خود مختاری کشمیر مسئلے کا واحد حل: ڈاکٹر فاروق

farooqکشمیرکے دونوں حصوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے کی بھرپور وکالت کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس صدر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کنٹرول لائن کو غیر متعلق ، آر پارمسافروں کی آواجاہی اور تجارت کو آسان تر بنانے پر زور دیاہے۔ڈاکٹر فاروق نے بھارت اور پاکستان کو مفاہمت کی راہ اپنانے کا مشورہ دیا اورامید ظاہر کی کہ وزیر خارجہ سشما سوراج کا پاکستان کا مجوزہ دورہ ہند پاک مذاکرات کی بحالی کیلئے مدد گار ثابت ہوگا۔اس دوران پارٹی کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے پی ڈی پی بھاجپا حکومت کو حدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ریاست میں عدم رواداری کے واقعات کیلئے موجودہ حکومت ہی ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے مفتی محمد سعید کو ریاست جموں و کشمیر میں نئی حکومت تشکیل دینے کے حوالے سے مکمل حمایت دینے کی پیشکش کی تھی تاہم اس کے باوجود مفتی محمد سعید نے بی جے پی کے ساتھ سرکار تشکیل دی۔شیخ محمد عبداللہ کی110ویں سالگرہ کے موقعہ پر مرحوم کے مزار واقع نسیم باغ حضرت بل پر منعقدہ تقریب سے خطاب اور بعد میں نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق نے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں کی جارہی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں کتنی ہی کانفرنسیں منعقد ہوئیں لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔انہوں نے کہا’’عمر عبداللہ پاکستان گئے، سابق صدر پرویز مشرف سے ملے اور نیشنل کانفرنس کا خود مختاری دستاویز پیش کیا‘‘۔ڈاکٹر عبداللہ نے کشمیرکے دونوں حصوں سے متعلق اپنے حالیہ بیان کو دہراتے ہوئے کہا ’’اْن(پاکستان) کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ یہ کشمیر حاصل کرسکیں اور نہ ہی بھارت اْس(پاکستانی زیر انتظام) کشمیر کو حاصل کرسکتا ہے ،دونوں کے پاس ایٹم بم ہے !کیا ہم ایک دوسرے پر بم گراکر ختم ہوجائیں‘‘۔ ڈاکٹر عبداللہ نے یہ بات دہرائی کہ اندرونی خود مختاری ہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اس سے بہتر حل سامنے آتا ہے تو نیشنل کانفرنس اس کو تسلیم کرنے میں دیر نہیں کرے گی۔انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ متعلقہ حکومتوں کو کشمیر کے دونوں حصوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دیکر لائن آف کنٹرول کو غیر معلق بنانا چاہئے اور ریاست کے دونوں حصوں کے درمیان مسافروں کی آزادانہ آواجاہی اور تجارت کو یقینی بنانا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف نے سید علی گیلانی کو دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ کشمیر میں رائے شماری نہیں ہوسکتی بلکہ اس کا کوئی دوسرا فیصلہ کرنا ہوگا جس کیلئے ان کا چار نکاتی فارمولہ ہی بہترین متبادل ہے۔انہوں نے کہا’’میں خورشید محمود قصوری(سابق پاکستانی وزیر خارجہ) سے ملا ، میں نے کہا کہ ایٹم بم ہمارے پاس بھی ہے، آپ کے پاس بھی، اب حل کیا ہے؟قصوری نے کہاکہ آپ وہ کشمیر رکھو، ہم یہ کشمیر رکھیں گے‘‘۔ ڈاکٹر عبداللہ نے مزید کہا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا، وہ بھارت، پاکستان اور کشمیریوں کیلئے عزت کا فیصلہ ہونا چاہئے۔انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا’’فاروق رہے نہ رہے ، خود مختاری ہوگی اور راستے کھلیں گے اور کچھ نہیں ہوگا‘‘۔انہوں نے کہا’’میں ہمیشہ سے ہی کہتا آیا ہوں کہ بندوق سے قبرستان آبادہونگے اور بہو بیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں رہے گی لیکن آج بھی ہمارے لیڈر چاہتے ہیں کہ غریب کشمیری مرے اور اس کا گھر جل جائے‘‘۔ڈاکٹر عبداللہ نے پیرس میں ہند پاک وزرائے اعظم کی حالیہ ملاقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو یہ معلوم نہیں کہ دونوں لیڈران کے درمیان کیا بات چیت ہوئی؟ لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ہند پاک دوستی ہی جموں کشمیر کے عوام کیلئے بہتر ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان کا دورہ کریں گی اور یہ دورہ ریاستی عوام کیلئے سود مند ثابت ہوگا اور ساتھ ہی اس کے نتیجے میں ہند پاک مذاکرات کی بحالی بھی ممکن ہو پائے گی تاکہ تمام مسائل پر امن بات چیت کے ذریعے حل کئے جاسکیں۔انہوں نے مخلوط سرکار کی شدید تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ وہ 2014کے سیلاب زدگان کو راحت پہنچانے اور ان کی بازآبادکاری کے سلسلے میں مکمل طور ناکام ہوچکی ہے۔اس ضمن میں ان کا کہنا تھا کہ سابق سرکار نے سیلاب متاثرین کیلئے44ہزار کروڑ روپے کے پیکیج کا مرکز سے مطالبہ کیا تھا لیکن اس کے بجائے صرف8ہزار کروڑ روپے کی امداد کے نام پر سیلاب متاثرین کے ساتھ مذاق کیاگیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سرکار کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں بقول ان کے ہر کوئی کشمیری مصیبت میں ہے۔ڈاکٹر عبداللہ نے کنٹرول لائن کے دونوں طرف مسافروں کی آواجاہی اور تجارت آسان سے آسان تر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاست میں عدم روا داری کے جو بھی واقعات رونما ہوئے اس کیلئے موجودہ حکومت ہی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں عدم روا داری کیلئے مفتی محمد سعید ہی ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والی بھاجپا سرکار کے ساتھ اتحاد کیا۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ مفتی محمد سعید نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا جبکہ نیشنل کانفرنس نے انہیں ریاست جموں و کشمیر میں نئی سرکار تشکیل دینے کے حوالے سے مکمل تعاون کی پیشکش کی تھی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: