کشمیر متنازعہ تسلیم کئے بغیر مذاکرات فضول مشق:گیلانی

کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم کئے بغیرنئی دلی کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل میں شریک ہونے سے انکار کرتے ہوئے حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ جب تک ہندوستان اور پاکستان مسئلہ کشمیر کوتاریخی حقائق کی روشنی میں حل کرنے کیلئے اقدامات نہیں کریں گے، تب تک ان مذاکرات کا کوئی مطلب نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہمیشہ کشمیرکے معاملے پر ممکنہ پیش رفت میں رکاوٹ ثابت ہوئی ہے۔گیلانی کے مطابق اس کے برعکس پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے اْن سے وعدہ کیا تھا کہ اگر بھارت کشمیریوں کا حق خود ارادیت تسلیم کرتا ہے تو وہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے اپنی فوج واپس بلائیں گے۔گیلانی سینئر حریت لیڈر اور مسلم لیگ چیئرمین مسرت عالم بٹ پر تازہ سیفٹی ایکٹ کے نفاذ کے خلاف بدھ کواپنی حیدرپورہ رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے مسرت عالم پر 31ویں مرتبہ سیفٹی ایکٹ کے اطلاق کو ریاستی دہشت گردی سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست اور بیرون ریاستی جیلوں میں494کشمیری مزاحمتی لیڈر ، کارکن اور نوجوان مقید ہیں ، جن میں سے 38عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ حریت(گ) چیئرمین نے ریاست اورغیر ریاستی جیلوں میں قید کشمیری نظر بندوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کو طبی اور قانونی امداد جیسی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔گیلانی نے الزام عائد کیا کہ حکام اور پولیس کی طرف سے کشمیری قیدیوں کی نظر بندی کو طول دینے کیلئے مختلف حربے آزمائے جارہے ہیں۔گیلانی نے کہا کہ مسلم لیگ سربراہ مسرت عالم پر1990سے اب تک31بار پبلک سیفٹی ایکٹ لاگوکیا گیا جو بقول ان کے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد مسرت عالم کی رہائی میں روڑے اٹکانا ہے، حالانکہ عدالتوں نے بھی کئی بار اْن پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ کالعدم قرار دیکر ان کی رہائی کے احکامات صادر کئے۔ گیلانی نے اس موقع پرریاست اور بیرون ریاست جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کے اعدادوشمار جاری کئے۔انہوں نے کہاکہ ریاست کی مختلف جیلوں میں مقید افراد کی تعداد371 افراد شامل ہیں جبکہ38افراد عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ گیلانی نے جیلوں میں نظر بندوں کی تعداد کے بارے میں جو اعدادوشمار ذرائع ابلاغ کے سامنے رکھے، ان کے مطابق سینٹرل جیل سرینگر میں سب سے زیادہ یعنی130افراد پابند سلاسل ہیں۔ اس کے علاوہ کورٹ بلوال جیل جموں میں60، ڈسٹرکٹ جیل امپھالا جموں میں15، ڈسٹرکٹ جیل کٹھوعہ میں 18، ہیرا نگر میں5، ادھم پور میں 18، ڈسٹرکٹ جیل کشتواڑ میں 41، ریاسی میں15، پونچھ میں15، ڈسٹرکٹ جیل ڈانگری(راجوری) میں 3، ڈسٹرکٹ جیل بارہمولہ میں15، کپوارہ میں8، مٹن اننت ناگ کی جیل میں8، جے آئی سی ہمہامہ میں5اور پولیس اسٹیشن(ایس ٹی ایف) ہمہامہ میں15افراد نظر بند ہیں۔ سید علی گیلانی نے بیرون ریاست جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کے بارے میں بتایا کہ دلی کی تہاڑ جیل میں سب سے زیادہ یعنی64افراد نظر بند ہیں جبکہ جے پور جیل راجستھان میں 11، جودھپور میں3، احمد آباد جیل میں3، سنگرور(پنجاب) کی جیل میں17، آگرہ میں3، آباد جیل میں2،بنگلور میں2اورغازی آباد جیل میں13کشمیری ایام اسیری کاٹ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مخلوط سرکار کے دور میں اب تک72مزاحتمی لیڈران اور کارکنوں پر پی ایس اے لاگو کیا گیا۔سید علی گیلانی نے گرفتاریوں اور قیدیوں کے ساتھ کئے جارہے ناروا سلوک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کرتے ہوئے حقوق انسانی کے عالمی اداروں سے صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لینے کی اپیل کی۔موجودہ صورتحال میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے بزرگ مزاحمتی لیڈرنے کہا کہ یہ ایک فضول مشق ہے اور ماضی میں بھی اس طرح کی بات چیت کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا’’ماضی میں بات چیت کے قریب150ادوار منعقد ہوئے لیکن ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا کیونکہ بھارت کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے‘‘۔انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے میں ہی مضمر ہے۔سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کے کشمیر کے بارے میں چار نکاتی فارمولہ کے تناظر میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ جموں و کشمیرکو تقسیم کرنے کی اجازت قطعی نہیں دی جائے گی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: