ کے نتیجے میں کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور نصف درجن کارکن زخمی ہوگئے۔ادھر پٹن کے پلہالن علاقے میں اگر چہ پتھراؤ کے معمولی واقعات صبح سے ہی پیش آئے تاہم امن و قانون کو برقرار رکھنے کیلئے فورسز کی بھاری تعیناتی کے باوجود مشتعل مظاہرین نے وزیر اعظم کی ریلی میں شرکت کیلئے آرہے کارکنوں کی گاڑیوں پر کئی اطراف سے شدید پتھراؤ کیا۔پولیس نے لاٹھی چارج اور ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ چلانے کے بعد مظاہرین کو اندرون سڑکوں کی طرف دھکیل کر سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کو یقینی بنایا۔ کپوارہ سے اطلاعات ہیں کہ نریندر مودی کے جلسے میں شرکت کیلئے شمالی کشمیر کی 42 گا ڑیو ں پر مختلف مقامات پر مشتعل نو جو انو ں نے پتھراؤ کر کے گا ڑیو ں کے شیشے چکنا چور کئے جبکہ ان میں سوار کئی افرادزخمی ہوئے۔ تقریباً 42گاڑیوں پر مشتعل نو جو انو ں نے دھاوا بول دیا اور ان کے شیشے تو ڑ دیئے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: